کوالالمپور: ملائیشیا کی معروف جامعہ یونیورسٹی ملايا (یو ایم) سے 3.5 سی جی پی اے کے ساتھ فارغ التحصیل ہونے والا ایک نوجوان گزشتہ تین ماہ س...
کوالالمپور: ملائیشیا کی معروف جامعہ یونیورسٹی ملايا (یو ایم) سے 3.5 سی جی پی اے کے ساتھ فارغ التحصیل ہونے والا ایک نوجوان گزشتہ تین ماہ سے مسلسل ملازمتوں کے لیے درخواستیں دینے کے باوجود اب تک روزگار حاصل کرنے میں ناکام ہے۔ اس کی کہانی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ہزاروں صارفین کی توجہ کا مرکز بن گئی، جہاں متعدد افراد نے اسے مشورے، حوصلہ افزائی اور ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کی پیشکش کی۔
مذکورہ گریجویٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم تھریڈز پر ایک گمنام پوسٹ کے ذریعے اپنی صورتحال بیان کی۔ اس نے لکھا کہ مارچ 2026 سے مختلف کمپنیوں اور اداروں میں متعدد ملازمتوں کے لیے درخواستیں جمع کروانے کے باوجود اسے تاحال کوئی مستقل ملازمت نہیں مل سکی۔
گریجویٹ کے مطابق ملازمت کی تلاش کا سفر توقع سے کہیں زیادہ مشکل ثابت ہوا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ مختلف کیریئر فیئرز اور روزگار میلوں میں شرکت کے باوجود خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوئے اور اسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ صرف "ونڈو شاپنگ" کر رہا ہو۔
یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی، جس کے بعد متعدد صارفین نے اپنے تجربات اور مشورے شیئر کیے۔ ایک تصدیق شدہ صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "سی جی پی اے صرف ایک نمبر ہے" اور ساتھ ہی ایک خالی آسامی کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے گریجویٹ سے اپنا سی وی بھیجنے کی درخواست کی۔
ایک اور صارف نے بتایا کہ اس نے بھی یونیورسٹی ملايا سے 3.4 سی جی پی اے کے ساتھ تعلیم مکمل کی تھی۔ اس کے مطابق پہلی ملازمت اس کے تعلیمی شعبے سے متعلق نہیں تھی اور ابتدائی تنخواہ صرف 2,700 رنگٹ ماہانہ تھی، تاہم اسی تجربے نے بعد میں بہتر مواقع فراہم کیے اور وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔
کئی دیگر صارفین نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی کارکردگی کے ساتھ ساتھ عملی مہارتیں، اعتماد، شخصیت اور انٹرویو میں کارکردگی بھی ملازمت کے حصول میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ بعض افراد نے گریجویٹ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے ریزیومے کا جائزہ لے اور ہر ملازمت کے مطابق درخواست کو مخصوص انداز میں تیار کرے۔
ایک صارف نے بتایا کہ جب اس نے اپنا ریزیومے تبدیل کرکے اسے زیادہ پیشہ ورانہ اور مخصوص بنایا تو اسے انٹرویوز کے لیے زیادہ کالز موصول ہونا شروع ہو گئیں۔ دیگر تبصرہ نگاروں نے بھی ریزیومے کی بہتری اور نیٹ ورکنگ کو ملازمت کی تلاش میں اہم عنصر قرار دیا۔
کچھ صارفین نے اپنی ذاتی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ کم سی جی پی اے کے باوجود وہ اپنے کیریئر میں کامیاب ہوئے۔ ایک شخص نے بتایا کہ اس کا سی جی پی اے صرف 2.76 تھا، لیکن گریجویشن کے تین ماہ بعد اسے ملازمت مل گئی اور آج وہ ایک ای کامرس کمپنی میں منیجر کے عہدے پر کام کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ روزگار کی مارکیٹ میں صرف تعلیمی نتائج کافی نہیں ہوتے۔ کمپنیاں امیدواروں کی کمیونیکیشن اسکلز، عملی تجربے، انٹرن شپ، غیر نصابی سرگرمیوں اور پیشہ ورانہ رویے کو بھی اہمیت دیتی ہیں۔ اسی وجہ سے کئی مرتبہ بہترین گریڈز رکھنے والے امیدواروں کو بھی فوری طور پر ملازمت نہیں مل پاتی۔
گمنام گریجویٹ نے بعد ازاں ایک تبصرے میں بتایا کہ بہت سے لوگ اس سے اس کے تعلیمی شعبے کے بارے میں پوچھ رہے تھے، تاہم اس نے یہ معلومات ظاہر کرنے سے گریز کیا کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ اس کی فیکلٹی کے دیگر افراد اسے پہچان سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ موجودہ روزگار کی مارکیٹ میں درپیش چیلنجز کو اجاگر کرتا ہے، جہاں بہت سے نوجوان گریجویٹس تعلیم مکمل کرنے کے باوجود مناسب مواقع کے انتظار میں ہیں۔ تاہم اس واقعے نے یہ بھی ثابت کیا کہ آن لائن کمیونٹیز بعض اوقات حوصلہ افزائی، رہنمائی اور مواقع فراہم کرنے میں مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں۔

COMMENTS