کوالالمپور: سالانہ چھٹی ملازمین کے بنیادی قانونی حقوق میں شمار ہوتی ہے، تاہم بہت سے ملازمین کے ذہن میں یہ سوال موجود رہتا ہے کہ کیا آجر (...
کوالالمپور: سالانہ چھٹی ملازمین کے بنیادی قانونی حقوق میں شمار ہوتی ہے، تاہم بہت سے ملازمین کے ذہن میں یہ سوال موجود رہتا ہے کہ کیا آجر (ایمپلائر) ان کی چھٹی کی درخواست مسترد کر سکتا ہے یا نہیں۔ ملائیشیا کے روزگار کے قوانین اس حوالے سے واضح رہنمائی فراہم کرتے ہیں اور ملازمین کے حقوق کے ساتھ ساتھ کاروباری ضروریات کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔
ملائیشیا کے ایمپلائمنٹ ایکٹ 1955 کے تحت ملازمین کو تنخواہ کے ساتھ سالانہ چھٹی کا حق حاصل ہے۔ تاہم قانون یہ بھی واضح کرتا ہے کہ چھٹی ایسے وقت پر دی جا سکتی ہے جو آجر کے لیے مناسب ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ ملازم چھٹی کا حق رکھتا ہے، لیکن اس کے استعمال کے وقت کے تعین میں آجر کو کچھ اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق آجر بعض حالات میں ملازم کی مطلوبہ تاریخوں پر چھٹی کی درخواست مسترد یا مؤخر کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک ہی مدت کے لیے پہلے ہی متعدد ملازمین چھٹی لے چکے ہوں، کاروبار مصروف ترین سیزن میں داخل ہو رہا ہو، یا کسی اہم منصوبے کے دوران ملازم کی غیر موجودگی ادارے کے کام کو متاثر کر سکتی ہو تو آجر کے پاس درخواست مسترد کرنے کی قانونی بنیاد موجود ہو سکتی ہے۔
اسی طرح اگر ملازم کمپنی کی چھٹی سے متعلق پالیسی، درخواست دینے کے مقررہ طریقہ کار یا نوٹس کی شرائط پوری نہ کرے تو بھی درخواست منظور نہ ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی کمپنیاں اہم منصوبوں، سالانہ آڈٹ، تہواروں کے دوران یا دیگر مصروف اوقات میں مخصوص "بلیک آؤٹ پیریڈز" نافذ کرتی ہیں جن کے دوران چھٹیاں محدود کر دی جاتی ہیں۔
اگرچہ قانون آجر کو چھٹیوں کے شیڈول کے انتظام کا اختیار دیتا ہے، لیکن اسے یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ملازم کی تمام درخواستیں مسلسل اور بلاجواز مسترد کرتا رہے۔ قانون کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر ملازم اپنی قانونی سالانہ چھٹی مقررہ مدت کے اندر استعمال کر سکے۔
قانون کے مطابق ملازم اپنے کم از کم قانونی چھٹی کے حق سے دستبردار بھی نہیں ہو سکتا۔ بعض صورتوں میں اگر ملازم تحریری رضامندی دے تو آجر اسے چھٹی لینے کے بجائے مالی معاوضہ ادا کر سکتا ہے۔ اسی طرح ملازمت ختم ہونے کی صورت میں استعمال نہ ہونے والی سالانہ چھٹی کا معاوضہ بھی ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔
اگر کسی ملازم کو محسوس ہو کہ اس کی سالانہ چھٹی کی درخواستیں مسلسل بلاجواز مسترد کی جا رہی ہیں تو سب سے پہلے اسے اپنے ملازمت کے معاہدے، کمپنی کی چھٹیوں کی پالیسی اور مستردی کی تحریری وجوہات کا جائزہ لینا چاہیے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اس معاملے کو پہلے انسانی وسائل (ایچ آر) کے شعبے کے ساتھ اٹھایا جائے اور تمام درخواستوں اور جوابات کا ریکارڈ محفوظ رکھا جائے۔
اگر مسئلہ حل نہ ہو اور ملازم کو لگے کہ اس کے قانونی حقوق متاثر ہو رہے ہیں تو وہ جاباتان تناگا کَرجا سیمینانجونگ ملائیشیا یا متعلقہ ریاستی لیبر ڈیپارٹمنٹ سے رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔
قانون کے سیکشن 60ای کے تحت سالانہ چھٹی کا کم از کم استحقاق ملازم کی مدتِ ملازمت کے مطابق مقرر کیا گیا ہے۔ دو سال سے کم عرصہ ملازمت کرنے والے ملازمین کم از کم 8 دن کی سالانہ چھٹی کے حق دار ہیں۔ دو سال سے پانچ سال سے کم مدت کے ملازمین کے لیے یہ حق 12 دن جبکہ پانچ سال یا اس سے زیادہ عرصہ خدمات انجام دینے والوں کے لیے کم از کم 16 دن مقرر ہے۔
بہت سی کمپنیاں قانونی تقاضوں سے زیادہ چھٹیوں کی سہولت فراہم کرتی ہیں، تاہم قانون کے تحت مقرر کردہ کم از کم حد سے کم چھٹی دینا ممکن نہیں۔ ایمپلائمنٹ ایکٹ (ترمیم) 2022 کے بعد ان قانونی تحفظات کا دائرہ کار وسیع ہو گیا ہے اور اب ملائیشیا میں زیادہ تر ملازمین ان حقوق سے مستفید ہوتے ہیں۔
مجموعی طور پر قانون آجر کو کاروباری ضرورت کے تحت مخصوص تاریخوں پر چھٹی مسترد کرنے کی اجازت دیتا ہے، لیکن وہ ملازم کو اس کے قانونی سالانہ چھٹی کے حق سے مستقل طور پر محروم نہیں کر سکتا۔ اس لیے ملازمین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے حقوق اور کمپنی کی پالیسی دونوں سے آگاہ رہیں تاکہ کسی بھی تنازعے کی صورت میں مناسب اقدام کیا جا سکے۔

COMMENTS