کوالالمپور: ملائیشیا کی وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے یکم اگست 2026 سے نئی ہائبرڈ ورکنگ پالیسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے تح...
کوالالمپور: ملائیشیا کی وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے یکم اگست 2026 سے نئی ہائبرڈ ورکنگ پالیسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ملازمین ہفتے میں دو دن گھر یا منظور شدہ مقام سے کام کریں گے جبکہ تین دن دفتر میں اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد سرکاری شعبے میں جدید ورک کلچر کو فروغ دینا اور خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
ملائیشیا کے پبلک سروس ڈیپارٹمنٹ نے 26 جون کو جاری بیان میں بتایا کہ کابینہ نے "ہائبرڈ ورکنگ ڈے" کو سرکاری ملازمت کے نئے معمول کے طور پر منظور کر لیا ہے۔ اس نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد سابقہ ورک فرام ہوم انتظامات کی جگہ یہی نظام اختیار کیا جائے گا۔
بیان کے مطابق سرکاری ملازمین کے دفتر میں حاضری کے دن ہر ریاست کے ہفتہ وار تعطیل کے نظام کے مطابق طے کیے جائیں گے۔ جن ریاستوں میں اتوار ہفتہ وار تعطیل ہوتا ہے وہاں ملازمین کے لیے پیر اور جمعہ کو دفتر میں موجود ہونا لازمی ہوگا۔ جبکہ ریاست کیدہ، کیلانتان اور ترینگانو، جہاں جمعہ ہفتہ وار تعطیل ہے، وہاں سرکاری ملازمین کو اتوار اور جمعرات کو دفتر میں حاضر ہونا ہوگا۔
پبلک سروس ڈیپارٹمنٹ نے واضح کیا کہ گھر سے یا کسی منظور شدہ مقام سے کام کرنے کی اجازت متعلقہ ادارے کی عملی ضروریات اور کام کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے دی جائے گی۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ عوامی خدمات کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
حکام کے مطابق نئی پالیسی کے ساتھ ایک خصوصی مانیٹرنگ سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا، جس کے ذریعے ملازمین کی کارکردگی، شفافیت، کام کی رفتار اور سرکاری خدمات کے معیار کی نگرانی کی جائے گی۔ اس نظام میں ڈیجیٹل ٹولز اور کارکردگی کی جانچ کے جدید طریقوں سے استفادہ کیا جائے گا تاکہ سرکاری ادارے زیادہ مؤثر انداز میں کام کر سکیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ہائبرڈ ورکنگ ڈے وسیع تر پبلک سروس اصلاحاتی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد سرکاری شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، ڈیجیٹل تبدیلی کو فروغ دینا اور کام کرنے کے طریقہ کار کو مزید لچکدار بنانا ہے۔
عالمی سطح پر بھی کئی ممالک سرکاری اور نجی اداروں میں ہائبرڈ ورکنگ ماڈل اپنا رہے ہیں، جہاں ملازمین دفتر اور گھر دونوں مقامات سے کام کرتے ہیں۔ اس طرزِ عمل کا مقصد ملازمین کی سہولت، کام اور ذاتی زندگی کے درمیان بہتر توازن قائم کرنا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
ملائیشیا کی حکومت کا مؤقف ہے کہ نئی پالیسی صرف سہولت فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس کے ذریعے عوامی خدمات کے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے انتظامی نظام کو زیادہ مؤثر اور جوابدہ بنایا جائے گا۔ حکام کے مطابق متعلقہ ادارے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہائبرڈ نظام کے باوجود سرکاری خدمات معمول کے مطابق جاری رہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر اس پالیسی پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کیا گیا تو اس سے نہ صرف سرکاری ملازمین کو کام کرنے میں زیادہ لچک ملے گی بلکہ ڈیجیٹل گورننس اور جدید انتظامی نظام کے فروغ میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ ہر ادارہ اپنی عملی ضروریات کے مطابق اس نظام کو نافذ کرے گا تاکہ عوامی خدمات پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔

COMMENTS