پیٹالنگ جایا: ملائیشیا کی ایس ایم ای ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے لیے مجوزہ نیا نظام متعارف ک...
پیٹالنگ جایا: ملائیشیا کی ایس ایم ای ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے لیے مجوزہ نیا نظام متعارف کرایا جاتا ہے تو اس کی تیاری اور ترقیاتی اخراجات حکومت خود برداشت کرے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں آجروں سے صرف معمولی انتظامی فیس لی جائے تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار پر اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔
ایسوسی ایشن کے صدر چِن چی سیونگ نے کہا کہ ملک کے بہت سے چھوٹے کاروبار پہلے ہی محدود منافع پر چل رہے ہیں۔ اگر نئے ریکروٹمنٹ سسٹم کے باعث ان پر مزید اخراجات عائد کیے گئے تو ان کے لیے کاروبار جاری رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ اگر مستقبل میں اس پلیٹ فارم کی فیس بڑھانے کی ضرورت پیش آئے تو یہ فیصلہ مرحلہ وار کیا جائے اور اس سے پہلے متعلقہ صنعتوں اور کاروباری نمائندوں سے مشاورت کی جائے تاکہ تمام فریقوں کی رائے کو مدنظر رکھا جا سکے۔
چِن چی سیونگ نے یہ بھی کہا کہ وزارتِ انسانی وسائل کو نئے نظام پر حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے ایک جامع اثراتی جائزہ تیار کرکے عوام کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق اس جائزے سے یہ واضح ہوگا کہ مجوزہ نظام چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں پر کس حد تک مالی اور انتظامی اثرات مرتب کرے گا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر یہ نظام نافذ کیا جاتا ہے تو اس میں مضبوط سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا پروٹیکشن کے انتظامات لازمی ہونے چاہییں۔ ان کے مطابق اس پلیٹ فارم میں غیر ملکی کارکنوں کی ذاتی معلومات، ملازمت کے معاہدے اور امیگریشن سے متعلق حساس دستاویزات محفوظ ہوں گی، اس لیے ڈیٹا کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
اس معاملے کا پس منظر یہ ہے کہ رواں سال سیاسی پارٹی (پی کے آر) سے تعلق رکھنے والے 10 اراکینِ پارلیمنٹ نے "توراپ" نامی مجوزہ یونیورسل ریکروٹمنٹ پلیٹ فارم کی مخالفت کی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ حکومت کے پاس پہلے ہی مختلف سرکاری پلیٹ فارمز موجود ہیں یا ان پر کام جاری ہے، اس لیے ایک نیا نظام متعارف کرانے کی ضرورت نہیں۔
ان اراکین نے یہ بھی تجویز دی تھی کہ حکومت کو اپنی توجہ نئے امیگریشن سسٹم پر مرکوز رکھنی چاہیے، جس کے 2028 تک مکمل طور پر فعال ہونے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق اسی نظام کو استعمال کرکے غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے عمل کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب وزارتِ انسانی وسائل نے وضاحت کی ہے کہ توراپ ابھی صرف ایک تجویز ہے اور اس کے نفاذ کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ مختلف تجاویز اور آراء کا جائزہ لینے کے بعد ہی آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ملائیشیا میں کئی شعبے غیر ملکی کارکنوں پر انحصار کرتے ہیں۔ کاروباری ادارے چاہتے ہیں کہ بھرتی کے عمل کو جدید اور شفاف بنایا جائے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ نئے نظام کے مالی اثرات بھی محدود رکھے جائیں تاکہ چھوٹے کاروبار غیر ضروری بوجھ کا شکار نہ ہوں۔

COMMENTS