کوالالمپور: ملائیشیا کی وزارتِ انسانی وسائل نے کہا ہے کہ غیر ملکی مزدوروں کی ذہنی صحت، مزدور حقوق کے تحفظ اور مالی دباؤ سے متعلق مسائل کے حل...
کوالالمپور: ملائیشیا کی وزارتِ انسانی وسائل نے کہا ہے کہ غیر ملکی مزدوروں کی ذہنی صحت، مزدور حقوق کے تحفظ اور مالی دباؤ سے متعلق مسائل کے حل کے لیے مختلف اصلاحات کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔ وزارت کے مطابق ذہنی دباؤ اور مزدوروں کے استحصال کے درمیان براہِ راست تعلق موجود ہے، اسی لیے نئی پالیسیوں میں کام کے ماحول، رہائش، قانونی تحفظ اور شکایات کے نظام پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔
وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی ادارہ محنت بھی “کمزور صورتحال کے غلط استعمال” کو جبری مشقت کی ایک اہم علامت قرار دیتا ہے۔ حکام کے مطابق غیر ملکی کارکنوں میں ذہنی صحت کے مسائل کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ زیادہ تر کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔
وزارت نے وضاحت کی کہ بہت سے مزدور ذہنی دباؤ یا نفسیاتی مسائل کے باوجود شکایت درج نہیں کرواتے۔ اس کی بڑی وجوہات میں زبان کی رکاوٹ، بے دخلی کا خوف، ذہنی بیماری سے متعلق سماجی بدنامی اور آگاہی کی کمی شامل ہیں۔ اسی وجہ سے سرکاری ریکارڈ میں ایسے کیسز محدود دکھائی دیتے ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انسانی حقوق کے کارکن مسلسل اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ غیر ملکی مزدور خراب رہائشی حالات، طویل اوقاتِ کار، بھرتی کے قرضوں، پاسپورٹ ضبط ہونے، ملازمت ختم ہونے کے خوف اور محدود شکایتی نظام کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ خاص طور پر تعمیرات، سکیورٹی، گھریلو ملازمت اور فیکٹری سیکٹر میں کام کرنے والے مزدور ان مسائل سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
وزارتِ انسانی وسائل نے کہا کہ زیادہ تر غیر ملکی کارکن ملائیشیا پہنچنے کے وقت جسمانی اور ذہنی طور پر مناسب حالت میں ہوتے ہیں کیونکہ ان کے لیے لازمی میڈیکل اسکریننگ کی جاتی ہے۔ تاہم حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ موجودہ اسکریننگ زیادہ تر جسمانی صحت تک محدود ہے جبکہ نفسیاتی اور سماجی مسائل پر کم توجہ دی جاتی ہے۔
اسی کمی کو دور کرنے کے لیے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف آکیوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ اب “ایمپلائی اسسٹنس پروگرامز” کو فروغ دے رہا ہے تاکہ ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کی ابتدائی مرحلے پر نشاندہی کی جا سکے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے ایسے مزدوروں کی مدد ممکن ہو گی جو خاموشی سے ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔
وزارت نے یہ بھی بتایا کہ سوشل سکیورٹی آرگنائزیشن کے فوائد کو غیر ملکی کارکنوں تک بھی توسیع دی گئی ہے۔ اس کے تحت اگر کسی مزدور کو کام کے دوران حادثہ پیش آتا ہے اور اس کے نتیجے میں ذہنی مسائل جیسے پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر پیدا ہو جائے تو وہ روزگار سے متعلق انشورنس اسکیم کے تحت امداد حاصل کر سکتا ہے۔
اسی طرح ایسی ذہنی یا جسمانی حالت جس کے باعث مزدور کام کرنے کے قابل نہ رہے، وہ بھی انویلیڈیٹی سکیم کے دائرے میں شامل ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے غیر ملکی کارکنوں کو قانونی اور مالی تحفظ فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
وزارت نے 2023 میں ایمپلائمنٹ ایکٹ میں کی گئی ترامیم کا بھی ذکر کیا جن کے تحت ہفتہ وار زیادہ سے زیادہ اوقاتِ کار کو کم کر کے 45 گھنٹے کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ آرام کے دنوں کے نفاذ کو بھی مزید سخت بنایا گیا تاکہ مزدوروں کو مسلسل طویل شفٹوں میں کام نہ کرنا پڑے۔
رہائش کے معاملے میں بھی حکومت نے ایمپلائز منیمم سٹینڈرڈز آف ہاؤسنگ، اکاموڈیشن اینڈ امینیٹیز ایکٹ کو 2021 میں تمام شعبوں تک وسیع کیا، جبکہ مئی 2025 میں اسے صباح اور سراواک تک بھی نافذ کر دیا گیا۔ اس قانون کے ذریعے غیر ملکی کارکنوں کے لیے رہائش کے کم از کم معیارات کو پورے ملک میں یکساں بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
وزارت نے بتایا کہ غیر ملکی مزدور اب موبائل ایپ کے ذریعے تنخواہ کی عدم ادائیگی، تشدد، استحصال یا پاسپورٹ ضبط کیے جانے کی شکایات براہِ راست لیبر ڈیپارٹمنٹ تک پہنچا سکتے ہیں۔ یہ ایپ بہاشا ملایو، انگریزی، نیپالی اور بنگالی سمیت کئی زبانوں میں دستیاب ہے تاکہ مختلف ممالک کے کارکن آسانی سے استعمال کر سکیں۔
ایک اہم پالیسی تبدیلی کے تحت گزشتہ سال مئی سے غیر ملکی مزدوروں کو مختلف شعبوں میں آجر تبدیل کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔ حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد “سنگل ایمپلائر ویزا ٹریپ” کو ختم کرنا ہے، جس کے باعث بہت سے مزدور استحصالی حالات کے باوجود ملازمت چھوڑنے سے ڈرتے تھے۔
وزارت نے مزید کہا کہ اگر کسی مزدور کا کیس جبری مشقت یا انسانی اسمگلنگ کے معیار پر پورا اترتا ہو تو اسے اینٹی ٹریفکنگ ان پرسنز اینڈ اینٹی اسمگلنگ آف مائیگرینٹس فریم ورک کے تحت تحفظ دیا جاتا ہے۔ اس میں عارضی تحفظ، رہائش، امیگریشن استثنیٰ اور مقدمے کے دوران قانونی طور پر کام کرنے کی اجازت شامل ہے۔
بین الاقوامی سطح پر ملائیشیا نے 2022 میں آئی ایل او فورسڈ لیبر کنوینشن پروٹوکول کی توثیق بھی کی تھی۔ اس کے تحت ملک پر جبری مشقت کی روک تھام اور متاثرین کے تحفظ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وزارت نے کہا کہ حکومت اب آئی ایل او اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر نیشنل ایکشن پلان آن فورسڈ لیبر تیار کر رہی ہے، جس میں شکایتی نظام کو مضبوط بنانے اور “زیرو کاسٹ مائیگریشن” پالیسی پر توجہ دی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق غیر ملکی مزدور ملائیشیا کی معیشت کا اہم حصہ ہیں، خاص طور پر تعمیرات، مینوفیکچرنگ، زراعت اور سروس سیکٹر میں۔ اسی لیے ان کی ذہنی اور جسمانی فلاح سے نہ صرف انسانی حقوق بلکہ ملکی معیشت بھی جڑی ہوئی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر مزدور ذہنی دباؤ کا شکار ہوں تو وہ استحصال کے خلاف آواز اٹھانے یا قانونی مدد حاصل کرنے میں بھی مشکلات محسوس کرتے ہیں۔

COMMENTS