کوالالمپور: ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے لیے مجوزہ یونیورسل ریکروٹمنٹ ایڈوانسڈ پلیٹ فارم ا یک بار پھر قومی سطح پر بحث کا موضوع ...
کوالالمپور: ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے لیے مجوزہ یونیورسل ریکروٹمنٹ ایڈوانسڈ پلیٹ فارم ایک بار پھر قومی سطح پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ سات ارکانِ پارلیمنٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس نظام پر عملدرآمد اس وقت تک مؤخر کیا جائے جب تک اس کی خریداری، انتظامی ڈھانچے، شفافیت اور کارکنوں کے تحفظ سے متعلق تمام معلومات عوام اور پارلیمنٹ کے سامنے پیش نہیں کی جاتیں۔
ارکانِ پارلیمنٹ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ٹوراپ صرف ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم نہیں بلکہ ایسا نظام ہے جو غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی، آجروں اور کارکنوں کے درمیان مطابقت، امیگریشن کے مراحل، کارکنوں کی نقل و حرکت، بھرتی کی لاگت، مزدوروں کے حقوق اور حساس ذاتی معلومات سے براہِ راست متعلق ہوگا۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے نظام کا فیصلہ مکمل شفافیت کے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔
بیان میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آیا وفاقی کابینہ نے ٹوراپ منصوبے کی باضابطہ منظوری دی ہے یا نہیں۔ ارکانِ پارلیمنٹ نے اس بات پر بھی وضاحت طلب کی کہ موجودہ فارین ورکرز سینٹرلائزڈ منیجمنٹ سسٹم سے وابستہ کمپنی بیسٹینیٹ سیندرن برہاد کو ایک مرتبہ پھر غیر ملکی کارکنوں کے بھرتی کے نظام میں مرکزی کردار کیوں دیا جا رہا ہے۔
ارکانِ پارلیمنٹ نے تسلیم کیا کہ حکومت کا یہ مقصد قابلِ حمایت ہے کہ غیر ضروری درمیانی ایجنٹوں کا کردار کم کیا جائے، آجروں اور کارکنوں کو براہِ راست جوڑا جائے اور بھرتی کے اخراجات میں کمی لائی جائے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ صرف ڈیجیٹل نظام متعارف کروا دینا اصلاحات کی ضمانت نہیں دیتا۔ اگر شفافیت، مؤثر نگرانی اور جوابدہی موجود نہ ہو تو پرانے مسائل نئے انداز میں برقرار رہ سکتے ہیں۔
بیان میں ماضی کے بعض انتظامی معاملات کا بھی حوالہ دیا گیا۔ ارکانِ پارلیمنٹ کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایف ڈبلیو سی ایم ایس کئی برس تک حکومت کے ساتھ باضابطہ معاہدے کے بغیر چلتا رہا۔ اسی طرح آڈیٹر جنرل کی 2022 کی رپورٹ میں بھی اس نظام کے انتظام اور نگرانی کے حوالے سے مختلف کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی تھی، جن میں صارفین کے اختیارات اور سسٹم کنٹرول سے متعلق مسائل شامل تھے۔
انہوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ جب حکومت نے جون 2024 سے جنوری 2031 تک بیسٹینیٹ کے ساتھ معاہدہ کر رکھا ہے، تو اسی کمپنی کو ایک نئے پلیٹ فارم کے لیے دوبارہ کیوں زیر غور لایا جا رہا ہے۔ ارکانِ پارلیمنٹ نے یہ بھی پوچھا کہ کیا یہ منصوبہ براہِ راست مذاکرات کے ذریعے دیا جا رہا ہے یا اسے عوامی و نجی شراکت داری کے تحت نافذ کیا جائے گا۔
بیان میں حکومت سے یہ وضاحت بھی طلب کی گئی کہ جب موجودہ ایف ڈبلیو سی ایم ایس فعال ہے اور نیشنل انٹیگریٹڈ امیگریشن سسٹم بھی تیار کیا جا رہا ہے، تو ایک اور نیا پلیٹ فارم متعارف کرانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ان کے مطابق حکومت کو یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ حساس ذاتی معلومات کا تحفظ کس طرح یقینی بنایا جائے گا اور غیر ملکی کارکنوں کو غیر قانونی یا ضرورت سے زیادہ بھرتی فیس سے بچانے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
ارکانِ پارلیمنٹ نے اس بات پر زور دیا کہ ملائیشیا کو غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے نظام میں حقیقی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ غیر ضروری اخراجات، قرض کے بوجھ اور استحصالی طریقہ کار کا خاتمہ ہو۔ تاہم ان کے مطابق اصلاحات کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ متعدد درمیانی ایجنٹوں کی جگہ ایک ہی نجی ادارہ پورے نظام پر غالب آ جائے۔
اسی تناظر میں انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹوراپ کے نفاذ کو اس وقت تک روکا جائے جب تک پارلیمنٹ اور عوام کو اس منصوبے کے خریداری کے طریقہ کار، تجارتی شرائط، انتظامی فریم ورک، کارکنوں کے تحفظ اور ڈیٹا سیکیورٹی کے بارے میں مکمل معلومات فراہم نہیں کر دی جاتیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ شفاف، مسابقتی اور جوابدہ نظام ہی غیر ملکی کارکنوں اور آجروں دونوں کے مفاد میں ہوگا۔

COMMENTS