پیتالنگ جایا: ملائیشیا کے دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں ایک غیر ملکی شخص کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی زخمی حالت اور ادویات کی فہرست دکھا کر...
پیتالنگ جایا: ملائیشیا کے دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں ایک غیر ملکی شخص کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی زخمی حالت اور ادویات کی فہرست دکھا کر لوگوں سے رقم لینے کا معاملہ سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر رہا ہے۔
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ایک سوشل میڈیا صارف سانی نے اپنی ٹک ٹاک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ ایک پاکستانی شہری نے اسپتال کے موٹرسائیکل پارکنگ ایریا میں اس سے مالی مدد مانگی۔ سانی کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ اپنے بیمار بچے کی عیادت کے لیے جلدی میں وارڈ جا رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی انہوں نے موٹرسائیکل پارک کی، تقریباً 50 سالہ ایک شخص ان کے قریب آیا۔ اس شخص نے سفید رنگ کی پرانی قمیص اور سیاہ پینٹ پہن رکھی تھی جبکہ اس کے بال بھی بکھرے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ اس نے ایک ہاتھ سے لکھی ہوئی پرچی سانی کو دی جس پر مختلف ادویات کے نام اور ان کی قیمتیں درج تھیں۔
سانی کے مطابق پرچی میں پیراسیٹامول سمیت چھ سے سات ادویات کے نام لکھے گئے تھے اور نیچے کل رقم 194.50 رنگٹ درج تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی سرکاری اسپتال دستاویز یا ڈاکٹر کا نسخہ نہیں تھا بلکہ عام ہاتھ سے لکھی گئی فہرست تھی۔
ان کے بقول، اس کے بعد مذکورہ شخص نے اپنی قمیص تھوڑی اوپر کر کے پیٹ کے نچلے حصے پر لگی بڑی پٹی دکھائی، جس کے ارد گرد زرد دوا کے نشانات بھی موجود تھے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ وہ ابھی زخم کی صفائی کروا کر آیا ہے اور ادویات خریدنے کے لیے رقم درکار ہے۔
سانی نے بتایا کہ انہوں نے ابتدائی طور پر 50 رنگٹ دینے کی کوشش کی، لیکن اس شخص نے رقم لینے سے انکار کرتے ہوئے بار بار پرچی پر لکھی مکمل رقم کی طرف اشارہ کیا۔ بعد میں جب سانی نے رقم واپس رکھ لی تو وہ شخص رونے اور منتیں کرنے لگا کہ 50 رنگٹ بھی قبول ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے دوبارہ رقم دینے سے انکار کیا تو چند لمحوں میں اس شخص کے چہرے کے تاثرات بدل گئے اور وہ بغیر کسی جذبات کے معمول کے انداز میں وہاں سے چلا گیا۔ اسی لمحے انہیں شک ہوا کہ شاید یہ ہمدردی حاصل کر کے رقم لینے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔
اس پوسٹ کے بعد کئی سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بھی اسی شخص کو مختلف مقامات پر دیکھا ہے۔ ایک صارف نے بتایا کہ یہی شخص تمان میگاہ کے ایک آئی کلینک کے باہر ملا تھا جہاں اس نے ادویات خریدنے کے لیے مدد مانگی تھی۔
ایک اور صارف کے مطابق مذکورہ شخص کو برک فیلڈز، بنگسر، چیراس اور کوالالمپور کے دیگر علاقوں میں بھی دیکھا گیا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ وہ اکثر ایک ہی طریقہ استعمال کرتے ہوئے لوگوں سے رقم طلب کرتا ہے۔
ملائیشیا میں اس طرح کے واقعات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں جہاں بعض افراد بیماری، زخم یا مالی مشکلات کا بہانہ بنا کر عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حکام کی جانب سے وقتاً فوقتاً عوام کو محتاط رہنے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع دینے کی ہدایت کی جاتی رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کو ضرورت مند افراد کی مدد ضرور کرنی چاہیے، تاہم مالی امداد دیتے وقت محتاط رہنا بھی ضروری ہے تاکہ دھوکہ دہی یا جعلی ہمدردی کے واقعات کی حوصلہ افزائی نہ ہو۔

COMMENTS