ملائیشیا کے سابق رکنِ پارلیمنٹ چارلس سینٹیاگو نے نائب وزیراعظم داتوک سری احمد زاہد حمیدی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر ملکی ورکرز کے انتظامی ن...
ملائیشیا کے سابق رکنِ پارلیمنٹ چارلس سینٹیاگو نے نائب وزیراعظم داتوک سری احمد زاہد حمیدی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر ملکی ورکرز کے انتظامی نظام میں مجوزہ اصلاحات اور نئے بھرتی نظام ٹراپ کے مستقبل کے بارے میں واضح مؤقف پیش کریں۔ یہ مطالبہ اس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جس کے تحت ون اسٹاپ سینٹر کو وزارتِ انسانی وسائل کے ماتحت کر دیا گیا ہے۔
چارلس سینٹیاگو نے کہا کہ وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ احمد زاہد حمیدی، جو کابینہ کی مہاجر ورکرز سے متعلق کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں، حکومت کے آئندہ لائحہ عمل پر وضاحت دیں۔ ان کے مطابق یہ بھی واضح کیا جانا چاہیے کہ آیا مجوزہ ٹراپ غیر ملکی ورکرز بھرتی نظام کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے یا اس پر مزید کام جاری رہے گا۔
انہوں نے حکومت کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا کہ غیر ملکی ورکرز کے انتظامی نظام کو ازسرنو منظم کیا جا رہا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسی اہم اصلاحات بند کمروں میں تیار نہیں ہونی چاہئیں۔ ان کے مطابق ایک ایسا نظام جو لاکھوں غیر ملکی کارکنوں پر اثر انداز ہوتا ہو، اس کی تشکیل میں تمام متعلقہ فریقوں کو شامل کرنا ضروری ہے۔
چارلس سینٹیاگو نے زور دیا کہ اصلاحاتی عمل میں آجر، ٹریڈ یونینز، مہاجر کارکنوں کی نمائندہ تنظیمیں، بھرتی کرنے والی ایجنسیاں، سول سوسائٹی کی تنظیمیں اور ورکرز بھیجنے والے ممالک کی حکومتیں سب شریک ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مضبوط اور مؤثر نظام اسی صورت میں تشکیل دیا جا سکتا ہے جب اس کی منصوبہ بندی مشترکہ مشاورت کے ذریعے کی جائے، نہ کہ محدود افراد کے فیصلوں پر۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئی اصلاحات میں ایمپلائر پیز پرنسپل کو بنیادی حیثیت دی جانی چاہیے۔ اس اصول کے مطابق غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی سے متعلق اخراجات آجر برداشت کرے تاکہ کارکن قرضوں کے بوجھ، غیر ضروری فیسوں یا استحصالی طریقوں کا شکار نہ ہوں۔ ان کے مطابق اس اقدام سے غیر ملکی کارکنوں کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے اور بھرتی کا عمل زیادہ منصفانہ بنایا جا سکتا ہے۔
چارلس سینٹیاگو نے حکومت پر زور دیا کہ غیر ملکی ورکرز کی بھرتی کے لیے واضح معیارات مقرر کیے جائیں، غیر اخلاقی یا استحصالی بھرتی ایجنسیوں کو بلیک لسٹ کیا جائے اور ایسا نظام بنایا جائے جو کم لاگت، شفاف، جوابدہ اور اجارہ داری سے پاک ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اصلاحات کا مقصد صرف انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ ایسا نظام تشکیل دینا ہونا چاہیے جس پر تمام فریق اعتماد کر سکیں۔
انہوں نے اپنی بات کی تائید میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا۔ اس رپورٹ کے مطابق ایک نجی کمپنی کئی برس تک باقاعدہ معاہدے کے بغیر خدمات فراہم کرتی رہی جبکہ غیر ملکی ورکرز کی فیس 100 رنگٹ سے بڑھ کر 215 رنگٹ کر دی گئی، جس کی واضح اور تسلی بخش وجہ سامنے نہیں آ سکی۔ ان کے مطابق ایسے معاملات مستقبل میں شفافیت اور احتساب کی ضرورت کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔
چارلس سینٹیاگو نے کہا کہ ملائیشیا میں غیر ملکی کارکن کئی دہائیوں سے ایسے نظام کے منتظر ہیں جو ان کے مفاد کا تحفظ کرے، نہ کہ چند اداروں یا افراد کے مالی فائدے کا ذریعہ بنے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال حکومت کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ وہ غیر ملکی ورکرز کے انتظامی نظام میں ایسی اصلاحات متعارف کرائے جو شفاف، منصفانہ اور مؤثر ہوں اور ماضی میں سامنے آنے والی اجارہ داری اور بے ضابطگیوں کا خاتمہ کریں۔

COMMENTS