کوتا کنابالو: ملائیشیا کی ایک عدالت نے ایک پاکستانی شہری کو دو سال سے زائد عرصے تک مقررہ مدت سے زیادہ قیام کرنے کے جرم میں 10 ہزار رنگٹ ج...
کوتا کنابالو: ملائیشیا کی ایک عدالت نے ایک پاکستانی شہری کو دو سال سے زائد عرصے تک مقررہ مدت سے زیادہ قیام کرنے کے جرم میں 10 ہزار رنگٹ جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں 12 ماہ قید کی متبادل سزا بھی مقرر کی۔
رپورٹس کے مطابق 40 سالہ پاکستانی شہری مرسلین خان کو سیشن کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں انہوں نے اپنے خلاف عائد کیے گئے الزام کا اعتراف کیا۔ مقدمے کی سماعت سیشن کورٹ کے جج حرمان حسین نے کی۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزم پاکستانی پاسپورٹ کا حامل ہے اور اس کا اسپیشل پاس (Special Pass) 10 فروری 2024 کو ختم ہو گیا تھا۔ اس کے باوجود وہ ملائیشیا میں مقیم رہا اور مقررہ قانونی مدت ختم ہونے کے بعد مزید دو سال، تین ماہ اور 29 دن تک ملک میں موجود رہا۔
حکام کے مطابق یہ خلاف ورزی 8 جون 2026 کو صبح 11 بج کر 45 منٹ پر اس وقت سامنے آئی جب امیگریشن ڈیپارٹمنٹ صباح کے انفورسمنٹ ڈویژن کے اسپیشل ریفرنس اینڈ کمپاؤنڈ یونٹ کے دفتر میں اس کی دستاویزات کی جانچ کی گئی۔
استغاثہ کی جانب سے بتایا گیا کہ مرسالین خان کو امیگریشن حکام نے انفورسمنٹ ڈویژن کے سربراہ کی ہدایت پر حراست میں لیا تھا۔ بعد ازاں تحقیقات کے دوران یہ تصدیق ہوئی کہ ان کا قانونی قیام ختم ہو چکا تھا اور وہ مقررہ مدت سے کہیں زیادہ عرصے تک ملائیشیا میں مقیم رہے۔
یہ مقدمہ امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 15(1)(سی) کے تحت درج کیا گیا۔ اسی قانون کی دفعہ 15(4) کے مطابق اگر کوئی غیر ملکی مقررہ مدت سے زیادہ ملک میں قیام کرتا ہے تو اسے کم از کم 10 ہزار رنگٹ جرمانہ، پانچ سال تک قید یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
عدالت میں امیگریشن پراسیکیوٹر محمد خیرال بونا نے بتایا کہ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے اسپیشل ریفرنس اینڈ کمپاؤنڈ یونٹ کی جانب سے 11 جون 2026 کو جاری کردہ تصدیقی میمورنڈم نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ملزم کا اسپیشل پاس ختم ہونے کے بعد اس نے اپنے قیام کی قانونی حیثیت برقرار نہیں رکھی۔
عدالت نے جرمانہ عائد کرنے کے ساتھ ساتھ مرسالین خان کو مزید قانونی کارروائی کے لیے محکمہ امیگریشن کے حوالے کرنے کا بھی حکم دیا۔ بعد ازاں ملزم نے عدالت کی جانب سے مقرر کردہ 10 ہزار رنگٹ جرمانہ ادا کر دیا۔
ملائیشیا میں غیر ملکیوں کے لیے ویزا اور قیام کی شرائط پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ امیگریشن قوانین کے تحت کسی بھی غیر ملکی شہری کو اپنے ویزا، پاس یا اجازت نامے کی مدت ختم ہونے سے قبل قانونی حیثیت کی تجدید یا ملک چھوڑنے کی پابندی ہوتی ہے۔ مقررہ مدت سے زیادہ قیام کو امیگریشن قوانین کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے، جس پر جرمانے اور قید سمیت مختلف قانونی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
حالیہ برسوں میں ملائیشیا نے غیر قانونی تارکین وطن اور زائد المیعاد قیام کرنے والے افراد کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد امیگریشن قوانین پر مؤثر عمل درآمد اور ملکی سیکیورٹی و انتظامی نظام کو بہتر بنانا ہے۔

COMMENTS