کوالالمپور: ملائیشیا کے ایک سابق کاروباری شخصیت، جو کبھی ایک فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) تھے، آج اپنی روزی کما...
کوالالمپور: ملائیشیا کے ایک سابق کاروباری شخصیت، جو کبھی ایک فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) تھے، آج اپنی روزی کمانے کے لیے فوڈ ڈیلیوری رائیڈر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان کی کہانی کاروباری کامیابی، اچانک زوال اور دوبارہ زندگی کو سنبھالنے کی جدوجہد کی ایک مثال بن گئی ہے۔
چالیس سالہ اندیرا آریا وی جینی نے اپنی زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا تعلق کسی امیر خاندان سے نہیں تھا، لیکن محنت اور مستقل مزاجی کے ذریعے انہوں نے اکتوبر 2019 میں ایک فوڈ آرڈرنگ اور ڈیلیوری پلیٹ فارم قائم کیا۔ کاروبار نے مختصر مدت میں نمایاں ترقی حاصل کی اور اپنے عروج کے دور میں کمپنی تقریباً 60 لاکھ رنگٹ تک منافع کما رہی تھی۔
اندیرا کے مطابق کمپنی کے ساتھ تقریباً 3,000 فعال فوڈ رائیڈرز منسلک تھے، جو ملائیشیا کی مختلف ریاستوں خصوصاً کیلانتان، تیرینگانو اور کیدہ میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ کمپنی کو ملائیشیا ڈیجیٹل اکانومی کارپوریشن کے ایک اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر بھی تسلیم کیا گیا تھا، جسے اس کی ترقی کے لیے ایک اہم کامیابی سمجھا جاتا تھا۔
تاہم کاروبار کی کامیابی زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکی۔ اندیرا نے دعویٰ کیا کہ ایک فرد نے کمپنی سے متعلق ایک انٹرنیٹ پروٹوکول (آئی پی) ایڈریس ذاتی فائدے کے لیے ایک حریف ادارے کو فروخت کر دیا، جس کے بعد کمپنی کے حالات تیزی سے خراب ہونا شروع ہو گئے۔
ان کے مطابق جنوری 2021 سے کمپنی کی آمدنی میں مسلسل کمی آنے لگی۔ جو کاروبار پہلے لاکھوں رنگٹ کا منافع کما رہا تھا، اس کی ماہانہ کمائی کم ہو کر صرف 40 ہزار سے 80 ہزار رنگٹ کے درمیان رہ گئی۔ مالی مشکلات بڑھنے کے ساتھ کمپنی کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
اندیرا نے بتایا کہ ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے اور کمپنی کو چلانے کی کوشش میں انہیں اپنے ذاتی اثاثے بھی فروخت کرنا پڑے۔ لیکن حالات بہتر نہ ہو سکے اور بالآخر کاروبار مکمل طور پر ختم ہو گیا۔
کاروبار کے خاتمے نے ان کی ذاتی زندگی پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ دو بچوں کے والد اندیرا نے کہا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان کے پاس کھانا خریدنے کے لیے مناسب رقم موجود نہیں تھی۔ وہ بعض اوقات جیبوں اور گھریلو اشیاء میں موجود سکے جمع کرکے کھانے کا انتظام کرتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ اس مشکل دور میں ان کے پاس سواری بھی موجود نہیں تھی، جس کی وجہ سے انہیں کئی بار لمبے فاصلے پیدل طے کرنا پڑتے تھے۔ ان کے مطابق زندگی میں اچانک آنے والی اس تبدیلی نے انہیں مالی اور ذہنی طور پر شدید آزمائش میں ڈال دیا۔
اندیرا نے یہ بھی کہا کہ جب ان کے حالات خراب ہوئے تو ان کے اردگرد موجود کئی لوگوں کا رویہ بدل گیا۔ کچھ ایسے افراد، جو پہلے ان کے قریبی دوست شمار ہوتے تھے، آہستہ آہستہ دور ہوتے گئے۔ ان کا خیال ہے کہ شاید وہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ ان سے مالی مدد مانگ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال ان کے لیے تکلیف دہ تھی کیونکہ اچھے دنوں میں وہ انہی لوگوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ تاہم وقت کے ساتھ انہوں نے حقیقت کو قبول کیا اور اپنی زندگی کو نئے سرے سے ترتیب دینے کا فیصلہ کیا۔
اندیرا کے مطابق ان کی زندگی میں ایک ایسا موقع بھی آیا جب وہ مکمل طور پر ہمت ہارنے کے قریب تھے۔ لیکن ایک سابق فوڈ رائیڈر کے الفاظ نے انہیں دوبارہ حوصلہ دیا۔ انہوں نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ایک رائیڈر صرف 20 رنگٹ کمانے کے باوجود خوش تھا کیونکہ وہ اس رقم سے اپنے بچے کے لیے کھانا خرید سکتا تھا۔
اندیرا کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے انہیں احساس دلایا کہ زندگی میں چھوٹی کامیابیاں بھی اہم ہوتی ہیں اور انسان کو مشکل حالات میں امید نہیں چھوڑنی چاہیے۔ یہی سوچ ان کے لیے آگے بڑھنے کا سبب بنی۔
آج اندیرا آزاد حیثیت میں فوڈ ڈیلیوری رائیڈر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ لوگوں کے لیے مختلف اشیاء خریدنے اور پہنچانے کی خدمات بھی فراہم کرتے ہیں، جس کے عوض انہیں عموماً 5 سے 10 رنگٹ تک معاوضہ ملتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنی مشکلات کے باوجود وہ دوسروں کی مدد کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ دورانِ کام ایسے افراد پر بھی نظر رکھتے ہیں جنہیں فوری مدد کی ضرورت ہو، خصوصاً گاڑی کی بیٹری یا ٹائر سے متعلق مسائل میں۔
اندیرا کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ خود زندگی کے انتہائی مشکل مرحلے سے گزر چکے ہیں، اس لیے وہ نہیں چاہتے کہ دوسرے لوگ بھی اسی طرح مایوسی کا شکار ہوں۔ ان کے مطابق دوسروں کی مدد کرنے سے انہیں اطمینان اور حوصلہ ملتا ہے۔
ماضی پر نظر ڈالتے ہوئے اندیرا کہتے ہیں کہ وہ اس پورے تجربے کو زندگی کا ایک امتحان اور سبق سمجھتے ہیں۔ ان کا عزم ہے کہ وہ مستقبل میں دوبارہ کامیاب کاروباری شخصیت بنیں گے اور مزید روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔

COMMENTS