سنگاپور: ملائیشیا میں دوریان کی ریکارڈ پیداوار کے باعث قیمتیں غیر معمولی حد تک کم ہو گئی ہیں، تاہم سنگاپور کے تاجروں کا کہنا ہے کہ مقامی ...
سنگاپور: ملائیشیا میں دوریان کی ریکارڈ پیداوار کے باعث قیمتیں غیر معمولی حد تک کم ہو گئی ہیں، تاہم سنگاپور کے تاجروں کا کہنا ہے کہ مقامی مارکیٹ میں قیمتیں اگرچہ نیچے آئی ہیں لیکن ان کے ملائیشیا جیسی کم سطح تک پہنچنے کا امکان نہیں ہے۔
سنگاپور میں دوریان فروخت کرنے والے متعدد تاجروں نے بتایا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، تاہم مقامی کاروباری اخراجات، درآمدی لاگت اور دیگر اخراجات کے باعث قیمتوں میں کمی محدود رہنے کی توقع ہے۔
سنگاپور میں مقبول ترین اقسام میں شمار ہونے والے "ماؤ شان وانگ" دوریان کی قیمت مارچ 2026 میں تقریباً 28 سنگاپور ڈالر فی کلوگرام تک پہنچ گئی تھی، جو 23 جون تک کم ہو کر تقریباً 20 سنگاپور ڈالر فی کلوگرام رہ گئی۔ اسی طرح نسبتاً کم قیمت اقسام، جیسے "ریڈ پراون"، کی قیمت تقریباً 14 ڈالر فی کلوگرام سے کم ہو کر 12 ڈالر فی کلوگرام تک آ گئی ہے۔
تاجروں کے مطابق ماؤ شان وانگ کی قیمت مزید کم ہو کر تقریباً 18 سنگاپور ڈالر فی کلوگرام تک جا سکتی ہے، جو دسمبر 2025 میں دوریان کی اضافی پیداوار کے دوران ریکارڈ کی گئی سطح کے برابر ہوگی۔
سنگاپور کے معروف دوریان اور ڈیزرٹ اسٹور "99 اولڈ ٹریز" کے شریک بانی کیلون ٹین کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں یہ قیمتیں سب سے کم سطح پر دیکھی جا رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ اس بار مارکیٹ میں آنے والی بڑی مقدار کا ایک حصہ نسبتاً کم عمر درختوں سے حاصل ہونے والے پھلوں پر مشتمل ہے، جس سے مجموعی معیار متاثر ہوا ہے۔
ان کے مطابق اچھے معیار کے پھل کو الگ کرنے کے لیے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے، اگرچہ قیمتوں میں کمی کے بعد فروخت میں معمولی اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے۔
سنگاپور اپنی زیادہ تر دوریان درآمدات ملائیشیا کی ریاستوں جوہر اور پہانگ سے کرتا ہے۔ ان علاقوں میں دوریان کا سیزن عام طور پر جون، جولائی اور پھر دسمبر میں آتا ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں درجہ حرارت میں اضافے کے باعث درختوں پر پھل جلدی اور زیادہ مقدار میں آنے لگے ہیں، جس کے نتیجے میں سپلائی بڑھ گئی اور قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔
ملائیشین میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت ملائیشیا میں ماؤ شان وانگ دوریان تقریباً 6 رنگٹ فی کلوگرام جبکہ بعض دیگر اقسام صرف 2 رنگٹ فی پھل تک فروخت ہو رہی ہیں۔ کم قیمتوں کے باعث مقامی خریدار بڑی مقدار میں دوریان خریدنے کے لیے فارموں اور اسٹالز کا رخ کر رہے ہیں۔
تاہم سنگاپور کے دوریان فروش اس بات پر متفق ہیں کہ ان کے لیے ملائیشیا جیسی قیمتیں برقرار رکھنا ممکن نہیں۔ کیمبرج روڈ پر واقع "دوریان گارڈن" کے بانی میلون چوا کے مطابق ملائیشیا ایک پیداواری ملک ہے جہاں بڑی مقدار میں پھل دستیاب ہونے کی وجہ سے کم قیمت پر فروخت ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ سنگاپور میں کاروبار چلانے کے اخراجات، نقل و حمل کے مصارف، کرایے اور جی ایس ٹی جیسے عوامل قیمتوں کو ایک خاص حد سے نیچے آنے نہیں دیتے۔ اسی لیے مقامی مارکیٹ میں قیمتیں کم ضرور ہوں گی لیکن ملائیشیا کے برابر نہیں پہنچ سکیں گی۔
رنگون روڈ پر قائم "کمبیٹ دوریان" کی شریک مالک لنڈا آنگ نے بتایا کہ گزشتہ چند دنوں میں انہوں نے معمول کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ اسٹاک منگوایا ہے۔ تاہم چونکہ دوریان جلد خراب ہونے والا پھل ہے، اس لیے وہ اتنا ہی مال منگوانا پسند کرتی ہیں جتنا ایک دن میں فروخت ہو سکے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ یہ ابھی واضح نہیں کہ قیمتوں میں کمی فروخت میں نمایاں اضافے کا سبب بنے گی یا نہیں۔ اسکولوں کی تعطیلات کے دوران بہت سے سنگاپوری شہری براہ راست ملائیشیا جا کر فارموں سے سستا دوریان خریدنے کو ترجیح دے سکتے ہیں، جس کا اثر مقامی مارکیٹ پر پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب ایک ریٹائرڈ صارف مسٹر چیا نے بتایا کہ بعض غیر معروف اسٹالز پر ماؤ شان وانگ دوریان 12 سنگاپور ڈالر فی کلوگرام یا اس سے بھی کم قیمت پر فروخت ہوتے دیکھے گئے ہیں، لیکن ان کا معیار اطمینان بخش نہیں ہوتا۔
ان کے مطابق انہوں نے ماضی میں ملائیشین فارموں سے کم قیمت پر بڑی مقدار میں دوریان خریدا، تاہم اتنی زیادہ مقدار چند دنوں میں استعمال کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ پھل جلد خراب ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ کم مقدار میں مگر بہتر معیار کا دوریان خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ملائیشیا میں ریکارڈ پیداوار کے باعث دوریان کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے اور اس کا اثر سنگاپور کی مارکیٹ پر بھی پڑا ہے۔ تاہم درآمدی اخراجات اور مقامی کاروباری لاگت کے باعث سنگاپور میں قیمتیں ملائیشیا کی انتہائی کم سطح تک پہنچنے کا امکان نہیں رکھتیں۔

COMMENTS