کوالالمپور: ملائیشیا کی ریاست کلانتن میں روہنگیا برادری کے بعض افراد کی جانب سے مختلف اضلاع کے لیے سربراہان مقرر کرنے کا معاملہ سوشل میڈی...
کوالالمپور: ملائیشیا کی ریاست کلانتن میں روہنگیا برادری کے بعض افراد کی جانب سے مختلف اضلاع کے لیے سربراہان مقرر کرنے کا معاملہ سوشل میڈیا پر زیر بحث آ گیا ہے۔ فیس بک پر تقرری کے سرٹیفکیٹس کی تقسیم کی تصاویر وائرل ہونے کے بعد عوامی سطح پر مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ آیا ان تقرریوں کو کسی سرکاری ادارے یا مقامی حکام کی منظوری حاصل ہے یا نہیں۔
وائرل تصاویر میں روہنگیا برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو مختلف اضلاع کے نمائندہ یا سربراہ کے طور پر تقرری کے سرٹیفکیٹس دیے جاتے دکھایا گیا۔ تصاویر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے اس معاملے پر تبصرے کیے اور وضاحت کا مطالبہ کیا کہ آیا ایسی تقرریاں قانونی حیثیت رکھتی ہیں یا صرف ایک داخلی کمیونٹی اقدام ہیں۔
اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کلانتن کی مقامی حکومت، ہاؤسنگ، صحت اور ماحولیات کمیٹی کے چیئرمین ہلمی عبداللہ نے واضح کیا کہ ریاستی حکومت یا مقامی حکومتوں نے ایسی کسی تقرری کو نہ رجسٹر کیا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی سرکاری منظوری دی گئی ہے۔
ہلمی عبداللہ کے مطابق یہ اقدام روہنگیا برادری کے بعض افراد کی اپنی سطح پر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی تقرریاں حکومتی یا انتظامی نظام کا حصہ نہیں ہیں اور ان کا ریاستی حکام سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ "انہوں نے خود ہی اپنے طور پر یہ تقرریاں کر لی ہیں۔ یہ کچھ اس طرح ہے جیسے کوئی گروپ جنگل میں کیمپنگ کے لیے جاتے وقت اپنے طور پر ایک گروپ لیڈر منتخب کر لے۔"
تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر اس قسم کی سرگرمیوں کو بغیر نگرانی کے جاری رہنے دیا جائے تو مستقبل میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق خدشہ موجود ہے کہ ایسے غیر رسمی ڈھانچے وقت کے ساتھ کسی منظم گروہ کی شکل اختیار کر سکتے ہیں، جس سے انتظامی اور قانونی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں۔
کلانتن حکومت کے نمائندے نے مزید کہا کہ ملائیشیا میں کسی بھی قسم کی باضابطہ یا منظم عوامی اجتماع کے لیے ملکی قوانین پر عمل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ "پرامن اجتماع ایکٹ 2012" کے تحت کسی بھی باقاعدہ اجتماع یا پروگرام کے انعقاد سے قبل متعلقہ پولیس حکام کو اطلاع دینا لازمی ہے۔
ماہرین کے مطابق مختلف کمیونٹیز اکثر اپنے اندرونی معاملات کو منظم کرنے کے لیے نمائندے یا رابطہ کار مقرر کرتی ہیں، تاہم ایسے اقدامات کی قانونی حیثیت اور حدود کا تعین مقامی قوانین کے مطابق ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر نے عوامی دلچسپی پیدا کی اور کئی حلقوں نے اس کی مزید وضاحت طلب کی۔
وائرل تصاویر کے بعد متعدد افراد نے سوشل میڈیا پر مطالبہ کیا کہ متعلقہ حکام اس معاملے کا جائزہ لیں تاکہ یہ یقین دہانی کی جا سکے کہ کسی قسم کی قانونی خلاف ورزی نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی ایسا عمل جاری ہے جو عوامی تشویش یا بے چینی کا باعث بن سکتا ہو۔
اس معاملے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے کسی باضابطہ تحقیقات یا قانونی کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ تاہم عوامی دلچسپی کے باعث اس موضوع پر بحث جاری ہے اور مختلف حلقے مزید وضاحت کے منتظر ہیں۔
ملائیشیا میں روہنگیا برادری کے افراد کئی برسوں سے مقیم ہیں، جن میں سے بہت سے افراد اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ ان کی کمیونٹی کے اندر مختلف سماجی اور فلاحی سرگرمیاں بھی جاری رہتی ہیں، لیکن ان سرگرمیوں کی قانونی حیثیت ہمیشہ ملکی قوانین اور ضوابط کے تابع ہوتی ہے۔
حالیہ واقعہ نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ غیر سرکاری کمیونٹی سرگرمیوں اور سرکاری انتظامی اختیارات کے درمیان فرق کو واضح رکھنا ضروری ہے تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی یا قانونی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔

COMMENTS