جکارتہ: عالمی سطح پر پناہ گزینوں کے حوالے سے بڑھتے ہوئے منفی رجحانات کے درمیان ماہرین نے انڈونیشیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی پناہ گزین پا...
جکارتہ: عالمی سطح پر پناہ گزینوں کے حوالے سے بڑھتے ہوئے منفی رجحانات کے درمیان ماہرین نے انڈونیشیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی پناہ گزین پالیسیوں پر نظرثانی کرے، خصوصاً ایسے قوانین پر جو پناہ گزینوں کو باقاعدہ روزگار حاصل کرنے سے روکتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ صورتحال "تعمیری واپسی" کی ایک شکل اختیار کر چکی ہے، جس کے نتیجے میں پناہ گزین قانونی طور پر ملک میں موجود ہونے کے باوجود بنیادی معاشی حقوق سے محروم رہتے ہیں۔
دی جکارتہ پوسٹ میں شائع ہونے والے ایک تجزیاتی مضمون میں کہا گیا ہے کہ ہر سال 20 جون کو عالمی یومِ پناہ گزین منایا جاتا ہے تاکہ جنگ، تشدد، مذہبی یا نسلی تعصب اور دیگر وجوہات کے باعث اپنے گھروں سے بے دخل ہونے والے افراد کی ہمت اور جدوجہد کو تسلیم کیا جا سکے۔ اس موقع پر مختلف ممالک میں تقریبات، آرٹ نمائشوں، فلمی نمائشوں، مباحثوں اور کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ پناہ گزینوں کے مسائل اور صلاحیتوں کو اجاگر کیا جا سکے۔
تاہم مضمون کے مطابق تقریبات اور آگاہی مہمات کے باوجود پناہ گزینوں کی عملی مشکلات میں خاطر خواہ کمی نہیں آ رہی۔ کئی مقامات پر پناہ گزین برادریاں اب ثقافتی سرگرمیوں کے بجائے احتجاجی مظاہروں کا راستہ اختیار کر رہی ہیں تاکہ پالیسی سازوں کی توجہ اپنی مشکلات کی جانب مبذول کرا سکیں۔
مضمون میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں امیگریشن مخالف جذبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مختلف ممالک میں قوم پرست سیاسی رجحانات، معاشی مشکلات اور جاری تنازعات نے مہاجرین اور پناہ گزینوں کے خلاف عوامی رویوں کو مزید سخت بنا دیا ہے۔ انڈونیشیا بھی اس رجحان سے متاثر ہوا ہے، خاص طور پر روہنگیا پناہ گزینوں کی آمد کے معاملے میں۔
حالیہ برسوں میں انڈونیشیا کے صوبے آچے میں سمندری راستے سے آنے والے روہنگیا پناہ گزینوں کے حوالے سے عوامی اور سیاسی بحث میں سخت مؤقف دیکھنے میں آیا۔ سوشل میڈیا اور بعض سیاسی بیانات میں پناہ گزینوں کو معاشی بوجھ کے طور پر پیش کیا گیا، جس سے عوامی رائے مزید منفی ہوئی۔
ماہرین کے مطابق اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ انڈونیشی حکومت کی پالیسی میں موجود ابہام ہے۔ اگرچہ حکومت صدارتی ضابطہ نمبر 125/2016 کو اپنی انسانی ہمدردی پر مبنی پالیسی کی مثال کے طور پر پیش کرتی ہے، لیکن عملی طور پر پناہ گزینوں کی مدد کا زیادہ تر بوجھ بین الاقوامی تنظیموں، مقامی فلاحی اداروں اور عام شہریوں پر پڑتا ہے۔
مضمون میں نشاندہی کی گئی ہے کہ انڈونیشی حکومت اپنے قومی بجٹ میں پناہ گزینوں کے لیے براہِ راست مالی وسائل مختص نہیں کرتی۔ اس کے علاوہ ملک میں موجود پناہ گزینوں کو قانونی طور پر ملازمت کرنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔ نتیجتاً ہزاروں افراد اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مکمل طور پر امدادی نظام پر انحصار کرتے ہیں۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ روزگار پر پابندی صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی وقار کا معاملہ بھی ہے۔ بہت سے پناہ گزین اپنے خاندانوں کی کفالت کرنے، بچوں کی تعلیم جاری رکھنے اور خود کفیل زندگی گزارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن قانونی رکاوٹیں انہیں ایسا کرنے سے روکتی ہیں۔ اس سے نہ صرف ان کی معاشی مشکلات بڑھتی ہیں بلکہ معاشرے میں یہ تاثر بھی مضبوط ہوتا ہے کہ پناہ گزین میزبان ملک پر بوجھ ہیں۔
مضمون میں خاص طور پر روہنگیا بحران کا حوالہ دیا گیا ہے، جو جنوب مشرقی ایشیا کے طویل ترین انسانی بحرانوں میں شمار ہوتا ہے۔ میانمار سے تعلق رکھنے والے ہزاروں روہنگیا افراد گزشتہ کئی برسوں سے مختلف ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہیں اور ان میں سے ایک بڑی تعداد سمندری راستے سے انڈونیشیا پہنچتی ہے۔
مصنف کا مؤقف ہے کہ اگر پناہ گزینوں کو محدود اور منظم انداز میں روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ امداد پر انحصار کم کر سکتے ہیں، اپنی ضروریات خود پوری کر سکتے ہیں اور میزبان معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے موجودہ قوانین میں اصلاحات اور واضح حکومتی پالیسی کی ضرورت ہے۔

COMMENTS