ڈھاکا: بنگلہ دیش کے وزیر برائے تارکین وطن فلاح و بہبود و بیرون ملک روزگار عارف الحق چودھری نے کہا ہے کہ ملائیشیا کی لیبر مارکیٹ کے حوالے ...
ڈھاکا: بنگلہ دیش کے وزیر برائے تارکین وطن فلاح و بہبود و بیرون ملک روزگار عارف الحق چودھری نے کہا ہے کہ ملائیشیا کی لیبر مارکیٹ کے حوالے سے جولائی کے دوران مثبت پیش رفت سامنے آنے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق حالیہ اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں اور وزیراعظم کے دورۂ ملائیشیا کے نتائج آئندہ ماہ سے عملی شکل اختیار کرنا شروع کر سکتے ہیں۔
وزیر نے یہ بات سلہٹ عثمانی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر وزارتِ تارکین وطن فلاح و بہبود اور بیرون ملک روزگار کی جاری سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حکومت ملائیشیا کے ساتھ افرادی قوت اور لیبر مائیگریشن کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سرگرم ہے۔
عارف الحق چودھری نے کہا، "ہمیں امید ہے کہ جولائی کے اندر ملائیشیا کی لیبر مارکیٹ کے حوالے سے اچھی خبر ملے گی۔" ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم طارق رحمان کا حالیہ دورۂ ملائیشیا کامیاب اور نتیجہ خیز ثابت ہوا ہے، جس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مختلف اہم معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
وزیر کے مطابق دورے کے دوران لیبر مائیگریشن، افرادی قوت کی برآمد، کارکنوں کے حقوق اور باہمی تعاون کے دیگر شعبوں میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیائی حکومت اور عوام کے مخلصانہ تعاون نے مذاکرات کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ملائیشیا طویل عرصے سے بنگلہ دیشی کارکنوں کے لیے ایک اہم روزگار کی منڈی رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران مختلف انتظامی اور پالیسی وجوہات کی بنا پر لیبر مارکیٹ سے متعلق بعض مسائل سامنے آئے تھے، جن کی وجہ سے کارکنوں کی بھرتی اور منتقلی کا عمل متاثر ہوا۔ اسی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
وزیر نے امید ظاہر کی کہ ملائیشیا کے وزیر برائے انسانی وسائل اور وزیر داخلہ جولائی کے دوران بنگلہ دیش کا دورہ کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہ دورے ہوتے ہیں تو جاری معاملات پر مزید پیش رفت ممکن ہوگی اور عوام کو مختلف منصوبوں اور اقدامات کے عملی نتائج دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری بات چیت صرف نئی بھرتیوں تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد افرادی قوت کے انتظام، کارکنوں کے حقوق کے تحفظ، قانونی طریقہ کار میں بہتری اور دوطرفہ تعاون کے مختلف پہلوؤں کو مزید مضبوط بنانا بھی ہے۔
وزیراعظم طارق رحمان کے حالیہ دورۂ ملائیشیا کے دوران لیبر مارکیٹ کے ساتھ ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، تعلیم اور علاقائی تعاون جیسے موضوعات بھی زیر بحث آئے تھے۔ دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے اور اقتصادی روابط کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
ملائیشیا میں اس وقت بڑی تعداد میں بنگلہ دیشی کارکن مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مینوفیکچرنگ، تعمیرات، زراعت، شجرکاری اور خدمات کے شعبے ان کے لیے اہم روزگار کے ذرائع ہیں۔ ان کارکنوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر بنگلہ دیش کی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں، جس کی وجہ سے لیبر مارکیٹ سے متعلق کسی بھی پیش رفت کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔
اپنی گفتگو کے دوران عارف الحق چودھری نے قطر میں جاں بحق ہونے والے بنگلہ دیشی شہریوں کی میتوں کی وطن واپسی کے معاملے پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھ رہی ہے اور متاثرہ خاندانوں سے مسلسل رابطے میں ہے۔
وزیر کے مطابق متعلقہ حکام متاثرہ خاندانوں کو ضروری معاونت فراہم کر رہے ہیں اور میتوں کی واپسی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے مختلف اداروں کے ساتھ رابطے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم شہریوں اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
ایئرپورٹ کے دورے کے موقع پر ڈویژنل کمشنر محمد مشیور رحمان، وزارتِ تارکین وطن فلاح و بہبود کے جوائنٹ سیکریٹری دیبجیت سنگھ، وزارتِ محنت و روزگار کے ڈپٹی سیکریٹری محمد شمس الاسلام، سلہٹ کی قائم مقام ڈپٹی کمشنر پنکی ساہا اور سلہٹ عثمانی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ڈائریکٹر حافظ احمد بھی موجود تھے۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں ملائیشیا کے ساتھ جاری مذاکرات کے مزید نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ اگر مجوزہ ملاقاتیں اور سرکاری دورے طے شدہ منصوبے کے مطابق مکمل ہوتے ہیں تو لیبر مارکیٹ اور افرادی قوت کے شعبے میں نئی پیش رفت متوقع ہے۔

COMMENTS