کوتا کینابالو: ملائیشیا کی ریاست صباح میں امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں 14 غیر ملکی شہریوں کو سیشن عدالت نے مختلف مدت کی قید او...
کوتا کینابالو: ملائیشیا کی ریاست صباح میں امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں 14 غیر ملکی شہریوں کو سیشن عدالت نے مختلف مدت کی قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی ہیں۔ تمام ملزمان نے عدالت میں اپنے خلاف عائد الزامات قبول کر لیے، جس کے بعد عدالت نے امیگریشن ایکٹ 1959/63 کے تحت فیصلے جاری کیے۔
عدالتی کارروائی کے مطابق سزا پانے والے افراد میں فلپائن، انڈونیشیا اور پاکستان کے شہری شامل ہیں۔ ان پر مختلف نوعیت کی امیگریشن خلاف ورزیوں کے الزامات تھے، جن میں مقررہ مدت سے زیادہ قیام اور بغیر قانونی سفری دستاویزات کے صباح میں داخل ہونا شامل ہے۔
عدالت میں پیش کیے گئے مقدمے کے مطابق دو افراد نے امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 15(1)(سی) کے تحت مقررہ مدت سے زیادہ صباح میں قیام کرنے کے جرم کا اعتراف کیا۔ ان میں شامل ایک پاکستانی شہری کو 10,000 رنگٹ جرمانہ کیا گیا، جبکہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں اسے 12 ماہ قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔
اسی مقدمے میں ایک انڈونیشی شہری کو عدالت نے 12 ماہ قید کی سزا سنائی، جس کا اطلاق گرفتاری کی تاریخ سے کیا گیا ہے۔
باقی 12 ملزمان نے امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 6(1)(سی) کے تحت بغیر کسی قانونی پاس یا اجازت نامے کے صباح میں داخل ہونے کا اعتراف کیا۔ عدالت نے ان میں سے سات افراد کو گرفتاری کی تاریخ سے چار ماہ قید کی سزا سنائی۔
دیگر پانچ افراد پر 4,000 رنگٹ جرمانہ عائد کیا گیا۔ اگر وہ جرمانہ ادا نہ کر سکیں تو انہیں چار ماہ قید کی سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی حکم دیا کہ تمام 14 غیر ملکی شہریوں کو اپنی سزا مکمل کرنے کے بعد مزید کارروائی کے لیے ملائیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ (جے آئی ایم) کے حوالے کیا جائے۔ محکمہ امیگریشن ملکی قوانین کے مطابق ان کے خلاف آئندہ انتظامی اقدامات، جن میں ممکنہ طور پر ملک بدری بھی شامل ہو سکتی ہے، عمل میں لائے گا۔
یہ تمام افراد کوتا کینابالو اور سپیٹنگ کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیے گئے تھے۔ ان کے خلاف مقدمات امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے تحت درج کیے گئے، جن کی سماعت کوٹا کینابالو کی سیشن عدالت میں ہوئی۔
استغاثہ کی نمائندگی پراسیکیوٹنگ آفیسر نورحیاتی عبدالحاری نے کی، جبکہ مقدمے کی سماعت جج ہرمن حسین نے کی۔ سماعت کے دوران تمام ملزمان نے الزامات تسلیم کیے، جس کے باعث عدالت نے دستیاب شواہد اور قانون کے مطابق سزاؤں کا اعلان کیا۔
ملائیشیا میں امیگریشن ایکٹ 1959/63 کے تحت غیر قانونی داخلہ، مقررہ مدت سے زیادہ قیام اور ویزا یا پاس کی شرائط کی خلاف ورزی قابل سزا جرائم ہیں۔ ان قوانین کا مقصد ملک میں غیر ملکی شہریوں کے داخلے، قیام اور ملازمت کے نظام کو قانونی دائرے میں رکھنا اور امیگریشن نظام کی شفافیت کو برقرار رکھنا ہے۔
حالیہ مہینوں میں ملائیشیا کے مختلف حصوں میں امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کے لیے نگرانی اور کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی داخلے اور ویزا کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیاں قانون کے مطابق جاری رہیں گی تاکہ ملکی امیگریشن نظام کو مؤثر اور منظم رکھا جا سکے۔

COMMENTS