کوالالمپور: ملائیشیا میں ایک نوجوان ملازمہ کی جانب سے اپنے افسر کو واٹس ایپ پر "Okay" کے بجائے "Okiess" لکھ کر جو...
کوالالمپور: ملائیشیا میں ایک نوجوان ملازمہ کی جانب سے اپنے افسر کو واٹس ایپ پر
"Okay"
کے بجائے
"Okiess"
لکھ کر جواب دینا سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گیا۔ اس واقعے کے بعد دفتری ماحول میں پیشہ ورانہ اندازِ گفتگو، مختلف نسلوں کے درمیان رابطے کے فرق اور کام کی جگہ پر مواصلاتی آداب کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک جنریشن زی سے تعلق رکھنے والی ملازمہ نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ان کے باس چھٹی پر تھے، تاہم انہوں نے واٹس ایپ کے ذریعے ایک دفتری کام میں مدد طلب کی۔ ملازمہ نے جواب میں صرف
"Okiess"
لکھا، جسے وہ عام بول چال میں
"Okay"
کا دوستانہ اور غیر رسمی انداز قرار دیتی ہیں۔
ملازمہ کے مطابق اگلے روز جب ان کے باس دفتر واپس آئے تو انہوں نے اس جواب پر ناراضی کا اظہار کیا۔ باس نے انہیں ہدایت دی کہ آئندہ دفتری پیغامات میں
"Okiess"
کے بجائے
"Okay"
استعمال کیا جائے کیونکہ کام کی جگہ دوستوں کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کا ماحول نہیں ہوتی۔
ملازمہ نے اپنی پوسٹ میں اس واقعے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے باس کو مزاحیہ انداز میں "ڈائنوسار جنریشن" سے تعلق رکھنے والا قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر یہ اصطلاح اکثر بڑی عمر کے افراد کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ نوجوان نسل کی آن لائن زبان، مختصر الفاظ یا جدید اندازِ گفتگو سے کم واقف ہوتے ہیں۔
یہ پوسٹ سامنے آنے کے بعد مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہزاروں صارفین نے اپنی آراء کا اظہار کیا۔ کئی افراد نے کہا کہ دفتری ماحول میں رسمی اور واضح زبان استعمال کرنا پیشہ ورانہ رویے کا حصہ ہے، اس لیے سرکاری یا دفتری پیغامات میں ایسے الفاظ سے گریز کرنا بہتر ہوتا ہے جو دوستوں کے درمیان عام ہوں۔
دوسری جانب متعدد صارفین نے نوجوان ملازمہ کی حمایت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کی نوجوان نسل ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مختصر اور دوستانہ انداز میں گفتگو کرنے کی عادی ہے، اس لیے بعض اوقات یہی انداز غیر ارادی طور پر دفتری رابطوں میں بھی آ جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کے معاملات کو سختی کے بجائے رہنمائی کے ذریعے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
یہ واقعہ اس وسیع موضوع کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ مختلف نسلوں کے افراد کام کی جگہ پر رابطے کے مختلف انداز رکھتے ہیں۔ بڑی عمر کے ملازمین عموماً رسمی زبان اور روایتی دفتری آداب کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ نوجوان ملازمین ڈیجیٹل کلچر کے باعث نسبتاً غیر رسمی انداز اپناتے ہیں۔ یہی فرق بعض اوقات غلط فہمی یا اختلافِ رائے کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین افرادی قوت اور انسانی وسائل کے مطابق پیشہ ورانہ ماحول میں واضح، باوقار اور احترام پر مبنی رابطہ مؤثر ٹیم ورک کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ مختلف اداروں کی اپنی ثقافت اور پالیسی ہوتی ہے، تاہم اکثر تنظیمیں ملازمین کو دفتری پیغامات میں سادہ، واضح اور پیشہ ورانہ زبان استعمال کرنے کی ترغیب دیتی ہیں تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔
اسی طرح جدید دفاتر میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ مختلف نسلوں کے ملازمین ایک ہی ٹیم میں کام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ادارے مواصلاتی تربیت اور ورک پلیس ایٹی کیٹ پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ اس کا مقصد نہ صرف بہتر رابطہ قائم کرنا بلکہ ایک ایسا ماحول پیدا کرنا بھی ہے جہاں مختلف نسلوں کے ملازمین ایک دوسرے کے انداز کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
اگرچہ یہ واقعہ ایک مختصر واٹس ایپ پیغام سے شروع ہوا، لیکن اس نے سوشل میڈیا پر پیشہ ورانہ رابطوں، ڈیجیٹل زبان اور نسلوں کے درمیان فرق کے حوالے سے وسیع گفتگو کو جنم دیا۔ اس بحث سے یہ بات سامنے آئی کہ کام کی جگہ پر مؤثر رابطہ صرف الفاظ کا انتخاب نہیں بلکہ ادارے کی ثقافت، باہمی احترام اور پیشہ ورانہ توقعات سے بھی جڑا ہوتا ہے۔

COMMENTS