کوالالمپور: ملائیشیا میں ثقافتی ورثے کو فروغ دینے کے لیے "سیترا ملائیشیا: کلرز آف ملائیشیا" پروگرام کی دوسری سیریز کا انعقاد ک...
کوالالمپور: ملائیشیا میں ثقافتی ورثے کو فروغ دینے کے لیے "سیترا ملائیشیا: کلرز آف ملائیشیا" پروگرام کی دوسری سیریز کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد مقامی شہریوں اور غیر ملکی سیاحوں کو ملک کی متنوع ثقافت، روایتی فنون اور مختلف نسلی برادریوں کے ثقافتی اظہار سے روشناس کرانا ہے۔
یہ پروگرام وزارتِ سیاحت، فنون اور ثقافت کے تحت نیشنل ڈیپارٹمنٹ فار کلچر اینڈ آرٹس نے سنٹرل مارکیٹ اور پیستا کیتا کے تعاون سے منعقد کیا۔ حکام کے مطابق یہ صرف ثقافتی نمائش نہیں بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ملائیشیا کی مختلف ریاستوں اور قومیتوں کی ثقافتی شناخت کو ایک جگہ پیش کیا جاتا ہے۔
جے کے کے این کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (ثقافت و فنون) رضی عمر نے برناما سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ "کلرز آف ملائیشیا" پروگرام کا دائرہ کار وسیع ہے، تاہم اس سال خصوصی توجہ پرفارمنگ آرٹس پر دی جا رہی ہے تاکہ ملائیشیا کے روایتی رقص اور موسیقی کو زیادہ مؤثر انداز میں متعارف کرایا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ پروگرام کے دوران جزیرہ نما ملائیشیا، صباح، سراواک اور اورنگ اصلی برادری سمیت مختلف علاقوں کے روایتی رقص پیش کیے گئے۔ ان کے مطابق یہی اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہے کہ عوام اور سیاح ملائیشیا کی ثقافتی رنگا رنگی کو ایک ہی مقام پر دیکھ سکیں۔
اس تقریب میں متعدد روایتی رقص پیش کیے گئے جن میں منٹیرا سمیراہ پادی، سگار بیرامی، زاپن، انانگ پائیونگ، جوگٹ برپاؤت کاسہ، لینٹرن ڈانس، سیوانگ، کولاسو اور انگالانگ مگوناتپ شامل تھے۔ یہ تمام رقص ملائیشیا کی مختلف ریاستوں اور ثقافتی روایات کی نمائندگی کرتے ہیں۔
رضی عمر نے مزید بتایا کہ سیترا ملائیشیا پروگرام ہر ریاست میں سال میں کم از کم تین مرتبہ منعقد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاہم اکثر مقامات پر اس سے زیادہ پروگرام بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس کا مقصد ملک بھر میں ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور نوجوان نسل کو مقامی فنون سے جوڑے رکھنا ہے۔
تقریب میں شریک غیر ملکی سیاحوں نے بھی پروگرام کو سراہا۔ الجیریا سے تعلق رکھنے والے سیاح فرید جودی نے کہا کہ اس تقریب نے انہیں ملائیشیا کی مختلف قومیتوں، ثقافتوں اور مذاہب کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ ان کے مطابق ایسے پروگرام نہ صرف سیاحوں کی دلچسپی بڑھاتے ہیں بلکہ ملک کی ثقافتی شناخت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔
اسی طرح چین کے صوبہ گانسو سے تعلق رکھنے والی سیاح رینی وی نے کہا کہ وہ خاص طور پر روایتی چینی ساز گوزینگ پر مبنی پیشکش سے بہت متاثر ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملائیشیا میں اپنی ثقافتی روایت سے جڑے ساز کو دیکھنا ان کے لیے ایک منفرد اور خوشگوار تجربہ تھا۔
یہ پروگرام اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ ملائیشیا مختلف ثقافتوں، زبانوں اور نسلی برادریوں پر مشتمل ایک متنوع معاشرہ ہے، جہاں روایتی فنون کو محفوظ رکھنے اور نئی نسل تک منتقل کرنے کے لیے سرکاری سطح پر مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سنٹرل مارکیٹ جیسے مقامات پر اس نوعیت کی تقریبات سیاحوں کے لیے اضافی کشش پیدا کرتی ہیں اور ملکی سیاحت کے فروغ میں بھی کردار ادا کرتی ہیں۔

COMMENTS