سریمبن: ملائیشیا کے صوبے نیگیری سمبیلان میں محکمہ امیگریشن نے امیگریشن قوانین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے چار مقامی مالکان (آجران) کو گرفتار...
سریمبن: ملائیشیا کے صوبے نیگیری سمبیلان میں محکمہ امیگریشن نے امیگریشن قوانین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے چار مقامی مالکان (آجران) کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاریاں محکمہ امیگریشن نیگیری سمبیلان کے انفورسمنٹ ڈویژن کی جانب سے کی گئی کارروائیوں کے دوران عمل میں آئیں۔
محکمہ امیگریشن کے مطابق چاروں افراد کے بارے میں معقول شواہد کی بنیاد پر شبہ تھا کہ انہوں نے امیگریشن ایکٹ 1959/63 کے تحت قابلِ سزا جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ اس کے بعد متعلقہ حکام نے ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ گرفتار کیے گئے تمام مالکان کو بعد ازاں رائل ملائیشین پولیس (پی ڈی آر ایم) کی جانب سے ضمانت پر رہا کرنے کی اجازت دی گئی۔ بعد ازاں مقدمات کو محکمہ امیگریشن نیگیری سمبیلان کی جانب سے کمپاؤنڈ (جرمانہ) کے ذریعے نمٹا دیا گیا۔
حکام کے مطابق چاروں مالکان پر مجموعی طور پر 20,000 ملائیشین رنگٹ کا جرمانہ عائد کیا گیا، جو ملک میں نافذ امیگریشن قوانین اور ضوابط کے مطابق مقرر کیا گیا ہے۔
محکمہ امیگریشن نے واضح کیا کہ نیگیری سمبیلان میں امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی آجر یا کاروباری شخصیت کے ساتھ نرمی نہیں برتی جائے گی۔ ادارے کا کہنا ہے کہ غیر ملکی کارکنوں کی ملازمت اور امیگریشن ضوابط سے متعلق تمام معاملات میں قانون کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔
بیان کے مطابق ہر ایسی خلاف ورزی جس سے قومی سلامتی، عوامی مفاد یا امیگریشن نظام متاثر ہو، اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ محکمہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امیگریشن قوانین کے نفاذ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نگرانی اور کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
حکام نے مزید کہا کہ مالکان اور کاروباری اداروں کو چاہیے کہ وہ غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی اور ملازمت کے دوران تمام قانونی تقاضوں پر عمل کریں تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی یا جرمانے سے بچا جا سکے۔
یہ کارروائی اس وسیع حکومتی مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد غیر قانونی ملازمت، امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی اور غیر مجاز غیر ملکی کارکنوں کے استعمال کے خلاف مؤثر اقدامات کرنا ہے۔ محکمہ امیگریشن کا کہنا ہے کہ قانون کی عملداری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ایسی کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔

COMMENTS