کوالالمپور: ایک نئی تحقیقی رپورٹ کے مطابق ملائیشیا میں سال 2026 کے دوسرے نصف کے دوران سیاحت کے شعبے میں دوبارہ تیزی آنے کی توقع ہے۔ پیش گوئ...
کوالالمپور: ایک نئی تحقیقی رپورٹ کے مطابق ملائیشیا میں سال 2026 کے دوسرے نصف کے دوران سیاحت کے شعبے میں دوبارہ تیزی آنے کی توقع ہے۔ پیش گوئی کی گئی ہے کہ سال کے اختتام تک بین الاقوامی سیاحوں کی تعداد نہ صرف گزشتہ سال سے زیادہ ہوگی بلکہ کووڈ-19 وبا سے پہلے کے ریکارڈ کو بھی عبور کر سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تحقیقی ادارے بی ایم آئی، جو فچ سولوشنز کا حصہ ہے، نے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے دوران ملائیشیا میں تقریباً 2 کروڑ 79 لاکھ 70 ہزار (27.97 ملین) بین الاقوامی سیاح آئیں گے۔ یہ تعداد 2025 کے مقابلے میں 5.1 فیصد زیادہ جبکہ 2019، یعنی وبا سے پہلے کے سال، کے مقابلے میں 7.2 فیصد زائد ہوگی۔
اگرچہ سال کے ابتدائی مہینوں میں سیاحوں کی آمد میں کچھ سست روی دیکھی گئی، تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کمی مستقل نوعیت کی نہیں بلکہ عارضی عوامل کا نتیجہ ہے۔ مئی 2026 کے دوران ملائیشیا آنے والے بین الاقوامی سیاحوں کی تعداد تقریباً 26 لاکھ رہی، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 3.3 فیصد کم تھی۔ یہ 2026 میں مسلسل تیسرا مہینہ تھا جس میں سال بہ سال کمی ریکارڈ کی گئی۔
سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران مجموعی طور پر 1 کروڑ 6 لاکھ (10.6 ملین) بین الاقوامی سیاح ملائیشیا پہنچے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 1.1 فیصد زیادہ ہیں۔ بی ایم آئی کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سیاحت کی مجموعی بحالی کا عمل جاری ہے، اگرچہ بعض بیرونی عوامل نے وقتی طور پر رفتار کو متاثر کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تنازع کے باعث فضائی سفر متاثر ہوا، جس کے نتیجے میں ہزاروں پروازیں منسوخ ہوئیں، فضائی کرایوں میں اضافہ ہوا اور طویل فاصلے کے سفر کی طلب میں کمی دیکھی گئی۔ اسی وجہ سے یورپ اور مشرق وسطیٰ سے آنے والے سیاحوں کی تعداد پر بھی اثر پڑا۔
بی ایم آئی کے مطابق مشرق وسطیٰ سے آنے والے سیاح ملائیشیا کی مجموعی بین الاقوامی آمد کا تقریباً 0.4 فیصد بنتے ہیں، تاہم خطے میں فضائی آپریشن متاثر ہونے کی وجہ سے دبئی، دوحہ اور ابوظبی جیسے بڑے ٹرانزٹ مراکز بھی متاثر ہوئے، جس کا اثر یورپ سمیت دیگر طویل فاصلے کی مارکیٹوں پر بھی پڑا۔
دوسری جانب چین سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق 2026 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران چین سے آنے والے سیاحوں کی تعداد 18 لاکھ 70 ہزار (1.87 ملین) رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ ہے۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ چینی شہریوں کے لیے ملائیشیا کی ویزا فری پالیسی اور "وزٹ ملائیشیا 2026" مہم کے تحت بہتر فضائی رابطے قرار دیے گئے ہیں۔
بی ایم آئی کا کہنا ہے کہ حکومت کی سیاحت کے فروغ کے لیے جاری کوششیں اور چین سے مسلسل بڑھتی ہوئی آمد اس بات کا اشارہ ہیں کہ سیاحت کے شعبے کی بنیادی بحالی برقرار ہے، اگرچہ کچھ عرصے کے لیے رفتار میں کمی ضرور آئی۔
رپورٹ میں مزید پیش گوئی کی گئی ہے کہ جون سے اگست کے درمیان سیاحوں کی آمد میں دوبارہ اضافہ ہوگا، جبکہ دسمبر میں روایتی تعطیلاتی موسم کے باعث ایک اور نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ اگر فضائی کرایے معمول پر آتے ہیں اور پروازوں کے شیڈول بہتر ہوتے ہیں تو سال کے باقی حصے میں سیاحت مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔
تاہم بی ایم آئی نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید بگڑتی ہے یا یورپ سے آنے والے سیاحوں کی تعداد توقع سے زیادہ کم ہوتی ہے تو اس پیش گوئی پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اس لیے آنے والے مہینوں میں عالمی حالات اور فضائی سفر کی صورتحال سیاحت کے شعبے کے لیے اہم کردار ادا کرے گی۔

COMMENTS