کوالالمپور: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن ریاست تیرینگانو نے 14 مئی 2026 کو 56 غیر ملکی زیرِ حراست افراد کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنے کی کا...
کوالالمپور: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن ریاست تیرینگانو نے 14 مئی 2026 کو 56 غیر ملکی زیرِ حراست افراد کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنے کی کارروائی مکمل کر لی۔ یہ منتقلی کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 1 اور ٹرمینل 2 کے ذریعے انجام دی گئی۔
محکمہ امیگریشن کے مطابق یہ کارروائی “یونٹ پیمنداہن” اور اجیل امیگریشن ڈپو کی سکیورٹی ٹیم کی نگرانی میں کی گئی۔ واپس بھیجے گئے افراد کی عمریں سات سال سے 57 سال کے درمیان تھیں۔
حکام نے بتایا کہ منتقل کیے گئے افراد میں 47 مرد، آٹھ خواتین اور ایک کم عمر لڑکا شامل تھا۔ ان افراد میں مختلف ممالک کے شہری شامل تھے جن میں 31 بنگلہ دیشی، 21 انڈونیشی، دو ویتنامی اور دو پاکستانی شہری شامل ہیں۔
محکمہ امیگریشن کے مطابق تمام زیرِ حراست افراد قانونی کارروائی اور مقررہ سزائیں مکمل کر چکے تھے، جس کے بعد انہیں موجودہ امیگریشن قوانین کے تحت بلیک لسٹ بھی کیا گیا۔ اس بلیک لسٹنگ کے باعث یہ افراد مخصوص مدت تک دوبارہ ملائیشیا میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ وطن واپسی کی اس کارروائی کا مقصد امیگریشن قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا اور غیر قانونی قیام یا دیگر خلاف ورزیوں کے معاملات کو منظم انداز میں نمٹانا ہے۔ محکمہ نے واضح کیا کہ اس طرح کی کارروائیاں ملکی سلامتی، سرحدی نظم و نسق اور امیگریشن نظام کی بہتری کے لیے مسلسل جاری رکھی جائیں گی۔
ملائیشیا میں حالیہ برسوں کے دوران غیر قانونی تارکین وطن، ویزا خلاف ورزیوں اور امیگریشن قوانین کی نگرانی کے حوالے سے مختلف ریاستوں میں کارروائیاں تیز کی گئی ہیں۔ امیگریشن ڈپو میں زیرِ حراست افراد کو قانونی مراحل مکمل ہونے کے بعد مرحلہ وار ان کے ممالک واپس بھیجا جاتا ہے۔
محکمہ امیگریشن ریاست تیرینگانو نے اپنے بیان میں کہا کہ قیدیوں کی منتقلی کے دوران تمام مراحل کو محفوظ، منظم اور انسانی اصولوں کے مطابق مکمل کیا گیا۔ حکام کے مطابق اس عمل میں مختلف اداروں کے درمیان تعاون بھی شامل رہا تاکہ واپسی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کیا جا سکے۔
حکام نے مزید بتایا کہ بعض افراد کے سفری دستاویزات کی تصدیق اور متعلقہ سفارت خانوں سے رابطے کے بعد ان کی وطن واپسی ممکن بنائی گئی۔ اس عمل کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ ہر فرد کو قانونی تقاضوں کے مطابق واپس بھیجا جائے۔
ملائیشین امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی ایسے اقدامات جاری رکھیں گے تاکہ ملک میں امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کو کم کیا جا سکے اور قومی سلامتی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

COMMENTS