ملائیشیا کی حکومت ملک کے بین الاقوامی پاسپورٹ کا نیا ورژن متعارف کرانے جا رہی ہے، جس میں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق مجموعی طور پر 94 سیکیو...
ملائیشیا کی حکومت ملک کے بین الاقوامی پاسپورٹ کا نیا ورژن متعارف کرانے جا رہی ہے، جس میں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق مجموعی طور پر 94 سیکیورٹی فیچرز شامل کیے گئے ہیں۔ وزیر اعظم داتوک سری انور ابراہیم منگل کے روز پارلیمنٹ کی لابی میں اس نئے پاسپورٹ کا باضابطہ افتتاح کریں گے۔
حکومت کے مطابق نئے پاسپورٹ کی تیاری کا مقصد قومی شناختی دستاویزات کو مزید محفوظ بنانا اور جعلسازی کے امکانات کو کم سے کم کرنا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر سفری دستاویزات کی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
نئے پاسپورٹ میں موجود سیکیورٹی فیچرز کی تعداد موجودہ پاسپورٹ کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھا دی گئی ہے۔ اس وقت استعمال ہونے والے ملائیشین پاسپورٹ میں 49 سیکیورٹی فیچرز موجود ہیں، جبکہ نئے ورژن میں یہ تعداد بڑھا کر 94 کر دی گئی ہے۔ اس اضافے کا مقصد پاسپورٹ کو جعلسازی، غیر قانونی نقل اور دستاویزات میں ردوبدل جیسے جرائم سے زیادہ محفوظ بنانا ہے۔
سرکاری معلومات کے مطابق نئے پاسپورٹ میں متعدد جدید حفاظتی خصوصیات شامل کی گئی ہیں۔ ان میں ہولوگرافک عناصر، الٹرا وائلٹ (یو وی) پرنٹنگ، پوشیدہ بصری نشانات اور فرانزک سطح کی خصوصی سیکیورٹی ٹیکنالوجی شامل ہے۔ یہ فیچرز متعلقہ حکام کو دستاویز کی فوری اور مؤثر تصدیق میں مدد دیں گے، جبکہ جعلسازی کرنے والوں کے لیے اس کی نقل تیار کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
ملائیشیا کا پاسپورٹ پہلے ہی دنیا کے مضبوط ترین پاسپورٹس میں شمار کیا جاتا ہے، جو اپنے شہریوں کو متعدد ممالک میں ویزا فری یا آسان سفری سہولت فراہم کرتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نئے سیکیورٹی فیچرز اس عالمی ساکھ کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے اور بین الاقوامی امیگریشن معیارات سے ہم آہنگ رہنے میں معاون ہوں گے۔
حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً سفری دستاویزات میں جدید ٹیکنالوجی شامل کی جاتی رہی ہے تاکہ بدلتے ہوئے عالمی سیکیورٹی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔ دنیا کے کئی ممالک بھی اپنے پاسپورٹس میں بائیومیٹرک اور جدید حفاظتی نظام متعارف کرا رہے ہیں، جس کے باعث ملائیشیا نے بھی اپنے پاسپورٹ کو مزید جدید بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اگرچہ نئے پاسپورٹ کی سیکیورٹی خصوصیات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، تاہم حکومت کی جانب سے اس مرحلے پر پاسپورٹ کی فیس، اجرا کے طریقہ کار یا موجودہ پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے تبدیلی کے کسی نئے ضابطے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ توقع ہے کہ ان امور سے متعلق مزید تفصیلات افتتاحی تقریب یا بعد میں متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کی جائیں گی۔
ماہرین کے مطابق جدید حفاظتی فیچرز سے نہ صرف قومی سلامتی کو تقویت ملے گی بلکہ بین الاقوامی سفر کے دوران ملائیشین شہریوں کی شناخت کی تصدیق بھی زیادہ محفوظ اور مؤثر انداز میں کی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ امیگریشن حکام کے لیے جعلی دستاویزات کی نشاندہی کرنا بھی پہلے کے مقابلے میں آسان ہوگا۔

COMMENTS