ایپوہ: ملائیشیا کی وزارت سیاحت، فنون اور ثقافت نے ملکی سیاحت کے شعبے کو مزید مستحکم بنانے کے لیے نئی حکمت عملی اختیار کر لی ہے، جس کے تحت...
ایپوہ: ملائیشیا کی وزارت سیاحت، فنون اور ثقافت نے ملکی سیاحت کے شعبے کو مزید مستحکم بنانے کے لیے نئی حکمت عملی اختیار کر لی ہے، جس کے تحت چین، انڈونیشیا، جاپان اور بھارت جیسے مضبوط اور مستحکم سیاحتی ذرائع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ روس، جرمنی اور آسٹریلیا جیسے دور دراز ممالک کو بھی ترجیحی منڈیوں میں شامل کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کے ذرائع کو مزید متنوع بنایا جا سکے۔
وزارت کے نائب وزیر چیو چون مان نے کہا کہ سیاحت ملائیشیا کی معیشت کا ایک اہم شعبہ ہے، اسی لیے وزارت مختلف ممالک سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ برقرار رکھنے کے لیے اپنی مارکیٹنگ حکمت عملی کو مزید مؤثر بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے سیاحتی صنعت سے وابستہ اداروں اور نجی شعبے کے ساتھ قریبی تعاون بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ آپریشنل مسائل اور بڑھتی ہوئی لاگت جیسے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ سال 2026 کے ابتدائی پانچ ماہ کے دوران ملائیشیا میں مجموعی طور پر 1 کروڑ 75 لاکھ (17.5 ملین) بین الاقوامی سیاح آئے، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد 1 کروڑ 69 لاکھ (16.9 ملین) تھی۔ اس طرح سیاحوں کی آمد میں 3.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ ملک کی سیاحتی صنعت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
چیو چون مان نے یہ باتیں ایپوہ میں منعقد ہونے والے فیسٹیول بودایا ملائیشیا 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ تقریب میں ریاست پیراک کے وزیر اعلیٰ داتوک سری ساعرانی محمد اور وزارت سیاحت، فنون اور ثقافت کے سیکریٹری جنرل داتوک شہرالدین ابو سوہوت سمیت مختلف سرکاری شخصیات بھی موجود تھیں۔
انہوں نے کہا کہ وزارت کی کوشش ہے کہ فنون اور ثقافت کو ملائیشیا کی عالمی شناخت کا اہم حصہ بنایا جائے، خصوصاً وزٹ ملائیشیا 2026 مہم کے دوران۔ ان کے مطابق ثقافتی ورثہ صرف ماضی کی یادگار نہیں بلکہ ایک ایسا معاشی ذریعہ بھی بن سکتا ہے جو مقامی برادریوں کو فائدہ پہنچانے کے ساتھ ملک کی شناخت کو بھی عالمی سطح پر اجاگر کرے۔
نائب وزیر نے وضاحت کی کہ جب مقامی ثقافتی عناصر جیسے ڈابس رقص، لابو سایونگ دستکاری، سنہری دھاگے کی کڑھائی اور ایپوہ کی منفرد غذائی ثقافت کو فروغ دیا جاتا ہے تو اس سے ایک ایسا سیاحتی منصوبہ تیار ہوتا ہے جو طویل مدت تک معاشی فوائد فراہم کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد ایک طرف قومی ثقافت کا تحفظ کرنا اور دوسری جانب تخلیقی صنعت کے ذریعے مقامی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر سیاحت اور ثقافت کے اس فروغ کو مسلسل جاری رکھنا ہے تو بنیادی ڈھانچے کی ترقی ناگزیر ہے۔ اسی مقصد کے تحت وفاقی حکومت نے 13ویں ملائیشیا پلان کے تحت ریاست پیراک میں وزارت سیاحت کے ذریعے 44,189,100 رنگٹ مختص کیے ہیں۔
یہ فنڈ 13 مختلف منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا، جن میں 6 بڑے ترقیاتی منصوبے اور 7 منصوبے سیاحتی سہولیات کی مرمت اور بہتری کے لیے شامل ہیں۔ مرمت اور اپ گریڈیشن کے منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 13 لاکھ 93 ہزار رنگٹ مختص کیے گئے ہیں۔
اہم ترقیاتی منصوبوں میں ٹیلک انتان کے تاریخی جھکے ہوئے مینار کا تحفظ، ملائیشین ہینڈی کرافٹ ڈویلپمنٹ کارپوریشن، پیراک برانچ کی عمارت کی اپ گریڈیشن، کنتا ریور واک کی بہتری، لوموت مینگروو ڈسکوری سینٹر کے انفارمیشن سینٹر کی تزئین و مرمت، تانجونگ مالیم میں برنام ریور فرنٹ کی ترقی اور سیلاما میں لاٹا پوتیہ ایکو ٹورازم منصوبے کی تعمیر شامل ہیں۔
یہ اقدامات حکومت کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کے ذریعے سیاحت، ثقافت اور مقامی ترقی کو ایک دوسرے سے جوڑ کر نہ صرف غیر ملکی سیاحوں کو متوجہ کرنا بلکہ مقامی معیشت کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کرنا مقصود ہے۔

COMMENTS