کوالالمپور: ملائیشیا میں غیر ملکی مزدوروں کی بھرتی کے موجودہ نظام اور اس پر آنے والے بھاری اخراجات کے حوالے سے ایک نئی بحث سامنے آئی ہے۔ ای...
کوالالمپور: ملائیشیا میں غیر ملکی مزدوروں کی بھرتی کے موجودہ نظام اور اس پر آنے والے بھاری اخراجات کے حوالے سے ایک نئی بحث سامنے آئی ہے۔ ایک تجزیاتی مضمون میں یہ مؤقف پیش کیا گیا ہے کہ جب ہزاروں روہنگیا پناہ گزین پہلے ہی ملائیشیا میں موجود ہیں تو ملک کو بیرونِ ملک سے مزید کارکن لانے پر اربوں رنگٹ خرچ کرنے کے بجائے ان افراد کو قانونی طریقے سے روزگار فراہم کرنے کے امکانات پر غور کرنا چاہیے۔
مضمون میں وزیر برائے انسانی وسائل اسٹیون سم سے منسوب اس خیال کا ذکر کیا گیا ہے کہ ملائیشیا میں پہلے سے موجود پناہ گزینوں کو مناسب تربیت، قانونی دستاویزات اور ملازمت کے مواقع فراہم کرکے انہیں ملکی معیشت کا باقاعدہ حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ مضمون کے مطابق اس تجویز کا مقصد غیر ملکی کارکنوں پر انحصار کم کرنا اور مقامی سطح پر دستیاب افرادی قوت کو بہتر انداز میں استعمال کرنا ہے۔
تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ کئی برسوں سے ملائیشیا کی صنعت، تعمیرات، زراعت، مینوفیکچرنگ اور ہوٹلنگ سمیت مختلف شعبے بنگلہ دیش، نیپال، انڈونیشیا اور دیگر ممالک سے آنے والے کارکنوں پر انحصار کرتے رہے ہیں۔ ان کارکنوں کی بھرتی، ویزا، طبی معائنوں، لیویز اور دیگر انتظامی مراحل پر حکومت اور نجی شعبے دونوں کو نمایاں اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
مضمون میں یہ مؤقف بھی پیش کیا گیا ہے کہ اگر ملک میں پہلے سے موجود روہنگیا پناہ گزینوں کو قانونی طور پر کام کرنے کی اجازت دی جائے تو بھرتی کے کئی اضافی اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی کاروباری اداروں کو ایسے افراد دستیاب ہوں گے جو پہلے ہی مقامی ماحول، زبان اور معاشرتی نظام سے کسی حد تک واقف ہیں۔
پس منظر کے طور پر مضمون میں بتایا گیا ہے کہ ملائیشیا 1951 کے ریفیوجی کنونشن کا رکن نہیں، اس لیے ملک میں موجود زیادہ تر پناہ گزینوں کو باقاعدہ قانونی حیثیت حاصل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ رسمی ملازمت حاصل نہیں کر سکتے اور اکثر غیر رسمی شعبوں میں کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
تجزیے میں ریستورانوں کے شعبے کی مثال بھی دی گئی ہے، جہاں کاروباری تنظیموں نے ماضی میں افرادی قوت کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے یہ رائے دی تھی کہ اگر قانونی تقاضے پورے کیے جائیں تو تربیت یافتہ روہنگیا کارکن اس خلا کو جزوی طور پر پورا کر سکتے ہیں۔ مضمون کے مطابق کئی مقامی کاروباروں کو مناسب تعداد میں کارکن نہ ملنے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔
مضمون میں عوامی خدشات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں سیکیورٹی، سماجی ہم آہنگی اور غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلق سوالات شامل ہیں۔ تاہم مصنف کا کہنا ہے کہ ان خدشات کا جائزہ حقائق اور سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر پناہ گزین قانونی نظام کے تحت کام کریں تو حکومت ان کی رجسٹریشن، نگرانی اور روزگار کے معاملات کو زیادہ مؤثر انداز میں منظم کر سکتی ہے۔
مصنف نے یہ بھی لکھا ہے کہ کسی بھی ممکنہ پالیسی کے نفاذ کے لیے وزارتِ انسانی وسائل، وزارتِ داخلہ اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں کے درمیان قریبی تعاون ضروری ہوگا تاکہ شناخت، ورک پرمٹ، بایومیٹرک رجسٹریشن اور دیگر قانونی تقاضے مکمل کیے جا سکیں۔
مضمون کے مطابق دنیا کے کئی ممالک اب پناہ گزینوں کو صرف انسانی امداد کا معاملہ نہیں بلکہ ممکنہ افرادی قوت کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔ مصنف کا مؤقف ہے کہ مناسب تربیت اور قانونی تحفظ کے ذریعے ایسے افراد کو قومی معیشت میں شامل کیا جا سکتا ہے، جبکہ غیر قانونی ملازمتوں اور استحصال کے امکانات بھی کم کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم مضمون میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ یہ ایک پالیسی تجویز اور عوامی بحث کا حصہ ہے، نہ کہ ملائیشیا کی حکومت کا حتمی فیصلہ۔ اس معاملے پر مختلف سیاسی، قانونی، سماجی اور معاشی پہلوؤں پر مزید غور و خوض کی ضرورت ہوگی۔

COMMENTS