کوالالمپور: ملائیشیا کے امیگریشن حکام نے غیر دستاویزی غیر ملکی کارکنوں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کے دوران 270 افراد کو حراست میں لے لیا ہے، ...
کوالالمپور: ملائیشیا کے امیگریشن حکام نے غیر دستاویزی غیر ملکی کارکنوں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کے دوران 270 افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جن میں 191 بنگلہ دیشی شہری شامل ہیں۔ یہ کارروائی ریاست سیلانگور کے دو صنعتی مراکز میں قائم فیکٹریوں پر کی گئی جہاں حکام کو غیر قانونی غیر ملکی کارکنوں کی ملازمت سے متعلق اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی "اوپس میگا" کے تحت انجام دی گئی۔ حکام نے شاہ عالم اور کلانگ کے علاقوں میں موجود فیکٹریوں کو نشانہ بنایا جہاں مبینہ طور پر ایسے غیر ملکی کارکن ملازمت کر رہے تھے جو امیگریشن قوانین کی مکمل پابندی نہیں کر رہے تھے۔ کارروائی خفیہ معلومات اور عوامی شکایات کی بنیاد پر کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق گرفتار کیے گئے 270 غیر ملکی کارکنوں میں 191 بنگلہ دیشی، 39 پاکستانی، 34 نیپالی، پانچ میانمار کے شہری اور ایک سری لنکن شامل ہے۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیر حراست افراد میں سب سے بڑی تعداد بنگلہ دیشی کارکنوں کی تھی، جس کی وجہ سے یہ خبر بنگلہ دیش میں بھی خاص توجہ حاصل کر رہی ہے۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل بنگلہ دیش اور ملائیشیا کے درمیان لیبر مائیگریشن اور افرادی قوت کے تبادلے سے متعلق اہم بات چیت ہوئی تھی۔ بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان کے حالیہ دورۂ ملائیشیا کے دوران دونوں ممالک نے مزدوروں کی بھرتی، ملازمت کے مواقع اور کارکنوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ اس پس منظر میں حالیہ گرفتاریاں لیبر مائیگریشن کے معاملے کو مزید اہم بنا رہی ہیں۔
ملائیشیا طویل عرصے سے بنگلہ دیشی کارکنوں کے لیے ایک اہم روزگار کی منڈی رہا ہے۔ ملک میں لاکھوں غیر ملکی کارکن مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں جن میں مینوفیکچرنگ، تعمیرات، زرعی و شجرکاری کے منصوبے اور خدمات کا شعبہ شامل ہیں۔ بنگلہ دیشی کارکن ان شعبوں میں نمایاں تعداد میں کام کرتے ہیں اور ان کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر بنگلہ دیش کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
سیلانگور امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر خیرال امینس کمارالدین کے مطابق چھاپہ مار کارروائی منگل کے روز صبح 11 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک جاری رہی۔ اس دوران حکام نے مجموعی طور پر 728 غیر ملکی کارکنوں کی جانچ پڑتال کی۔ دستاویزات کی جانچ اور ابتدائی تحقیقات کے بعد ان افراد کو حراست میں لیا گیا جن پر امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کا شبہ تھا۔
حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد کی عمریں 22 سے 54 سال کے درمیان ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بعض افراد اپنے ویزوں کی مدت ختم ہونے کے باوجود ملائیشیا میں مقیم تھے جبکہ کچھ کارکنوں نے اپنے ورک پرمٹ کی شرائط کی خلاف ورزی کی۔ بعض افراد ایسے شعبوں یا کام کی جگہوں پر کام کرتے پائے گئے جو ان کے اجازت ناموں میں درج نہیں تھے۔
ملائیشیا کے امیگریشن قوانین کے تحت غیر ملکی کارکنوں کو صرف انہی شعبوں اور اداروں میں کام کرنے کی اجازت ہوتی ہے جن کی منظوری ان کے ورک پرمٹ میں دی گئی ہو۔ اگر کوئی کارکن اجازت یافتہ شعبے سے ہٹ کر کام کرتا ہے یا ویزا مدت ختم ہونے کے بعد ملک میں رہتا ہے تو اسے قانونی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔
گرفتار کیے گئے تمام افراد کو مزید تفتیش کے لیے سیمینیہ امیگریشن ڈپو منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام ان کے سفری اور ملازمت سے متعلق دستاویزات کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کس حد تک امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانونی کارروائی کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صرف کارکن ہی نہیں بلکہ متعلقہ آجر بھی حکام کی نگرانی میں ہیں۔ ملائیشیائی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا فیکٹری مالکان نے جان بوجھ کر غیر دستاویزی یا غیر قانونی کارکنوں کو ملازمت دی تھی۔ اگر ایسا ثابت ہوتا ہے تو ان کمپنیوں اور آجروں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
بنگلہ دیش میں اس خبر پر توجہ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بیرون ملک مقیم کارکنوں کی قانونی حیثیت، کام کے حالات اور فلاح و بہبود سے متعلق خدشات پہلے ہی موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق قانونی دستاویزات کی درستگی اور ورک پرمٹ کی شرائط پر عمل درآمد نہ صرف کارکنوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ میزبان ممالک میں روزگار کے مواقع برقرار رکھنے کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔
خبر شائع ہونے تک کوالالمپور میں بنگلہ دیش ہائی کمیشن یا بنگلہ دیش کی وزارتِ سمندر پار روزگار و فلاحِ بہبود کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم ماضی میں ایسے معاملات میں سفارتی مشنز متاثرہ کارکنوں کو قونصلر معاونت فراہم کرتے رہے ہیں۔
ملائیشیا نے حالیہ مہینوں میں غیر قانونی ملازمت اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد لیبر مارکیٹ کو منظم بنانا، غیر قانونی ملازمتوں کی حوصلہ شکنی کرنا اور امیگریشن قوانین پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ "دی اسٹار" کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور آئندہ دنوں میں مزید قانونی اقدامات متوقع ہیں۔

COMMENTS