ملائیشیا میں خطرناک اور لاپرواہ ڈرائیونگ کے واقعات میں نمایاں اضافے کے بعد ماہرین نے اس رجحان کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں۔ ان کے مطابق بڑھتی...
ملائیشیا میں خطرناک اور لاپرواہ ڈرائیونگ کے واقعات میں نمایاں اضافے کے بعد ماہرین نے اس رجحان کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی معاشی سرگرمیاں، سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ، ٹریفک کا دباؤ اور ڈرائیوروں کی بے صبری ایسے اہم عوامل ہیں جو خطرناک ڈرائیونگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کا سبب بن رہے ہیں۔
یونیورسٹی پوترا ملائیشیا (یو پی ایم) کے روڈ سیفٹی ریسرچ سینٹر کے سربراہ ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر لا ٹیک ہوا نے کہا کہ لاپرواہ ڈرائیونگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کی کوئی ایک وجہ نہیں بلکہ یہ مختلف سماجی، ٹریفک اور رویوں سے متعلق عوامل کا مجموعہ ہے۔ ان کے مطابق پولیس کی جانب سے رپورٹ کیے گئے کیسز میں تقریباً 50 فیصد اضافے کی ایک بڑی وجہ معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے باعث سڑکوں پر گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی ہو سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹریفک جام اور تاخیر برداشت نہ کرنے کا رجحان بھی ڈرائیوروں کو خطرناک انداز میں گاڑی چلانے پر آمادہ کرتا ہے۔ اس دوران تیز رفتاری، آگے چلنے والی گاڑی کے بہت قریب چلانا، غیر محفوظ انداز میں اوور ٹیک کرنا، اچانک لین تبدیل کرنا اور ریڈ سگنل کی خلاف ورزی جیسے رویے زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں۔
ڈاکٹر لا کے مطابق موبائل فون کا استعمال کرتے ہوئے گاڑی چلانا بھی ایک اہم مسئلہ ہے، جبکہ جدید نگرانی کے نظام اور بہتر ریکارڈنگ کی وجہ سے بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ریاست جوہر میں سب سے زیادہ 354 خطرناک ڈرائیونگ کے کیسز ریکارڈ کیے گئے۔ اس کے بعد کوالالمپور میں 230 اور سیلانگور میں 200 کیسز سامنے آئے۔ ماہرین کے مطابق ان علاقوں میں گاڑیوں کی تعداد زیادہ ہونے، روزانہ کی بھاری ٹریفک اور پیچیدہ سفری راستوں کی وجہ سے ڈرائیوروں پر ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے، جس سے خطرناک ڈرائیونگ کے امکانات بھی بڑھتے ہیں۔
ڈاکٹر لا نے مزید کہا کہ جوہر میں سنگاپور سے آنے اور جانے والی ٹریفک بھی سڑکوں پر اضافی دباؤ پیدا کرتی ہے، جبکہ وادی کلانگ میں روزانہ لاکھوں افراد مختلف علاقوں کے درمیان سفر کرتے ہیں، جس سے ٹریفک کی پیچیدگی اور بے صبری میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس کم آبادی والی ریاستوں میں ایسے واقعات نسبتاً کم رپورٹ ہوتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف سخت سزائیں اس مسئلے کا مکمل حل نہیں ہیں۔ ان کے مطابق مستقل، مؤثر اور نمایاں قانون نافذ کرنے کی کارروائیاں زیادہ اہم ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ خودکار کیمروں، جدید ذہین نگرانی کے نظام اور زیادہ خطرناک مقامات پر خصوصی آپریشنز کے ذریعے قوانین پر عمل درآمد کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
ماہرین نے ڈرائیوروں کی تربیت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق دفاعی ڈرائیونگ، خطرات کی بروقت نشاندہی اور غصے یا جذبات پر قابو پانے سے متعلق آگاہی مہمات مستقل بنیادوں پر جاری رہنی چاہئیں تاکہ سڑکوں پر محفوظ ڈرائیونگ کو فروغ دیا جا سکے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ڈیش کیم ویڈیوز کے حوالے سے ڈاکٹر لا نے کہا کہ اگرچہ یہ ویڈیوز تحقیقات میں مدد فراہم کر سکتی ہیں، لیکن انہیں حتمی ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ مختلف زاویوں، ایڈیٹنگ یا نامکمل منظر کی وجہ سے اصل صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں ہوتی۔
ادھر روڈ سیفٹی کونسل آف ملائیشیا کے ایگزیکٹو کونسل رکن داتوک سورت سنگھ نے کہا کہ خطرناک ڈرائیونگ کے مسلسل بڑھتے ہوئے واقعات کی ایک اہم وجہ کمزور قانون نافذ کرنے کا نظام بھی ہے۔ ان کے مطابق بعض افراد میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ٹریفک خلاف ورزیوں کے نتائج سے مختلف طریقوں سے بچا جا سکتا ہے، جس سے قوانین کی خلاف ورزی کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
انہوں نے "پرسیپشن آف بینگ کاٹ" یعنی پکڑے جانے کے احساس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملائیشیا میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں میں پکڑے جانے کا احساس تقریباً 30 فیصد ہے، جبکہ مؤثر روک تھام کے لیے یہ شرح کم از کم 90 فیصد ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے چوبیس گھنٹے نگرانی کا نظام قائم کرنا سڑکوں پر قانون کی پابندی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ دنوں میں ملائیشیا میں خطرناک ڈرائیونگ کے متعدد واقعات خبروں کی زینت بنے ہیں، جن میں تیز رفتاری، مخالف سمت میں گاڑی چلانا اور دیگر خطرناک حرکات شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سڑکوں کو محفوظ بنانے کے لیے صرف قانون سازی کافی نہیں بلکہ مؤثر نگرانی، عوامی آگاہی اور ذمہ دارانہ ڈرائیونگ رویوں کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔

COMMENTS