کوالالمپور: ملائیشیا میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے صارفین کی عمر کی تصدیق کے قوانین پر عمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، اور ان قوانین ک...
کوالالمپور: ملائیشیا میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے صارفین کی عمر کی تصدیق کے قوانین پر عمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، اور ان قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ کمپنیوں کو ایک کروڑ رنگٹ تک مالی جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بدھ کے روز ملائیشیا کی پارلیمنٹ (دیوان راکیت) میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر مواصلات داتوک فہمی فاضل نے بتایا کہ آن لائن سیفٹی ایکٹ 2025 (ایکٹ 866) کے تحت ملائیشین کمیونیکیشنز اینڈ ملٹی میڈیا کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ان سروس فراہم کنندگان کے خلاف کارروائی کرے جو قانون میں درج عمر کی تصدیق سمیت دیگر حفاظتی تقاضوں پر عمل نہیں کرتے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اگر کسی لائسنس یافتہ ایپلی کیشن سروس فراہم کنندہ کو عدم تعمیل کا نوٹس جاری کیا جاتا ہے تو اسے یا تو عائد کردہ مالی جرمانہ ادا کرنا ہوگا یا پھر کمیشن کے سامنے اپنے مؤقف کے حق میں درخواست جمع کرانی ہوگی تاکہ فیصلے کا ازسرنو جائزہ لیا جا سکے۔
فہمی فاضل نے کہا کہ ایکٹ 866 کے پارٹ 3 کی خلاف ورزی کی صورت میں کمپنیوں پر 10 ملین رنگٹ تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ یہ اختیار قانون کی دفعہ 39 کے تحت دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کا مقصد آن لائن پلیٹ فارمز کو ذمہ دار بنانا اور خاص طور پر کم عمر صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
یہ وضاحت انہوں نے رکن پارلیمنٹ سیاح ریزان جوہان کے ایک سوال کے جواب میں دی، جس میں پوچھا گیا تھا کہ حکومت سوشل میڈیا کمپنیوں کو عمر کی تصدیق کے قوانین پر عمل درآمد کا پابند بنانے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں کیا سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
وزیر مواصلات نے مزید بتایا کہ ایم سی ایم سی کے پاس صرف مالی جرمانے عائد کرنے کا اختیار ہی نہیں بلکہ وہ براہ راست ہدایات جاری کرنے کا بھی مجاز ہے۔ ایکٹ 866 کی دفعہ 30 کے مطابق کمیشن تحریری احکامات جاری کر سکتا ہے تاکہ پلیٹ فارمز قانون کے تقاضوں پر عمل کریں۔
اگر کوئی کمپنی ان ہدایات پر عمل نہ کرے تو یہ ایک الگ جرم تصور ہوگا۔ ایسی صورت میں عدالت سے سزا ہونے پر متعلقہ ادارے کو 10 لاکھ رنگٹ تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ اگر خلاف ورزی سزا کے بعد بھی جاری رہے تو ہر اضافی دن کے لیے ایک لاکھ رنگٹ تک یومیہ جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔
حکومت کی جانب سے عمر کی تصدیق کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ کئی ماہ سے مشاورت کا عمل بھی جاری ہے۔ فہمی فاضل کے مطابق جنوری 2026 سے ایک ریگولیٹری سینڈ باکس پروگرام کے تحت مختلف پلیٹ فارمز کے ساتھ بات چیت کی جا رہی ہے تاکہ مناسب اور قابل عمل عمر کی تصدیقی نظام وضع کیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک 30 سے زائد اجلاس اور مشاورتی نشستیں منعقد کی جا چکی ہیں، جن میں بعض پلیٹ فارمز کے ساتھ اجتماعی جبکہ بعض کے ساتھ انفرادی سطح پر گفتگو کی گئی۔ ان کے مطابق ہر پلیٹ فارم کے کاروباری ماڈل اور تکنیکی چیلنجز مختلف ہیں، تاہم بچوں اور نوجوانوں کے تحفظ کے حوالے سے عمر کی تصدیق کا اصول عالمی سطح پر تیزی سے اپنایا جا رہا ہے۔
وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملائیشیا کا یہ اقدام کوئی منفرد پالیسی نہیں بلکہ دنیا کے 25 سے زائد ممالک پہلے ہی اسی نوعیت کے قوانین یا ضوابط نافذ کر چکے ہیں۔ ان ممالک میں سوشل میڈیا اور آن لائن سروسز کو صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے مختلف طریقہ کار اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ کم عمر افراد کو نقصان دہ یا نامناسب مواد تک رسائی سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق عمر کی تصدیق کے قوانین کا بنیادی مقصد بچوں اور نوجوانوں کو آن لائن خطرات، نامناسب مواد، سائبر جرائم اور دیگر ڈیجیٹل خطرات سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ تاہم اس عمل میں صارفین کی رازداری اور ڈیٹا کے تحفظ جیسے مسائل بھی زیر بحث رہتے ہیں، جن پر حکومت اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان مسلسل مشاورت جاری ہے۔

COMMENTS