کوالالمپور: ملائیشیا میں کاروباری حلقوں اور بنگلہ دیشی تارکینِ وطن نے ایک بار پھر کارکنوں کے لیے لیبر مارکیٹ دوبارہ کھولنے اور غیر دستاویزی...
کوالالمپور: ملائیشیا میں کاروباری حلقوں اور بنگلہ دیشی تارکینِ وطن نے ایک بار پھر کارکنوں کے لیے لیبر مارکیٹ دوبارہ کھولنے اور غیر دستاویزی کارکنوں کو قانونی حیثیت دینے کے لیے ریگولرائزیشن پروگرام متعارف کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان رواں ماہ ملائیشیا کے سرکاری دورے پر آنے والے ہیں۔
ملائیشیا سعودی عرب کے بعد بنگلہ دیشی کارکنوں کے لیے دوسرا بڑا بیرونِ ملک روزگار کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اندازوں کے مطابق اس وقت ملائیشیا میں تقریباً 15 لاکھ بنگلہ دیشی مقیم ہیں، جن میں قانونی اور غیر قانونی دونوں حیثیت رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ ان کارکنوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر بنگلہ دیش کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
تاہم 2024 سے "کالنگ ویزا" نظام کے تحت نئی بھرتیوں کی معطلی اور 2023 سے ریگولرائزیشن پروگراموں کے بند ہونے کے باعث ہزاروں کارکن غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ دوسری جانب ملائیشیا کی مختلف صنعتوں اور کاروباری شعبوں کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا بھی ہے۔
کمیونٹی ذرائع کے مطابق تقریباً ایک لاکھ غیر دستاویزی بنگلہ دیشی کارکن جرمانے ادا کرنے اور اپنی جمع پونجی ختم ہونے کے بعد واپس اپنے ملک جا چکے ہیں۔ کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ بھرتیوں کی مسلسل بندش نے پیداوار اور کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے، جبکہ دیگر ممالک سے آنے والے کارکن ابھی تک اس خلا کو مکمل طور پر پُر نہیں کر سکے۔
اگرچہ ملائیشیا نیپال اور بھارت سمیت بعض دیگر ممالک سے کارکنوں کی بھرتی جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن بنگلہ دیش سے نئی بھرتیوں کا عمل تاحال رکا ہوا ہے۔ اس تعطل کی ایک اہم وجہ فارن ورکرز سینٹرلائزڈ مینجمنٹ سسٹم سے متعلق جاری بحث ہے۔ ناقدین کے مطابق ماضی میں اس نظام نے بعض گروہوں کو فائدہ پہنچایا اور کارکنوں کے لیے ہجرت کے اخراجات میں اضافہ کیا۔
عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) بھی حالیہ عرصے میں شفاف، کارکن دوست اور اخلاقی اصولوں پر مبنی بھرتی نظام کی ضرورت پر زور دے چکا ہے تاکہ مزدوروں کی محفوظ اور منظم نقل مکانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ملائیشیا کی کمپنی رزقی سندیریان برہاد کے منیجنگ ڈائریکٹر حاجی حسن نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومتوں کو جلد از جلد کالنگ ویزا اور ریگولرائزیشن پروگرام دوبارہ شروع کرنا چاہیے تاکہ یہ اہم لیبر مارکیٹ مزید تاخیر کی وجہ سے متاثر نہ ہو۔
کمیونٹی رہنما اور تاجر بی ایم رسل رانا نے کہا کہ بنگلہ دیشی کارکن دونوں ممالک کی معیشتوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ بھرتی مہم کے دوران تقریباً پانچ لاکھ بنگلہ دیشی کارکنوں کو ملائیشیا میں روزگار ملا تھا، جس کے نتیجے میں ترسیلاتِ زر میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملائیشیا کا ماحول، ثقافت، مذہبی آزادی، سیکیورٹی اور روزگار کے مواقع بنگلہ دیشی کارکنوں کے لیے اسے ایک پرکشش منزل بناتے ہیں۔ اسی وجہ سے بہت سے افراد لیبر مارکیٹ دوبارہ کھلنے کے منتظر ہیں۔
اب تمام نظریں 21 اور 22 جون کو ہونے والے بنگلہ دیشی وزیر اعظم طارق رحمان کے متوقع دورۂ ملائیشیا پر مرکوز ہیں۔ یہ ان کے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلا غیر ملکی دورہ ہوگا۔ بنگلہ دیشی کمیونٹی کو امید ہے کہ اس دورے کے دوران مزدوروں سے متعلق طویل عرصے سے زیر التوا مسائل پر پیش رفت ہو سکتی ہے۔
ملائیشیا جبو دل کے صدر جاسم الدین کا کہنا ہے کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک مقیم بنگلہ دیشیوں کے مسائل کے حل میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مزدوروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور موجودہ مشکلات میں کمی آئے گی۔
این سی پی ڈائسپورا الائنس ملائیشیا کے کنوینر انجینئر انعام الحق نے بھی اس امید کا اظہار کیا کہ غیر دستاویزی کارکنوں کو قانونی حیثیت دینے اور شفاف بھرتی نظام قائم کرنے کے حوالے سے مثبت پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات ہزاروں خاندانوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں لیبر مائیگریشن، امیگریشن، تجارت، سرمایہ کاری، ہنرمند افرادی قوت کی برآمد اور علاقائی تعاون سمیت مختلف موضوعات زیر بحث آئیں گے۔
بنگلہ دیش کے وزیر برائے تارکین وطن فلاح و بہبود اور بیرونِ ملک روزگار عارف الحق چوہدری نے حال ہی میں کہا تھا کہ لیبر مارکیٹ کا مسئلہ جلد حل ہونے کی توقع ہے اور آئندہ چند ہفتوں میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔
پس منظر کے طور پر ملائیشیا نے 2008 میں بنگلہ دیشی کارکنوں کے لیے لیبر مارکیٹ بند کی تھی، جسے 2016 میں دوبارہ کھولا گیا۔ بعد ازاں 2018 میں بے ضابطگیوں کے الزامات کے باعث اسے دوبارہ معطل کیا گیا، پھر 2022 میں بھرتیوں کا عمل بحال ہوا، لیکن 2024 میں ایک مرتبہ پھر نئی بھرتیوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔
اس وقت بنگلہ دیشی کارکن، کاروباری ادارے اور تارکین وطن کی تنظیمیں اس امید کا اظہار کر رہی ہیں کہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کے نتیجے میں لیبر مارکیٹ کی بحالی، غیر دستاویزی کارکنوں کے لیے قانونی راستے اور دونوں ممالک کے درمیان افرادی قوت کے تعاون کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ممکن ہو سکے گا۔

COMMENTS