اسلام آباد: پاکستان میں ہنرمند افراد کی بیرون ملک نقل مکانی میں مسلسل اضافہ ملکی معیشت کے لیے ایک اہم چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ تازہ رپورٹس ک...
اسلام آباد: پاکستان میں ہنرمند افراد کی بیرون ملک نقل مکانی میں مسلسل اضافہ ملکی معیشت کے لیے ایک اہم چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق صرف سال 2025 کے دوران تقریباً 8 لاکھ (800,000) ہنرمند افراد روزگار کے بہتر مواقع کی تلاش میں ملک چھوڑ گئے، جس سے مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں افرادی قوت کی کمی اور معاشی دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک چھوڑنے والوں میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 5 ہزار ڈاکٹر اور 11 ہزار انجینئرز بھی گزشتہ ایک سال کے دوران بیرون ملک منتقل ہوئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رجحان کے باعث صحت، انجینئرنگ، صنعت اور دیگر تکنیکی شعبوں میں مہارت رکھنے والے افراد کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑے پیمانے پر ہونے والی ہجرت سے پاکستان کو ہر سال تقریباً 4.2 ارب امریکی ڈالر کے معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق ہنرمند افرادی قوت کی کمی نہ صرف پیداواری صلاحیت پر اثر انداز ہوتی ہے بلکہ نئے منصوبوں، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کی رفتار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ رجحان گزشتہ دو برسوں کے دوران مزید تیز ہوا ہے۔ اندازوں کے مطابق 2024 اور 2025 کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 15 لاکھ (1.5 ملین) ہنرمند افراد پاکستان چھوڑ کر مختلف ممالک منتقل ہوئے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بیرون ملک ملازمتوں کی طلب اور مقامی سطح پر روزگار کے چیلنجز کے درمیان فرق مزید بڑھ رہا ہے۔
حکومتی حلقوں نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حکام کے مطابق ہنرمند افراد کے مسلسل انخلا کو روکنے اور مقامی سطح پر بہتر روزگار، پیشہ ورانہ ترقی اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے کسی نئی پالیسی یا عملی اقدامات کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں تربیت یافتہ اور تجربہ کار افرادی قوت بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اگر بڑی تعداد میں ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ماہرین اور دیگر پیشہ ور افراد بیرون ملک منتقل ہوتے رہیں تو مقامی اداروں، صنعتوں اور عوامی خدمات پر اس کے طویل المدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے وہ اس رجحان پر قابو پانے کے لیے مؤثر معاشی اور روزگار کی پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
پاکستان سے بیرون ملک ملازمت کے لیے جانے والے افراد کئی برسوں سے زرمبادلہ کی صورت میں ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جب اعلیٰ مہارت رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں مستقل طور پر ملک چھوڑتے ہیں تو اس کے مثبت اور منفی دونوں معاشی اثرات سامنے آتے ہیں۔ ایک جانب ترسیلات زر میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ دوسری جانب مقامی سطح پر مہارت رکھنے والے افراد کی کمی پیدا ہونے کا خدشہ بھی رہتا ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ہنرمند افراد کی بیرون ملک ہجرت صرف روزگار کا معاملہ نہیں بلکہ انسانی وسائل کے مؤثر استعمال، معاشی منصوبہ بندی اور طویل مدتی ترقی سے بھی جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر مقامی سطح پر بہتر مواقع، مسابقتی تنخواہیں اور پیشہ ورانہ ترقی کے امکانات پیدا کیے جائیں تو اس رجحان میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

COMMENTS