ملائیشیا کی حکومت نے غیر ملکی کارکنوں کے انتظامی نظام میں جامع اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے اس شعبے کو مزید مؤثر، شفاف اور منظم بنانے کا فیصل...
ملائیشیا کی حکومت نے غیر ملکی کارکنوں کے انتظامی نظام میں جامع اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے اس شعبے کو مزید مؤثر، شفاف اور منظم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مختلف اداروں کے درمیان اختیارات کے تداخل اور غیر واضح طریقہ کار کے باعث پیدا ہونے والے مسائل کو ختم کرنے کے لیے انتظامی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں کی جائیں گی۔
یہ فیصلہ پارلیمنٹ میں منعقدہ غیر ملکی کارکنوں سے متعلق خصوصی کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت نائب وزیر اعظم داتک سری ڈاکٹر احمد زاہد حمیدی نے کی۔ اجلاس میں غیر ملکی افرادی قوت کے انتظام، ملکی معیشت کی ضروریات اور مستقبل کی پالیسیوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اصلاحاتی منصوبے کا سب سے اہم حصہ یہ ہے کہ غیر ملکی کارکنوں کے انتظام کے لیے قائم مرکزی ون اسٹاپ سینٹر کو مکمل طور پر وزارتِ انسانی وسائل کے تحت منتقل کر دیا جائے گا۔ حکومت کے مطابق اس اقدام سے تمام متعلقہ امور ایک ہی وزارت کے تحت انجام دیے جائیں گے، جس سے فیصلوں میں ہم آہنگی اور انتظامی کارکردگی بہتر ہونے کی توقع ہے۔
نائب وزیر اعظم احمد زاہد حمیدی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ حکومت کا بنیادی مقصد ایسا نظام قائم کرنا ہے جو زیادہ مؤثر، شفاف اور دیانت داری کے اصولوں کے مطابق کام کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل میں صنعتی شعبے کی حقیقی ضروریات، قومی سلامتی اور مقامی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع کے درمیان متوازن پالیسی اختیار کی جائے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کابینہ کمیٹی نے غیر ملکی کارکنوں کی نگرانی سے متعلق کمیٹی کی رکنیت اور اس کے دائرہ کار کا بھی ازسرنو جائزہ لینے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے تحت مختلف معاشی شعبوں میں افرادی قوت کی ضرورت کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا تاکہ صرف تصدیق شدہ اور حقیقی ضرورت کی بنیاد پر غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کی اجازت دی جا سکے۔
حکومت کے مطابق مستقبل میں ہر شعبے کی افرادی قوت کی طلب کا الگ الگ تجزیہ کیا جائے گا، جس کے بعد پالیسی فیصلے کیے جائیں گے۔ اس طریقہ کار کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ غیر ملکی کارکنوں کی تعداد ملکی معیشت کی اصل ضرورت کے مطابق ہو اور غیر ضروری انحصار سے بچا جا سکے۔
یہ اصلاحات ملائیشیا کی اس طویل المدتی اقتصادی حکمت عملی کا بھی حصہ ہیں جس کے تحت کم مہارت رکھنے والے غیر ملکی کارکنوں پر انحصار بتدریج کم کیا جا رہا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ ملکی معیشت زیادہ پیداواری، جدید اور ہنر مند افرادی قوت پر مبنی نظام کی طرف منتقل ہو، جبکہ مقامی افراد کے لیے روزگار کے مزید مواقع بھی پیدا کیے جائیں۔
غیر ملکی کارکن ملائیشیا کی تعمیرات، مینوفیکچرنگ، شجرکاری، زراعت اور خدمات سمیت کئی اہم شعبوں میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران بھرتی کے طریقہ کار، مختلف سرکاری اداروں کے اختیارات اور انتظامی پیچیدگیوں کے حوالے سے متعدد سوالات سامنے آئے، جس کے بعد حکومت نے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اصلاحات کا عمل شروع کیا۔
حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ نافذ کی جانے والی تمام پالیسیاں قومی مفاد، اقتصادی استحکام اور پائیدار ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی جائیں گی۔ ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ کاروباری اداروں کی حقیقی افرادی قوت کی ضروریات کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا بلکہ شفاف اور منظم طریقہ کار کے ذریعے ان کا حل تلاش کیا جائے گا۔

COMMENTS