پیٹالنگ جایا: ملائیشیا کے صوبہ سیلانگور کے محکمہ امیگریشن نے شاہ عالم میں ایک کارروائی کے دوران جعلی سفری دستاویزات اور جعلی سیکیورٹی اسٹ...
پیٹالنگ جایا: ملائیشیا کے صوبہ سیلانگور کے محکمہ امیگریشن نے شاہ عالم میں ایک کارروائی کے دوران جعلی سفری دستاویزات اور جعلی سیکیورٹی اسٹیمپس تیار کرنے والے ایک منظم گروہ کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق کارروائی "اوپ سرکاپ" کے تحت کی گئی، جس میں متعدد غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔
سیلانگور امیگریشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر (کنٹرول) خسائری کمارالدین کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ گروہ ایسے غیر ملکی افراد کو نشانہ بناتا تھا جو غیر قانونی طور پر ملائیشیا میں قیام کرنا چاہتے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گروہ منظم طریقے سے جعلی سفری ریکارڈ اور امیگریشن سے متعلق دستاویزات تیار کرتا تھا تاکہ متعلقہ اداروں کو دھوکہ دیا جا سکے۔
تحقیقات کے مطابق اس نیٹ ورک کے ذریعے غیر ملکی افراد کو پہلے کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ (کے ایل آئی اے) کے راستے ملک میں داخل کیا جاتا تھا۔ اس کے بعد انہیں فوری طور پر سیلانگور کے علاقے کلانگ میں واقع ایک عارضی رہائش گاہ منتقل کیا جاتا، جہاں ایک سے دو ہفتوں تک ان کے لیے جعلی دستاویزات تیار کیے جاتے تھے۔
محکمہ امیگریشن کے مطابق اس دوران جعلی سفری ریکارڈ، عارضی ملازمتی وزٹ پاس (پی ایل کے ایس) کے جعلی اسٹیکرز اور دیگر سرکاری نوعیت کی دستاویزات تیار کی جاتی تھیں تاکہ امیگریشن حکام کے سامنے قانونی حیثیت ظاہر کی جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں غیر قانونی تھیں اور ان کا مقصد سرکاری نظام کو دھوکہ دینا تھا۔
کارروائی کے دوران ایک بھارتی خاتون کو بھی گرفتار کیا گیا، جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس گروہ کی مرکزی کردار یا ماسٹر مائنڈ ہونے کا شبہ رکھتی ہے۔ خاتون کے پاس لانگ ٹرم سوشل وزٹ پاس (شریک حیات ویزا) موجود تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق وہ تقریباً گزشتہ تین برس سے اس غیر قانونی سرگرمی کو منظم انداز میں چلا رہی تھی۔
اس آپریشن کے دوران مجموعی طور پر 12 غیر ملکی افراد کو بھی حراست میں لیا گیا، جن میں بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے شہری شامل ہیں۔ گرفتار افراد کی عمریں 25 سے 40 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔ تمام افراد کو مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے امیگریشن ڈپو منتقل کر دیا گیا ہے۔
محکمہ امیگریشن کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا اس نیٹ ورک میں مزید مقامی یا غیر ملکی افراد بھی شامل تھے۔ حکام مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ پورے گروہ اور اس کے رابطوں کا سراغ لگایا جا سکے۔
ملائیشیا میں جعلی سفری دستاویزات اور امیگریشن فراڈ کے خلاف مختلف اوقات میں خصوصی آپریشن کیے جاتے رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اس قسم کے نیٹ ورک نہ صرف امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ ملکی سلامتی اور سرحدی نظام کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے ایسے جرائم کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ اس کیس میں مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آ سکتی ہیں اگر تحقیقات کے دوران نئے شواہد سامنے آئے۔ محکمہ امیگریشن نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو ایسی غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات ہوں تو متعلقہ اداروں کو آگاہ کریں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔

COMMENTS