ملائیشیا کے شہر تواو میں آن لائن فراڈ اور ’لوو اسکیم‘ میں ملوث 28 غیر ملکیوں کو سزا مکمل ہونے کے بعد امیگریشن حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے تا...
ملائیشیا کے شہر تواو میں آن لائن فراڈ اور ’لوو اسکیم‘ میں ملوث 28 غیر ملکیوں کو سزا مکمل ہونے کے بعد امیگریشن حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ انہیں ان کے آبائی ممالک واپس بھیجا جا سکے۔
پولیس کے مطابق گرفتار افراد میں 27 چینی شہری اور ایک ویتنامی خاتون شامل ہیں جن کی عمریں 21 سے 59 سال کے درمیان ہیں۔ تمام ملزمان نے عدالت میں آن لائن دھوکہ دہی سے متعلق الزامات قبول کیے تھے، جس کے بعد مجسٹریٹ کورٹ نے ہر ملزم پر 5 ہزار رنگٹ جرمانہ عائد کیا۔
ضلع تواو کے پولیس چیف اسسٹنٹ کمشنر جسمین حسین نے بتایا کہ ملزمان کو 6 مئی کو ایک خصوصی آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ کارروائی باتو 10، جالان آپاس کے علاقے میں قائم چار لگژری بنگلوں پر کی گئی جہاں مبینہ طور پر فراڈ سنڈیکیٹ سرگرم تھا۔
پولیس کے مطابق یہ گروہ ڈیجیٹل کمیونیکیشن پلیٹ فارمز کے ذریعے جنوبی کوریا کے شہریوں کو نشانہ بنا رہا تھا۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزمان آن لائن سرمایہ کاری اور محبت کے نام پر دھوکہ دہی کی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
جسمین حسین نے کہا کہ تمام ملزمان کے خلاف تعزیرات قانون کی دفعہ 120 بی (2) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ عدالت میں فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد انہوں نے جرم قبول کر لیا جس پر عدالت نے جرمانے کی سزا سنائی۔ حکام کے مطابق اگر جرمانہ ادا نہ کیا جاتا تو ملزمان کو دو سے چار ماہ تک قید کی سزا بھی ہو سکتی تھی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تمام افراد نے جرمانہ ادا کر دیا تھا، جس کے بعد انہیں امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کر دیا گیا تاکہ ملک بدری کا عمل مکمل کیا جا سکے۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملائیشیا میں آن لائن فراڈ کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق غیر ملکی سنڈیکیٹس جدید مواصلاتی ایپس جیسے واٹس ایپ اور کاکاؤ ٹاک استعمال کر کے بیرون ملک افراد کو جعلی سرمایہ کاری اسکیموں میں پھنساتے ہیں۔
پولیس نے اس کارروائی کے دوران 33 موبائل فون، تین لیپ ٹاپ اور دو وائی فائی موڈیم بھی قبضے میں لیے تھے۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ یہی آلات مبینہ فراڈ آپریشن چلانے کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کارروائی میں کمرشل کرائم انویسٹی گیشن ڈویژن، اسٹرائیک ٹیم اور انٹرنل سیکیورٹی اینڈ پبلک آرڈر ڈپارٹمنٹ کی مشترکہ ٹیموں نے حصہ لیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ تواو میں اس نوعیت کے فراڈ نیٹ ورکس کے خلاف مزید آپریشن جاری رکھے جائیں گے۔
ماہرین کے مطابق آن لائن سرمایہ کاری اور محبت کے نام پر ہونے والے فراڈ کیسز گزشتہ چند برسوں میں جنوب مشرقی ایشیا میں تیزی سے بڑھے ہیں۔ ان اسکیموں میں اکثر متاثرین کو سوشل میڈیا، چیٹنگ ایپس یا جعلی سرمایہ کاری پلیٹ فارمز کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ہے۔
پولیس نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ غیر معروف آن لائن سرمایہ کاری منصوبوں، غیر مصدقہ رابطوں اور مشکوک سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے محتاط رہیں۔ حکام کے مطابق کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دینا ضروری ہے تاکہ مزید شہریوں کو مالی نقصان سے بچایا جا سکے۔

COMMENTS