کوالالمپور: ملائیشیا میں صحت کے شعبے میں عملے کی کمی دور کرنے کے لیے انڈونیشیا سے نرسوں کی بھرتی پر غور کیے جانے کی خبر کے بعد سوشل میڈیا...
کوالالمپور: ملائیشیا میں صحت کے شعبے میں عملے کی کمی دور کرنے کے لیے انڈونیشیا سے نرسوں کی بھرتی پر غور کیے جانے کی خبر کے بعد سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ اس معاملے نے نہ صرف صحت کے شعبے بلکہ روزگار، اجرتوں، ہجرت اور افرادی قوت کے مستقبل سے متعلق سوالات کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔
حالیہ دنوں میں ملائیشیائی حکومت کی جانب سے یہ عندیہ دیا گیا کہ سرکاری اور نجی اسپتالوں میں طبی عملے کی کمی کو پورا کرنے کے لیے انڈونیشیائی نرسوں کو ملازمت دینے کا امکان زیر غور ہے۔ اس اعلان کے بعد مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عوام نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، جہاں بعض افراد نے اس اقدام کی حمایت کی جبکہ کچھ نے خدشات کا اظہار کیا۔
بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک سوشل میڈیا صارف نے دعویٰ کیا کہ اگر اسپتال کم تنخواہوں پر بیرون ملک سے نرسیں اور دیگر طبی کارکن بھرتی کرنے لگے تو مقامی طبی عملے کی اجرتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اسپتالوں کے پاس کم لاگت پر افرادی قوت دستیاب ہونے سے مقامی ملازمین کی بہتر تنخواہوں کے لیے مذاکراتی پوزیشن متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ خدشہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملائیشیا کے متعدد ڈاکٹرز اور نرسیں طویل عرصے سے نسبتاً کم تنخواہوں، زیادہ کام کے بوجھ اور محدود ترقی کے مواقع کے بارے میں شکایات کرتے رہے ہیں۔ صحت کے شعبے سے وابستہ کئی افراد کا مؤقف ہے کہ بہتر مراعات اور کام کے ماحول کی فراہمی کے بغیر مقامی افرادی قوت کو برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے اس معاملے کو مزید وسیع تناظر میں دیکھا۔ کچھ تبصروں میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اگر طبی شعبے میں غیر ملکی پیشہ ور افراد کی تعداد بڑھتی گئی تو مستقبل میں دیگر شعبوں جیسے انجینئرنگ، تعلیم اور دیگر سرکاری و نجی ملازمتوں میں بھی اسی نوعیت کی پالیسی اپنائی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب کئی افراد نے اس نقطۂ نظر سے اختلاف بھی کیا۔ بعض صارفین نے نشاندہی کی کہ غیر ملکی پیشہ ور افراد کے لیے ملائیشیا میں ملازمت حاصل کرنا اتنا آسان نہیں جتنا تصور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق غیر ملکی ماہرین کو ورک ویزا یا ایکسپیٹ ویزا حاصل کرنے کے لیے مخصوص شرائط پوری کرنا ہوتی ہیں، جن میں کم از کم تنخواہ کی حد بھی شامل ہے۔ اس لیے صرف غیر ملکی عملہ بھرتی کر کے مقامی اجرتوں میں نمایاں کمی لانا عملی طور پر آسان نہیں ہوگا۔
چند مبصرین نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ انڈونیشیا کے تربیت یافتہ طبی ماہرین کے پاس ملائیشیا کے علاوہ بھی متعدد بین الاقوامی مواقع موجود ہیں۔ امریکہ، یورپ، جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی طبی عملے کی مانگ پائی جاتی ہے، اس لیے یہ فرض کرنا درست نہیں کہ تمام غیر ملکی طبی کارکن صرف ملائیشیا کا رخ کریں گے۔
اس بحث کے دوران ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آیا، جس کا تعلق ملائیشیا میں "برین ڈرین" یا ہنرمند افرادی قوت کے بیرون ملک منتقل ہونے سے ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے ملائیشیائی ڈاکٹرز، نرسیں اور دیگر طبی ماہرین بہتر تنخواہوں اور کام کے حالات کی تلاش میں سنگاپور، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور مشرق وسطیٰ سمیت مختلف ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مقامی طبی عملے کی بیرون ملک منتقلی کا رجحان جاری رہتا ہے تو صرف غیر ملکی نرسوں کی بھرتی سے مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں ہوگا۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ مقامی صحت کے نظام کو اس حد تک مضبوط بنایا جائے کہ تربیت یافتہ افراد ملک میں ہی رہ کر خدمات انجام دینے کو ترجیح دیں۔
صحت کے شعبے سے متعلق مبصرین کے مطابق موجودہ بحث دراصل نرسوں کی بھرتی سے کہیں زیادہ وسیع مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر کوئی ملک اپنے تربیت یافتہ طبی ماہرین کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہو تو یہ صرف افرادی قوت کی کمی کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے نظام کے جائزے کا تقاضا کرتا ہے۔
اسی وجہ سے بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ غیر ملکی طبی عملے کی بھرتی ایک عارضی انتظام ہو سکتا ہے، لیکن طویل مدتی استحکام کے لیے مقامی ڈاکٹرز اور نرسوں کی تنخواہوں، کام کے ماحول اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔

COMMENTS