پتراجایا: ملائیشیا کی وفاقی حکومت نے ملک میں غیر ملکی افرادی قوت سے متعلق مسائل کا جامع جائزہ لینے اور مختلف شعبوں میں درپیش افرادی قوت ک...
پتراجایا: ملائیشیا کی وفاقی حکومت نے ملک میں غیر ملکی افرادی قوت سے متعلق مسائل کا جامع جائزہ لینے اور مختلف شعبوں میں درپیش افرادی قوت کی کمی کے حل کے لیے کابینہ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس آئندہ ہفتے طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کمیٹی کی صدارت نائب وزیر اعظم داتوک سری ڈاکٹر احمد زاہد حمیدی کریں گے۔
یہ فیصلہ جمعہ کو وزیر اعظم داتوک سری انور ابراہیم کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں کیا گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مختلف وزارتوں اور سرکاری اداروں کے درمیان بہتر رابطہ قائم کر کے غیر ملکی کارکنوں سے متعلق پالیسیوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ مختلف معاشی شعبوں کی ضروریات کو متوازن انداز میں پورا کیا جا سکے۔
حکومتی ترجمان اور وزیر مواصلات داتوک فہمی فاضل نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ خصوصی کمیٹی غیر ملکی کارکنوں سے متعلق تمام اہم معاملات کا تفصیلی جائزہ لے گی اور متعلقہ وزارتوں کے درمیان رابطے کو مضبوط بنائے گی تاکہ مسائل کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ ملک کے کئی صنعتی شعبے اب بھی افرادی قوت کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں، خاص طور پر وہ شعبے جو روزمرہ کی سرگرمیوں کے لیے بڑی حد تک غیر ملکی کارکنوں پر انحصار کرتے ہیں۔
فہمی فاضل کے مطابق کابینہ نے اتفاق کیا ہے کہ غیر ملکی کارکنوں سے متعلق خصوصی کمیٹی آئندہ ہفتے ہی اپنا اجلاس منعقد کرے گی تاکہ اس معاملے سے متعلق تمام امور کا جامع انداز میں جائزہ لے کر مناسب اقدامات تجویز کیے جا سکیں۔
حکومت کی جانب سے فوری توجہ حاصل کرنے والے شعبوں میں خوراک و مشروبات (ایف اینڈ بی) کی صنعت بھی شامل ہے۔ حالیہ دنوں میں اس شعبے سے وابستہ کاروباری اداروں نے کارکنوں کی کمی اور اس کے کاروباری سرگرمیوں پر اثرات کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا تھا۔
فہمی فاضل نے کہا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ افرادی قوت کی کمی کاروباری پیداوار، آپریشنل تسلسل اور مجموعی معاشی کارکردگی پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، اس لیے اس مسئلے کا حل مختلف وزارتوں کے باہمی تعاون سے تلاش کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کسی ایک شعبے یا وزارت کی سطح پر الگ الگ فیصلے کرنے کے بجائے "ہول آف گورنمنٹ" یعنی تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ مشاورت کے ذریعے پالیسی مرتب کرنا چاہتی ہے تاکہ معاشی ضروریات اور قومی مفادات کے درمیان مناسب توازن برقرار رکھا جا سکے۔
اگرچہ اس مرحلے پر کسی نئی پالیسی یا ضابطے کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ خصوصی کمیٹی اپنی سفارشات مرتب کرنے کے بعد مزید تفصیلات جاری کرے گی۔ حکام کے مطابق کسی بھی نئے اقدام سے پہلے تمام متعلقہ پہلوؤں کا مکمل جائزہ لینا ضروری ہے۔
پس منظر
ملائیشیا میں گزشتہ چند برسوں کے دوران مینوفیکچرنگ، تعمیرات، زراعت، خدمات اور خوراک و مشروبات سمیت متعدد شعبوں میں غیر ملکی کارکنوں کی دستیابی ایک اہم مسئلہ رہی ہے۔ کاروباری اداروں کا مؤقف ہے کہ افرادی قوت کی کمی کے باعث ان کی پیداواری صلاحیت اور کاروباری توسیع متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث وہ غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے عمل کو مزید تیز اور واضح بنانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
دوسری جانب حکومت مسلسل اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ غیر ملکی کارکنوں سے متعلق پالیسی ایسی ہونی چاہیے جو ایک طرف صنعتوں کی ضروریات پوری کرے اور دوسری طرف مقامی شہریوں کے روزگار کے مواقع کا بھی تحفظ یقینی بنائے۔
ماہرین کے مطابق آئندہ ہفتے ہونے والا خصوصی کمیٹی کا اجلاس مستقبل کی لیبر پالیسی کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس اجلاس میں مختلف وزارتوں کے درمیان ہم آہنگی، صنعتوں کو درپیش عملی مشکلات اور ممکنہ پالیسی اصلاحات پر غور کیے جانے کی توقع ہے تاکہ ملک کی لیبر مارکیٹ کو معاشی ضروریات کے مطابق مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
کاروباری حلقے بھی اس اجلاس کے نتائج کے منتظر ہیں کیونکہ ان کے مطابق مستقبل کی حکومتی پالیسی سے یہ واضح ہوگا کہ مختلف شعبوں میں غیر ملکی افرادی قوت کی ضروریات کو کس انداز میں پورا کیا جائے گا اور بھرتی کے نظام میں کیا تبدیلیاں متوقع ہیں۔

COMMENTS