ملائیشیا کے شہر کولائی میں غیر ملکی ورکر پرمٹ فراڈ کیس میں ایک 27 سالہ شخص کو عدالت نے 6000 رنگٹ جرمانہ عائد کر دیا، جبکہ ادائیگی نہ کرنے کی...
ملائیشیا کے شہر کولائی میں غیر ملکی ورکر پرمٹ فراڈ کیس میں ایک 27 سالہ شخص کو عدالت نے 6000 رنگٹ جرمانہ عائد کر دیا، جبکہ ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں اسے آٹھ ماہ قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔
عدالتی کارروائی کے مطابق ملزم کیکی سیفٹی آوان محمد عینی نے ایک 39 سالہ شخص کو دھوکہ دے کر یقین دلایا کہ وہ اسے غیر ملکی کارکن کے پرمٹ کے حصول میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ اس جھوٹے دعوے کے نتیجے میں متاثرہ شخص نے 1500 رنگٹ ملزم کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دیے۔
یہ کیس دھوکہ دہی کے الزام میں پینل کوڈ کی دفعہ 417 اور ایکٹ 1951 کے تحت درج کیا گیا۔ مجسٹریٹ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر فوری سزا سناتے ہوئے جرمانہ عائد کیا۔
اسی عدالت میں ایک علیحدہ کیس میں 64 سالہ ای ہیلنگ ڈرائیور چائی تیم چوئے کو غیر قانونی قرضہ دینے کے جرم میں 5000 رنگٹ جرمانہ کیا گیا۔ ملزم نے ایک خاتون کو سپر مارکیٹ میں قرض کی پیشکش کی تھی، تاہم تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ وہ کسی بھی مجاز ادارے کے تحت رجسٹرڈ نہیں تھا۔
حکام کے مطابق، ملزم کے پاس سے ایک نوٹ بک بھی برآمد ہوئی جس میں قرضوں کے لین دین کا ریکارڈ درج تھا، جس سے اس کے غیر قانونی کاروبار کی تصدیق ہوئی۔
سرکاری وکیل کے مطابق، اس نوعیت کے جرائم نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنتے ہیں بلکہ غیر ملکی مزدوروں کے نظام کو بھی متاثر کرتے ہیں، جس کے باعث حکومت نے ایسے معاملات میں سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
ملائیشیا میں غیر ملکی ورکرز کے لیے پرمٹ سسٹم سخت قوانین کے تحت چلایا جاتا ہے، تاہم حالیہ عرصے میں جعلی ایجنٹس اور فراڈ کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حکام بارہا عوام کو خبردار کر چکے ہیں کہ وہ غیر مصدقہ افراد یا ایجنٹس کے ذریعے پرمٹ حاصل کرنے سے گریز کریں۔

COMMENTS