کوالالمپور: ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں امیگریشن حکام نے ایک کارروائی کے دوران میانمار کے 19 سالہ نوجوان کو مبینہ طور پر جعلی ا...
کوالالمپور: ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں امیگریشن حکام نے ایک کارروائی کے دوران میانمار کے 19 سالہ نوجوان کو مبینہ طور پر جعلی اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کارڈ رکھنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔
حکام کے مطابق نوجوان کو "اوپ ساپو" نامی خصوصی امیگریشن آپریشن کے دوران جالان کلانگ لاما کے قریب واقع ایک غیرقانونی بستی سے حراست میں لیا گیا۔ جانچ پڑتال کے دوران اس کے قبضے سے ایک مشتبہ جعلی یو این ایچ سی آر کارڈ برآمد ہوا جس کے بارے میں ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ اسے ملک میں قیام اور نقل و حرکت کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
گرفتار نوجوان نے دورانِ تفتیش بتایا کہ اس نے تقریباً ایک سال قبل اپنے ایک دوست کو 200 رنگٹ ادا کرکے یہ کارڈ حاصل کیا تھا۔
نوجوان کے مطابق وہ دو سال قبل غیرقانونی راستوں کے ذریعے ملائیشیا میں داخل ہوا تھا۔ اس نے انکشاف کیا کہ ملک میں داخل ہونے کے بعد اس نے ریاست پیراک کے شہر ایپوہ میں سبزیوں کی ایک دکان پر کام کیا اور بعد میں روزگار کی تلاش میں کوالالمپور منتقل ہو گیا۔
امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی جانچ سے ظاہر ہوتا ہے کہ برآمد ہونے والا یو این ایچ سی آر کارڈ جعلی ہے۔ مزید تحقیقات کے لیے نوجوان کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ دستاویز کی مکمل فرانزک جانچ بھی کی جائے گی۔
اسی کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 78 غیرقانونی تارکین وطن کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار افراد میں 48 مرد اور 30 خواتین شامل ہیں، جن کا تعلق انڈونیشیا، میانمار اور بھارت سے بتایا گیا ہے۔
حکام کے مطابق آپریشن کا مقصد غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں، جعلی دستاویزات کے استعمال اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کرنا تھا۔ گرفتار افراد کے سفری اور قانونی دستاویزات کی مزید جانچ کی جا رہی ہے۔
ملائیشیا میں گزشتہ چند برسوں کے دوران جعلی یو این ایچ سی آر کارڈز کے استعمال کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ بعض غیرقانونی تارکین وطن ایسے کارڈز کے ذریعے گرفتاری سے بچنے یا اپنی رہائش کو قانونی ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے باعث امیگریشن حکام نے نگرانی اور دستاویزات کی تصدیق کا عمل مزید سخت کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی اسمگلنگ، غیرقانونی ہجرت اور جعلی دستاویزات کا مسئلہ جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی اداروں اور مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔

COMMENTS