کوالالمپور: ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور اور اس کے اطراف کے علاقوں میں بڑھتے ہوئے رہائشی اور گھریلو اخراجات کے باعث متوسط آمدنی رکھنے ...
کوالالمپور: ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور اور اس کے اطراف کے علاقوں میں بڑھتے ہوئے رہائشی اور گھریلو اخراجات کے باعث متوسط آمدنی رکھنے والے خاندان بھی مالی دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک ملازمت پیشہ خاتون کی سوشل میڈیا پوسٹ نے شہری زندگی کے بڑھتے اخراجات اور بچوں کی پرورش سے وابستہ مالی چیلنجز پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم تھریڈز پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں خاتون نے بتایا کہ ان کی مجموعی ماہانہ آمدنی 8 ہزار 500 ہے، لیکن مختلف مالی ذمہ داریوں اور روزمرہ اخراجات کی ادائیگی کے بعد وہ خود کو "بمشکل گزارا کرنے" کی صورتحال میں محسوس کرتی ہیں۔
خاتون کے مطابق ان کی آمدنی کا تقریباً 3 ہزار رنگٹ گھر اور گاڑی کے قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ تین سالہ بچے کی فل ٹائم ڈے کیئر سروس پر ماہانہ 2 ہزار رنگٹ خرچ ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کریڈٹ کارڈ کی ادائیگی، دیگر قرضوں، انشورنس اور متفرق بلوں کی مد میں تقریباً 15 سو رنگٹ خرچ ہوتے ہیں۔ دوسری جانب ٹول ٹیکس، ایندھن اور پارکنگ کے اخراجات تقریباً 8 سو رنگٹ ماہانہ تک پہنچ جاتے ہیں۔
ان تمام لازمی اخراجات کی ادائیگی کے بعد ان کے پاس صرف 1 ہزار سے 15 سو رنگٹ تک رقم باقی رہ جاتی ہے، جس سے خوراک، ہفتہ وار تفریحی سرگرمیوں اور ہنگامی ضروریات کو پورا کرنا پڑتا ہے۔ خاتون نے لکھا کہ ایسی صورتحال میں والدین کو مالی مدد دینا یا باقاعدہ بچت کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
پوسٹ پر متعدد صارفین نے مشورہ دیا کہ کم قیمت ڈے کیئر سینٹر تلاش کیا جائے، تاہم خاتون نے وضاحت کی کہ انہوں نے پہلے ہی نسبتاً سستے مراکز کی تلاش کی تھی۔ ان کے مطابق زیادہ تر کم لاگت والے مراکز شام پانچ یا چھ بجے بند ہو جاتے ہیں اور دیر سے بچے لینے پر اضافی جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ مونٹ کیارا میں کام کرتی ہیں جبکہ ان کی رہائش پُچونگ کے علاقے میں ہے۔ ٹریفک اور سفر کے وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ شام ساڑھے سات بجے سے پہلے ڈے کیئر نہیں پہنچ سکتیں۔ اسی وجہ سے موجودہ مرکز ان کے لیے واحد قابلِ عمل آپشن ہے کیونکہ یہ رات آٹھ بجے تک کھلا رہتا ہے۔
بعض سوشل میڈیا صارفین نے گھر اور گاڑی کے قرضوں پر ہونے والے 3 ہزار رنگٹ ماہانہ خرچ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس پر خاتون نے وضاحت کی کہ اس رقم میں عمارت کے مینجمنٹ چارجز بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق گھر کی قیمت تقریباً 3 لاکھ رنگٹ جبکہ گاڑی کی قیمت 90 ہزار رنگٹ کے قریب ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ مالی ذمہ داریاں اس وقت لی گئی تھیں جب ان کے ہاں بچہ نہیں تھا۔ اب وہ رواں سال گاڑی کا قرض مکمل طور پر ادا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں اور نئی گاڑی خریدنے کے بجائے موجودہ گاڑی ہی استعمال کرتی رہیں گی۔
اس پوسٹ پر عوامی ردعمل مختلف رہا۔ کچھ افراد نے اخراجات کم کرنے اور مالی منصوبہ بندی بہتر بنانے کے مشورے دیے، جبکہ بعض صارفین کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے کے بجائے شہری زندگی کے حقیقی اخراجات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ یہ ضروری نہیں کہ خاتون اپنی استطاعت سے زیادہ خرچ کر رہی ہوں، بلکہ یہ صورتحال بڑے شہروں میں زندگی گزارنے کی بڑھتی ہوئی لاگت کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق معیارِ زندگی برقرار رکھنے کے لیے خاندانوں کو متعدد مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کچھ دیگر والدین نے بھی اپنی مماثل صورتحال بیان کی۔ ایک خاتون نے بتایا کہ تقریباً 10 ہزار رنگٹ ماہانہ آمدنی کے باوجود دو بچوں کی پرورش اور گھریلو اخراجات کے بعد مالی دباؤ برقرار رہتا ہے۔
یہ بحث اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ بظاہر مناسب نظر آنے والی آمدنی بھی بڑے شہروں میں رہائش، بچوں کی نگہداشت، ٹرانسپورٹ اور قرضوں جیسے مستقل اخراجات کی وجہ سے محدود محسوس ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر کام کرنے والے والدین کے لیے بچوں کی دیکھ بھال اور روزمرہ ضروریات کے اخراجات بجٹ پر نمایاں اثر ڈالتے ہیں۔
معاشی ماہرین بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شہری علاقوں میں زندگی گزارنے کی لاگت میں مسلسل اضافہ خاندانوں کی مالی منصوبہ بندی کو متاثر کر رہا ہے، جس کے باعث متوسط آمدنی والے گھرانے بھی بچت اور طویل مدتی مالی اہداف کے حصول میں مشکلات محسوس کر سکتے ہیں۔

COMMENTS