کوالالمپور: ملائیشیا میں غیر ملکی مزدوروں کی ذہنی صحت سے متعلق مسائل ایک سنگین سماجی اور انسانی چیلنج کی صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ تازہ ر...
کوالالمپور: ملائیشیا میں غیر ملکی مزدوروں کی ذہنی صحت سے متعلق مسائل ایک سنگین سماجی اور انسانی چیلنج کی صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ تازہ رپورٹس کے مطابق گزشتہ چھ برسوں کے دوران 344 نیپالی مزدوروں نے خودکشی کی، جس کے بعد انسانی حقوق کے اداروں اور سماجی تنظیموں نے مزدوروں کی زندگی اور کام کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ معاملہ پہلی مرتبہ 2021 میں نمایاں ہوا تھا جب ملائیشیا کے انسانی حقوق کمیشن “سوہاکم” نے انکشاف کیا کہ نیپالی تارکینِ وطن میں خودکشی اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ تقریباً پانچ برس گزرنے کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ بنیادی مسائل آج بھی موجود ہیں، بلکہ بعض صورتوں میں مزید بڑھ گئے ہیں۔
پسات کوماس کے ڈائریکٹر اور سابق سوہاکم کمشنر جیرالڈ جوزف نے کہا کہ نیپالی سفارت خانے سے حاصل ہونے والی معلومات میں واضح ہوا کہ غیر ملکی مزدور شدید ذہنی دباؤ، مالی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، جس کے باعث بعض افراد انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ انہی خدشات کے بعد سوہاکم نے نیپال کے انسانی حقوق ادارے کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تاکہ وہ مزدور جو ملائیشیا سے واپس جاتے ہیں، اپنے تجربات اور شکایات درج کرا سکیں۔
رپورٹ کے مطابق مزدوروں نے جن مسائل کی نشاندہی کی ان میں طویل اوقاتِ کار، بھرتی کے اخراجات کی وجہ سے قرضوں کا بوجھ، تنگ اور غیر صحت بخش رہائشی ماحول، ملازمت ختم ہونے کا خوف، غیر قانونی حیثیت اختیار کر لینے کا خطرہ، اور شکایات درج کرانے کے مؤثر نظام کی کمی شامل ہیں۔
ملائیشیا کے ایمپلائمنٹ ایکٹ کے مطابق روزانہ کام کے اوقات آٹھ گھنٹے سے زیادہ نہیں ہونے چاہئیں، جبکہ اوور ٹائم سمیت مجموعی اوقاتِ کار 12 گھنٹے تک محدود ہیں۔ تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ عملی طور پر بہت سے مزدور اس حد سے زیادہ کام کرتے ہیں، خاص طور پر سیکیورٹی اور کم اجرت والے شعبوں میں۔
جیرالڈ جوزف کے مطابق مسلسل دباؤ، تنہائی اور غیر محفوظ ماحول مل کر مزدوروں کی ذہنی حالت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ ان کے بقول یہ حیران کن نہیں کہ بعض افراد شدید ذہنی دباؤ کے باعث اپنی جان لینے جیسے اقدامات کر بیٹھتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چھ برسوں میں ملائیشیا میں مرنے والے 2,214 نیپالی مزدوروں میں سے 344 اموات خودکشی کے واقعات پر مشتمل تھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شرح غیر معمولی تشویش کی عکاسی کرتی ہے۔
اگرچہ ابتدائی توجہ نیپالی مزدوروں پر رہی، لیکن جیرالڈ جوزف کے مطابق یہ مسئلہ صرف ایک قومیت تک محدود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش، پاکستان، انڈونیشیا اور دیگر ممالک سے آنے والے مزدور بھی زبان، ثقافت، تنہائی اور سماجی عدم قبولیت جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی مزدوروں کو اکثر معاشرے میں کمتر سمجھا جاتا ہے اور آن لائن پلیٹ فارمز پر ان کے خلاف نفرت انگیز یا تضحیک آمیز تبصرے بھی دیکھنے میں آتے ہیں، جس سے ان کی ذہنی کیفیت مزید متاثر ہوتی ہے۔
سوہاکم نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ملائیشیا کا صحت کا نظام اب بھی غیر ملکی مزدوروں کے لیے مکمل طور پر قابلِ رسائی نہیں۔ ملازمت ختم ہونے، امیگریشن کارروائی کے خوف، زبان کی رکاوٹ اور علاج کے اخراجات کی وجہ سے بہت سے مزدور ذہنی صحت کی مدد حاصل نہیں کر پاتے۔
کمیشن کے مطابق صرف خدمات فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ کمزور اور محروم طبقات ان خدمات تک آسانی سے پہنچ سکیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ کووڈ-19 وبا کے دوران موجودہ نظام کی کئی کمزوریاں سامنے آئیں، خاص طور پر ذہنی صحت کے شعبے میں۔
سوہاکم نے حکومت کے لیے کئی تجاویز بھی پیش کیں جن میں ذہنی صحت کو لیبر قوانین اور ورک پلیس سیفٹی فریم ورک کا حصہ بنانا، مختلف زبانوں میں ہیلپ لائنز قائم کرنا، کمیونٹی سطح پر معاونت بڑھانا، اور کمپنیوں کے لیے مشاورت کی سہولت فراہم کرنا شامل ہے۔
اس کے علاوہ سفارش کی گئی کہ بھرتی کے نظام کو مزید شفاف بنایا جائے تاکہ مزدور قرضوں کے دباؤ میں نہ آئیں، جبکہ شکایات درج کرانے کے ایسے محفوظ نظام بنائے جائیں جہاں کارکن کسی خوف کے بغیر اپنی مشکلات بیان کر سکیں۔
ماہرین کے مطابق ملائیشیا کی معیشت میں غیر ملکی مزدور اہم کردار ادا کرتے ہیں، خاص طور پر تعمیرات، مینوفیکچرنگ، سیکیورٹی اور گھریلو ملازمتوں کے شعبوں میں۔ اسی لیے ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کا تحفظ صرف انسانی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی استحکام سے بھی جڑا ہوا معاملہ سمجھا جا رہا ہے۔

COMMENTS