ملائیشیا میں تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ٹیناگنیتا نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران امیگریشن حراستی مراکز میں 465 افراد کی ا...
ملائیشیا میں تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ٹیناگنیتا نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران امیگریشن حراستی مراکز میں 465 افراد کی اموات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ان اموات میں 12 بچوں کی ہلاکت بھی شامل ہے، جو اس نظام میں موجود سنگین مسائل کی نشاندہی کرتی ہے۔
یہ اعداد و شمار پارلیمنٹ میں دیے گئے ایک سرکاری جواب کے بعد سامنے آئے، جس کے بعد ٹیناگنیتا نے ایک کھلا خط جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان اموات کو صرف اعداد و شمار کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ یہ ایسے افراد تھے جو حکومتی تحویل میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
تنظیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر گلورین ڈاس کے مطابق حراست میں ہونے والی ہر موت ایک المیہ ہے، جبکہ پانچ سال میں 465 اموات امیگریشن حراستی نظام کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں قومی سطح پر جوابدہی اور مؤثر اصلاحات کی ضرورت ہے۔
ٹیناگنیتا نے یاد دلایا کہ وہ 1996 سے مسلسل ملائیشیا کے امیگریشن حراستی مراکز کے حالات پر آواز اٹھاتی رہی ہے۔ تنظیم کے مطابق تقریباً تین دہائیاں قبل بھی حکومت کو جمع کرائے گئے میمورنڈم میں مراکز میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں، ناکافی طبی سہولیات، صفائی کے مسائل، طویل حراست اور شفافیت کی کمی جیسے مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ مختلف حکومتوں نے وقتاً فوقتاً ان خدشات کو تسلیم کیا، تاہم بنیادی نوعیت کی اصلاحات عمل میں نہیں آ سکیں۔ اسی وجہ سے آج بھی متعدد مسائل برقرار ہیں اور اموات کا سلسلہ ختم نہیں ہو سکا۔
بیان میں کہا گیا کہ امیگریشن حراست میں موجود زیادہ تر افراد پر سنگین جرائم کے مقدمات نہیں ہوتے۔ ان میں سے کئی افراد صرف امیگریشن سے متعلق انتظامی خلاف ورزیوں، جیسے درست سفری دستاویزات نہ ہونا، ویزا کی مدت ختم ہو جانا یا بھرتی کے نظام میں موجود خامیوں کی وجہ سے غیر دستاویزی حیثیت اختیار کرنے کے باعث زیر حراست ہوتے ہیں۔
ٹیناگنیتا نے سوال اٹھایا کہ ایسے افراد کو طویل عرصے تک حراست میں رکھنے کے بجائے ان کے معاملات جلد نمٹانے، محفوظ وطن واپسی، قانونی دستاویزات یا بین الاقوامی تحفظ فراہم کرنے کے متبادل طریقے کیوں اختیار نہیں کیے جاتے۔ تنظیم کے مطابق امیگریشن حراست کا مقصد افراد کو غیر معینہ مدت تک قید رکھنا نہیں ہونا چاہیے۔
بیان میں خاص طور پر 12 بچوں کی اموات کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ بچوں کو امیگریشن حراست میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔ تنظیم نے حکومت پر زور دیا کہ بچوں کی حراست فوری طور پر ختم کی جائے اور ان کے لیے کمیونٹی پر مبنی متبادل نظام اپنایا جائے تاکہ ان کے بہترین مفادات کا تحفظ ممکن ہو سکے۔
ٹیناگنیتا نے مزید کہا کہ گزشتہ تقریباً 30 برسوں میں وہ متعدد سفارشات، رپورٹس اور میمورنڈم حکومت کو پیش کر چکی ہے، لیکن ان پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ تنظیم کے مطابق مسائل اور ان کے ممکنہ حل پہلے ہی واضح ہیں، اب ضرورت صرف سیاسی عزم اور عملی اقدامات کی ہے۔
تنظیم نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ اگر امیگریشن حراستی نظام میں اصلاحات نہ کی گئیں تو مستقبل میں بھی قیمتی جانوں کا ضیاع جاری رہ سکتا ہے۔ اس لیے انسانی وقار، شفافیت، صحت اور جوابدہی کو ترجیح دیتے ہوئے موجودہ نظام کا جامع جائزہ لینا ضروری ہے۔

COMMENTS