کوالالمپور: ملائیشیا میں رواں سال یکم جنوری سے شروع کیے گئے ریفیوجی رجسٹریشن ڈاکومنٹ پروگرام (ڈی پی پی) کے تحت اب تک 4,010 پناہ گزینوں او...
کوالالمپور: ملائیشیا میں رواں سال یکم جنوری سے شروع کیے گئے ریفیوجی رجسٹریشن ڈاکومنٹ پروگرام (ڈی پی پی) کے تحت اب تک 4,010 پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد کو رجسٹر کیا جا چکا ہے۔ حکام کے مطابق رجسٹر ہونے والوں کی اکثریت میانمار سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز رواں سال کے دوسرے نصف میں متوقع ہے۔
وزیر داخلہ داتوک سری سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے پارلیمنٹ میں تحریری جواب دیتے ہوئے بتایا کہ پروگرام کے پہلے مرحلے میں بنیادی طور پر ان افراد کو شامل کیا گیا جو امیگریشن حراستی مراکز میں موجود تھے، خصوصاً روہنگیا برادری سے تعلق رکھنے والے میانمار کے شہری۔
وزیر کے مطابق رجسٹر کیے گئے 4,010 افراد میں سے 4,008 میانمار کے شہری ہیں، جبکہ ایک شخص سوڈان اور ایک شام سے تعلق رکھتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق رجسٹرڈ افراد میں 2,746 بالغ مرد، 632 بالغ خواتین، 392 لڑکے اور 240 لڑکیاں شامل ہیں۔
یہ تفصیلات پارلیمنٹ کے رکن ولیم لیونگ جی کین کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں فراہم کی گئیں، جس میں ریفیوجی رجسٹریشن ڈاکومنٹ پروگرام کے تحت رجسٹر ہونے والے افراد کی تعداد اور پیش رفت کے بارے میں معلومات طلب کی گئی تھیں۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ پروگرام میں شامل بالغ افراد کو مرحلہ وار ریاست پیراک کے شہر بیدور میں قائم خصوصی حراستی مرکز منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس مرکز میں ریفیوجی اسٹیٹس ڈیٹرمینیشن (آر ایس ڈی) یعنی پناہ گزین کی حیثیت کے تعین کا عمل مکمل کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بیدور مرکز میں ایک وقت میں 400 افراد کو رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔ 31 مئی 2026 تک مجموعی طور پر 101 افراد کو اس مرکز منتقل کیا جا چکا ہے، جن میں سے 78 افراد کو پروگرام کے تحت باضابطہ طور پر پناہ گزین تسلیم کیا گیا۔
سیف الدین نصیون اسماعیل کے مطابق جن افراد کی پناہ گزین حیثیت تسلیم کی جائے گی، ان کی رہائی امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے موجودہ قانونی طریقہ کار کے مطابق عمل میں لائی جائے گی۔
پروگرام کے پہلے مرحلے کا مقصد ان افراد کی رجسٹریشن اور جانچ پڑتال تھا جو پہلے ہی حراستی مراکز میں موجود تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے پناہ گزینوں اور دیگر غیر قانونی تارکین وطن کے درمیان واضح فرق قائم کرنے میں مدد ملے گی، جس سے پالیسی سازی اور انتظامی امور مزید مؤثر ہو سکیں گے۔
وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ پروگرام کا دوسرا مرحلہ رواں سال کے دوسرے نصف میں شروع کیا جائے گا۔ اس مرحلے میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے کارڈ ہولڈرز اور وہ افراد شامل ہوں گے جو حراستی مراکز سے باہر رہتے ہوئے خود کو پناہ گزین قرار دیتے ہیں۔
ان کے مطابق دوسرے مرحلے کے لیے مخصوص ریفیوجی اسٹیٹس ڈیٹرمینیشن مراکز قائم کیے جائیں گے، جن کے مقامات کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کا ہدف ہے کہ اس زمرے میں شامل تمام افراد کی رجسٹریشن کا عمل 31 دسمبر 2029 تک مکمل کر لیا جائے۔
ملائیشیا گزشتہ کئی برسوں سے مختلف ممالک، خصوصاً میانمار سے آنے والے پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ روہنگیا برادری کی بڑی تعداد بہتر تحفظ اور محفوظ زندگی کی تلاش میں ملائیشیا کا رخ کرتی رہی ہے۔ تاہم ملک اب تک 1951 کے اقوام متحدہ کے ریفیوجی کنونشن کا باقاعدہ رکن نہیں ہے، جس کی وجہ سے پناہ گزینوں کی قانونی حیثیت اور حقوق کے حوالے سے مختلف انتظامی چیلنجز موجود ہیں۔
حالیہ برسوں میں حکومت نے پناہ گزینوں کی رجسٹریشن اور شناخت کے عمل کو زیادہ منظم بنانے کی کوششیں تیز کی ہیں تاکہ ان افراد کے بارے میں درست معلومات حاصل کی جا سکیں اور مستقبل کی پالیسی سازی میں آسانی ہو۔
ماہرین کے مطابق رجسٹریشن کا عمل پناہ گزینوں کی تعداد، ان کی ضروریات اور قانونی حیثیت کے تعین میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جبکہ حکومتی اداروں کو بھی ان افراد سے متعلق بہتر منصوبہ بندی کا موقع فراہم کرتا ہے۔

COMMENTS