کوالالمپور: ملائیشیا کے سوشل سکیورٹی ادارے نے ملک بھر کے آجروں (ایمپلائر) کے لیے جاری "اوپس پموتیہان" مہم کی مدت میں توسیع کرت...
کوالالمپور: ملائیشیا کے سوشل سکیورٹی ادارے نے ملک بھر کے آجروں (ایمپلائر) کے لیے جاری "اوپس پموتیہان" مہم کی مدت میں توسیع کرتے ہوئے نئی آخری تاریخ 30 جون 2026 مقرر کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ان کاروباری اداروں کو مزید وقت فراہم کرنا ہے جو اب تک اپنے ملازمین کی رجسٹریشن اور سوشل سکیورٹی کنٹریبیوشن جمع کرانے کے عمل کو مکمل نہیں کر سکے۔
ادارے کی جانب سے 24 جون کو جاری بیان کے مطابق توسیع شدہ مدت کے دوران آجر رضاکارانہ طور پر اپنے کاروبار اور ملازمین کو رجسٹر کرا سکتے ہیں اور ان کے خلاف فوری قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ملک میں سماجی تحفظ کے دائرہ کار کو مزید وسیع بنانے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ کارکنان سوشل سکیورٹی تحفظ سے مستفید ہو سکیں۔
سوشل سکیورٹی ادارے نے یاد دلایا کہ "وہائٹننگ منتھ" مہم کا آغاز 21 مئی 2026 کو کیا گیا تھا اور ابتدائی طور پر یہ پروگرام 22 جون تک جاری رہنا تھا۔ اس مہم کے تحت ایسے نئے آجر جو پہلے رجسٹر نہیں تھے، انہیں موقع دیا گیا کہ وہ اپنے ملازمین کی رجسٹریشن اور کنٹریبیوشن رضاکارانہ طور پر مکمل کریں اور قانونی کارروائی سے بچ سکیں۔
ادارے کے مطابق یکم جون 2026 سے نان ورک ریلیٹڈ ایکسیڈنٹ اسکیم میں بھی توسیع کی گئی ہے، جس کے تحت ملازمین کو کام سے غیر متعلق حادثات کی صورت میں 24 گھنٹے تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد کارکنوں کے سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
سوشل سکیورٹی ادارہ اس دوران آگاہی، تعلیم اور مشاورتی خدمات کو ترجیح دے رہا ہے تاکہ آجر اپنی قانونی ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔ ادارے کے مطابق قانونی کارروائی سے پہلے کاروباری اداروں کو مکمل رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ قوانین کی تعمیل کر سکیں۔
حکام نے بتایا کہ توسیع کا فیصلہ عیدالاضحیٰ، ویساک ڈے اور یانگ دی پرتوان اگونگ کی سالگرہ کے موقع پر ہونے والی سرکاری تعطیلات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔ اضافی وقت کا مقصد یہ ہے کہ آجر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے اور ملازمین کو سوشل سکیورٹی تحفظ فراہم کرنے کے لیے مناسب موقع حاصل کر سکیں۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق مہم کے آغاز سے اب تک 5,289 آجروں نے رجسٹریشن مکمل کی ہے۔ اس کے ساتھ 30,632 مقامی کارکنان اور 14,428 غیر ملکی کارکنان بھی رجسٹر کیے جا چکے ہیں، جو اس مہم میں کاروباری اداروں کی بڑھتی ہوئی شرکت کو ظاہر کرتا ہے۔
اسی مدت کے دوران ادارے نے 609 لیٹ کنٹریبیوشن انٹرسٹ نوٹسز کو بھی معاف کیا، جو ایکٹ 4 اور ایکٹ 800 کے تحت نئے آجروں کو جاری کیے گئے تھے۔ ان معاف شدہ نوٹسز کی مجموعی مالیت 33,630 رنگٹ بتائی گئی ہے۔
سوشل سکیورٹی ادارے کے گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر داتوک سری ڈاکٹر محمد اعظم عزیز محمد نے کہا کہ توسیع شدہ مدت اسسٹ 2.0 پورٹل کے نفاذ کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے دی گئی ہے۔ ان کے مطابق نئے پورٹل میں متعدد بہتریاں شامل کی جا رہی ہیں جن سے رجسٹریشن اور انتظامی عمل مزید آسان اور مؤثر ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ادارہ آئندہ بھی آجروں کو اسکیم کی شرائط، رجسٹریشن کے مراحل اور قانونی تقاضوں کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتا رہے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد نفاذی کارروائیاں مزید سخت کی جائیں گی۔
ان کے مطابق 30 جون 2026 کے بعد "اوپس کیسان" کو بھرپور انداز میں نافذ کیا جائے گا تاکہ تمام کاروباری ادارے موجودہ قوانین کی مکمل پابندی کریں۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ایسے آجر جو اپنے اہل ملازمین کو رجسٹر نہیں کریں گے یا ان کے لیے کنٹریبیوشن جمع نہیں کرائیں گے، ان کے خلاف کمپاؤنڈ، اضافی چارجز، جرمانے اور عدالتی کارروائی سمیت مختلف قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سماجی تحفظ کے نظام میں کارکنوں کی شمولیت نہ صرف ملازمین کے لیے اہم ہے بلکہ کاروباری اداروں کو بھی قانونی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکام تمام آجروں کو مقررہ مدت کے اندر رجسٹریشن مکمل کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔

COMMENTS