کوالالمپور: ملائیشیا میں ایک خاتون ای ہیلنگ ڈرائیور کی جانب سے اپنی نشست کے گرد نصب کی گئی آہنی حفاظتی باڑ سوشل میڈیا پر وسیع بحث کا موضو...
کوالالمپور: ملائیشیا میں ایک خاتون ای ہیلنگ ڈرائیور کی جانب سے اپنی نشست کے گرد نصب کی گئی آہنی حفاظتی باڑ سوشل میڈیا پر وسیع بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ ایک مسافر کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں ڈرائیور کی نشست کو دھاتی جالی نما ڈھانچے سے محفوظ بنایا گیا تھا، جس کے بعد ڈرائیوروں کی حفاظت، مسافروں کی سکیورٹی اور جرائم سے بچاؤ کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم "تھریڈز" پر ایک صارف نے شیئر کی، جس میں گاڑی کی اگلی نشست کے گرد ایک دھاتی حفاظتی ڈھانچہ نصب دکھائی دیتا ہے۔ اس ڈھانچے کا مقصد ڈرائیور اور پچھلی نشست پر بیٹھنے والے مسافروں کے درمیان جسمانی رکاوٹ پیدا کرنا ہے۔
ویڈیو شیئر کرنے والے مسافر نے لکھا کہ یہ ان کا پہلا تجربہ تھا جس میں انہوں نے کسی ای ہیلنگ گاڑی میں اس نوعیت کا حفاظتی انتظام دیکھا۔ ان کے مطابق خاتون ڈرائیور اپنی روزی کمانے کے لیے اپنی ذاتی گاڑی استعمال کرتی ہیں اور انہیں اپنی حفاظت کے لیے اس طرح کا انتظام کرنا پڑا۔
ویڈیو مختصر وقت میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور ہزاروں صارفین نے اس پر تبصرے کیے۔ متعدد افراد نے خاتون ڈرائیور کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ای ہیلنگ ڈرائیور، خاص طور پر خواتین، اکثر تنہا کام کرتی ہیں اور انہیں دورانِ ڈیوٹی مختلف سکیورٹی خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کئی صارفین نے اپنے ذاتی تجربات بھی شیئر کیے۔ ایک صارف نے دعویٰ کیا کہ اس کا دوست ای ہیلنگ ڈرائیور کے طور پر کام کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا تھا۔ ایک اور صارف نے بتایا کہ اس کے والد کو بھی ایک مسافر نے دورانِ ڈیوٹی لوٹ لیا تھا۔ ان تبصروں نے اس بحث کو مزید تقویت دی کہ ای ہیلنگ ڈرائیوروں کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت موجود ہے۔
حالیہ واقعے نے ایک مرتبہ پھر ای ہیلنگ کمپنیوں کے حفاظتی نظام، مسافروں کی شناخت کے طریقہ کار اور ڈرائیوروں کے تحفظ سے متعلق موجودہ انتظامات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کئی صارفین کا کہنا تھا کہ ڈرائیور بعض اوقات اپنی حفاظت کے لیے ذاتی سطح پر ایسے اقدامات کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
اگرچہ سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں لوگوں نے اس حفاظتی باڑ کی حمایت کی، تاہم بعض صارفین نے اس کے عملی اور حفاظتی پہلوؤں پر سوال بھی اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دھاتی جالی ہر صورت میں بہترین حل نہیں ہو سکتی۔
کچھ افراد نے تجویز دی کہ دھاتی باڑ کے بجائے شفاف ایکرائل سے بنی حفاظتی رکاوٹ زیادہ مؤثر اور محفوظ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق شفاف رکاوٹ ڈرائیور اور مسافر دونوں کے لیے بہتر بصری رابطہ برقرار رکھتی ہے اور ہنگامی حالات میں اضافی خطرات بھی کم ہو سکتے ہیں۔
ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی حملہ آور کے پاس چاقو یا قینچی ہو تو دھاتی جالی مکمل تحفظ فراہم نہیں کر سکتی۔ اسی طرح بعض افراد نے نشاندہی کی کہ اگر کسی حادثے کے بعد فوری طور پر گاڑی سے باہر نکلنے کی ضرورت پیش آئے تو مستقل دھاتی ڈھانچہ انخلا کو مشکل بنا سکتا ہے۔
ای ہیلنگ خدمات گزشتہ چند برسوں میں ملائیشیا سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں تیزی سے مقبول ہوئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ڈرائیوروں اور مسافروں کی حفاظت سے متعلق مختلف اقدامات بھی متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں شناختی تصدیق، سفر کی نگرانی، ہنگامی رابطہ بٹن اور مقام کی شیئرنگ جیسی سہولیات شامل ہیں۔ تاہم بعض ڈرائیور اپنی ذاتی حفاظت کے لیے اضافی انتظامات بھی اختیار کرتے ہیں۔
تاحال متعلقہ ای ہیلنگ کمپنی یا سرکاری اداروں کی جانب سے اس مخصوص حفاظتی ڈھانچے کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم وائرل ویڈیو نے ڈرائیوروں کی سکیورٹی، کام کے ماحول اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے عوامی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

COMMENTS