ملائیشیا کے شہر سبانگ بستاری میں امیگریشن حکام نے ایک نجی کلینک پر کارروائی کرتے ہوئے پاکستانی شہری کو گرفتار کر لیا، جس پر الزام ہے کہ وہ ک...
ملائیشیا کے شہر سبانگ بستاری میں امیگریشن حکام نے ایک نجی کلینک پر کارروائی کرتے ہوئے پاکستانی شہری کو گرفتار کر لیا، جس پر الزام ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کی طبی اسناد استعمال کرکے خود کو ڈاکٹر ظاہر کر رہا تھا اور گزشتہ کئی ماہ سے غیر قانونی طور پر مریضوں کا علاج کر رہا تھا۔
رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی جمعرات کو تقریباً صبح 11:50 بجے ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن (جے آئی ایم) کے انٹیلی جنس اور اسپیشل آپریشنز ونگ نے کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے قبل تقریباً ایک ماہ تک خفیہ نگرانی اور معلومات اکٹھی کی گئی تھیں۔
محکمہ امیگریشن کے بیان کے مطابق گرفتار ہونے والا شخص پاکستان کا شہری ہے اور ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ اس کے پاس ملائیشیا میں قیام کے لیے کوئی قانونی پاس یا سفری دستاویز موجود نہیں تھی۔ اسی بنیاد پر اسے امیگریشن قوانین کے تحت حراست میں لیا گیا۔
کارروائی کے دوران حکام نے کلینک سے متعدد اشیا بھی قبضے میں لے لیں، جن میں ملزم کے نام کی مہریں، کلینک کی سرکاری مہریں، ایک ٹیبلٹ، مالی لین دین کا ریکارڈ، سالانہ طبی پریکٹس سرٹیفکیٹ سے متعلق دستاویزات اور کمپنی رجسٹریشن (ایس ایس ایم) کے کاغذات شامل ہیں۔ حکام ان دستاویزات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ انہیں کس طرح استعمال کیا جا رہا تھا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم گزشتہ آٹھ ماہ سے اسی نجی کلینک میں غیر قانونی طور پر طبی خدمات انجام دے رہا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ کلینک بھی مبینہ طور پر ایک ایسے غیر ملکی کے زیر انتظام تھا جسے ملائیشیا میں طبی شعبے میں کام کرنے کی قانونی اجازت حاصل نہیں تھی۔
محکمہ امیگریشن نے بتایا کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ مریضوں اور متعلقہ اداروں کو دھوکا دینے کے لیے کسی دوسرے رجسٹرڈ ڈاکٹر کی طبی اہلیت اور سالانہ پریکٹس سرٹیفکیٹ (اے پی سی) استعمال کیا جا رہا تھا تاکہ کلینک کو قانونی ظاہر کیا جا سکے۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ کلینک مبینہ طور پر مریضوں کا طبی معائنہ یا صحت کا جائزہ لیے بغیر بیماری کی رخصت (Medical Leave) کے سرٹیفکیٹ جاری کرتا تھا۔ حکام کے مطابق ہر سرٹیفکیٹ کے عوض تقریباً 20 ملائیشین رنگٹ وصول کیے جاتے تھے، جس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
محکمہ امیگریشن نے بتایا کہ پاکستانی شہری کو امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 6(1)(سی) کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک مقامی خاتون کو بھی تحقیقات میں تعاون کے لیے نوٹس جاری کیا گیا ہے تاکہ وہ متعلقہ دفتر میں پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرائے۔
حکام کے مطابق سال 2024 کے بعد سے یہ چوتھا ایسا کیس ہے جس میں کسی غیر ملکی پر خود کو ڈاکٹر ظاہر کرنے یا غیر قانونی طور پر طبی خدمات انجام دینے کا شبہ سامنے آیا ہے۔ محکمہ امیگریشن کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات عوامی صحت اور طبی نظام کے لیے اہم ہیں، اس لیے ان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
محکمہ امیگریشن نے اپنے بیان میں کہا کہ ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ عوامی مفاد، صحت کے شعبے کی ساکھ اور قانون کی بالادستی کو برقرار رکھا جا سکے۔

COMMENTS