پتراجایا: ملائیشیا کی حکومت نے سرحدی علاقوں میں واقع پٹرول پمپس پر سیکیورٹی سخت کرنے کے لیے پولیس اہلکاروں کی تعیناتی پر غور شروع کر دیا ہے۔...
پتراجایا: ملائیشیا کی حکومت نے سرحدی علاقوں میں واقع پٹرول پمپس پر سیکیورٹی سخت کرنے کے لیے پولیس اہلکاروں کی تعیناتی پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایندھن کی اسمگلنگ اور سبسڈی کے غلط استعمال کو روکنا ہے، جو حالیہ دنوں میں ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے۔
سرکاری ترجمان اور وزیرِ مواصلات فہمی فاضل نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ وزارتِ داخلی تجارت و لاگتِ زندگی نے سرحدی پٹرول اسٹیشنز پر ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں اور گرفتاریوں کے حوالے سے کابینہ کو آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات کے بعد سیکیورٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔
فہمی فاضل کے مطابق، “کابینہ مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے، جن میں خاص طور پر رائل ملائشیا پولیس (پی ڈی آر ایم) کی تعیناتی بھی شامل ہے، تاکہ سرحدی پٹرول اسٹیشنز پر نگرانی کو بہتر بنایا جا سکے۔”
مزید برآں، حکومت سبسڈی کے نظام کو بھی جدید بنانے پر غور کر رہی ہے۔ اس حوالے سے وزارتِ خزانہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مائی کاڈ اور مائی کاسیہ سسٹم کے ذریعے سبسڈی کی تقسیم کے مؤثر طریقہ کار کا جائزہ لے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ صرف مستحق شہری ہی رعایتی ایندھن سے فائدہ اٹھا سکیں۔
فہمی فاضل نے بتایا کہ کابینہ کی حتمی منظوری کے بعد اس نئے نظام کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف سبسڈی کے ضیاع کو روکا جا سکے گا بلکہ قومی خزانے پر بوجھ بھی کم ہوگا۔
ادھر ماہی گیری کے شعبے میں ڈیزل کی قیمتوں اور سبسڈی کے مسائل پر بھی حکومت نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کابینہ نے وزارتِ زراعت و خوراک اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس حوالے سے جامع رپورٹ تیار کریں۔ حکام کے مطابق، سبسڈی والے ڈیزل اور مارکیٹ قیمت میں فرق کی وجہ سے ماہی گیروں کی آمدن متاثر ہو رہی ہے، جس سے ساحلی اور گہرے سمندر میں ماہی گیری کی سرگرمیاں کم ہو رہی ہیں۔
اس سے قبل نائب وزیرِ اعظم فضیلہ یوسف نے کہا تھا کہ مختلف شعبوں میں لیکیجز روکنے کے لیے ذمہ دار اداروں کی نشاندہی کر دی گئی ہے۔ زمینی سرحدوں پر نگرانی کی ذمہ داری وزارتِ داخلی تجارت کو دی گئی ہے، جبکہ سرحدی سیکیورٹی کی نگرانی پولیس کے سپرد ہوگی۔ سمندری حدود میں یہ ذمہ داری میری ٹائم ایجنسی کو دی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق، اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس سے ایندھن کی غیر قانونی اسمگلنگ میں نمایاں کمی آ سکتی ہے اور حکومت کی سبسڈی پالیسی مزید شفاف بن سکتی ہے۔ تاہم، اس کے لیے مؤثر عمل درآمد اور جدید نگرانی کے نظام کی ضرورت ہوگی۔

COMMENTS