ملائیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے ملک بھر میں ایک بڑے مشترکہ آپریشن "اوپ میگا" کے دوران مختلف امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں پر 5...
ملائیشیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے ملک بھر میں ایک بڑے مشترکہ آپریشن "اوپ میگا" کے دوران مختلف امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں پر 503 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔ یہ کارروائی پیر کے روز ملک کے مختلف حصوں میں بیک وقت 16 مقامات پر کی گئی، جہاں ایسے کاروباری مراکز کو نشانہ بنایا گیا جن پر غیر قانونی غیر ملکی کارکن رکھنے یا ورک پرمٹ کے غلط استعمال کا شبہ تھا۔
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل داتوک ذکریا شعبان نے بتایا کہ اس آپریشن کا مقصد ایسے آجروں اور اداروں کے خلاف کارروائی کرنا تھا جو غیر ملکی کارکنوں کو امیگریشن قوانین کے خلاف ملازمت دے رہے ہیں یا ملازمتی پاس کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صبح 11 بجے شروع ہونے والے اس آپریشن میں مختلف سرکاری اداروں کے 876 سے زائد اہلکاروں نے حصہ لیا۔ ان اداروں میں نیشنل رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ، وزارتِ ڈومیسٹک ٹریڈ اینڈ کاسٹ آف لیونگ، مقامی حکام اور رائل ملائیشین پولیس بھی شامل تھے۔
کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 2,260 افراد، جن میں غیر ملکی کارکن اور آجر شامل تھے، کی جانچ کی گئی۔ اس کے نتیجے میں 503 غیر ملکیوں کو مختلف امیگریشن جرائم کے شبے میں حراست میں لیا گیا، جبکہ 120 افراد کو بطور گواہ طلب کیا گیا۔ ان میں سرپرست، ملائیشین شہری اور متعلقہ آجر شامل ہیں، جنہیں بعد میں بیان ریکارڈ کرانے کے لیے سمن جاری کیے جائیں گے۔
داتوک ذکریا شعبان کے مطابق گرفتار افراد پر امیگریشن ایکٹ 1959/63 کے تحت مختلف خلاف ورزیوں کا شبہ ہے۔ ان میں درست سفری یا شناختی دستاویزات نہ ہونا، ویزا یا پاس کی شرائط کی خلاف ورزی، مقررہ مدت سے زیادہ قیام (اوورسٹے)، اور غیر تسلیم شدہ کارڈز کا استعمال شامل ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کارروائی کے دوران ایسے بعض افراد بھی حراست میں لیے گئے جن کے پاس اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے کارڈ موجود تھے۔ ان کارڈز کی تصدیق کے بعد اگر وہ اصلی ثابت ہوئے تو متعلقہ افراد کو یا تو رہا کیا جائے گا یا مزید کارروائی کے لیے اقوام متحدہ کے حوالے کیا جائے گا۔
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق سب سے زیادہ سامنے آنے والی خلاف ورزی اوورسٹے اور پاس کی شرائط کی خلاف ورزی تھی۔ بعض کارکن تعمیراتی شعبے کے لیے جاری کیے گئے ورک پاس پر دوسرے کاروباری مراکز، جیسے کپڑوں اور ٹیکسٹائل کی دکانوں میں کام کرتے ہوئے پائے گئے، جو قوانین کے خلاف ہے۔
ذکریا شعبان نے واضح کیا کہ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ ملک بھر میں ایسے علاقوں کی نشاندہی کرتا رہے گا جہاں غیر قانونی غیر ملکی کارکنوں کی موجودگی کا امکان ہو، اور وہاں مزید سخت کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کسی بھی ایسے شخص یا ادارے کو رعایت نہیں دے گی جو غیر قانونی طور پر افراد کو ملک میں رکھنے یا ملازمت دینے میں ملوث ہو۔
دوسری جانب، کوالالمپور امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے بھی رواں سال یکم جنوری سے 30 جون 2026 تک اپنی کارروائیوں کی تفصیلات جاری کیں۔ کوالالمپور کے امیگریشن ڈائریکٹر حمشہ انجاؤ کے مطابق اس عرصے میں 801 غیر ملکیوں کے خلاف مجموعی طور پر 845 مقدمات درج کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ 556 مقدمات امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی سیکشن 15(4) کے تحت اوورسٹے سے متعلق تھے۔ اسی مدت میں مختلف امیگریشن خلاف ورزیوں پر مجموعی طور پر 10.04 ملین ملائیشین رنگٹ کے کمپاؤنڈ بھی وصول کیے گئے۔
حمشہ انجاؤ نے کہا کہ امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی بغیر کسی رعایت کے جاری رہے گی۔ اس میں صرف غیر قانونی کارکن ہی نہیں بلکہ ایسے آجر، کاروباری ادارے اور وہ افراد بھی شامل ہیں جو غیر قانونی غیر ملکیوں کو پناہ دیتے یا ملازمت فراہم کرتے ہیں۔
ملائیشیا میں گزشتہ کچھ عرصے سے امیگریشن قوانین پر عمل درآمد مزید سخت کیا جا رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ملازمت، ویزا کی خلاف ورزی اور غیر مجاز قیام کے خلاف کارروائیاں ملکی قوانین پر عمل درآمد اور لیبر سسٹم کو منظم رکھنے کے لیے جاری رہیں گی۔

COMMENTS