بنگلہ دیش کے حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک غیر معمولی واقعہ اس وقت پیش آیا جب ملائیشیا جانے والی بیمان بنگلہ دیش ایئرلائنز کی پر...
بنگلہ دیش کے حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک غیر معمولی واقعہ اس وقت پیش آیا جب ملائیشیا جانے والی بیمان بنگلہ دیش ایئرلائنز کی پرواز کے 61 مسافروں نے بورڈنگ پاس حاصل کرنے کے باوجود طیارے میں سوار ہونے سے گریز کیا۔ اس کے نتیجے میں پرواز مجموعی طور پر 76 مسافروں کے بغیر اپنی منزل کی جانب روانہ ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق بی جی-386 پرواز کے لیے مجموعی طور پر 288 ٹکٹ فروخت کیے گئے تھے۔ تاہم روانگی کے وقت صرف 212 مسافر ہی طیارے میں سوار ہوئے، جبکہ باقی مسافر مختلف وجوہات کی بنا پر سفر نہ کر سکے۔
ایئرلائن ذرائع کے مطابق امیگریشن حکام نے 10 مسافروں کو روانگی کی اجازت نہیں دی، جبکہ مزید 5 افراد کو بورڈنگ گیٹ پر روک لیا گیا۔ اس کے علاوہ 61 مسافر ایسے تھے جنہوں نے چیک اِن مکمل کر کے بورڈنگ پاس حاصل کیا، لیکن بعد میں بورڈنگ گیٹ پر واپس نہیں آئے۔
پرواز ہفتہ کی شام تقریباً 8:30 بجے ڈھاکا سے ملائیشیا کے لیے روانہ ہوئی۔
اس معاملے پر تبصرہ حاصل کرنے کے لیے بیمان بنگلہ دیش ایئرلائنز کی ترجمان بوشرا اسلام سے متعدد مرتبہ رابطہ کیا گیا، تاہم انہوں نے نہ فون کالز کا جواب دیا اور نہ ہی بعد میں بھیجے گئے تحریری پیغام کا جواب دیا۔
امیگریشن پولیس کے ایک ذریعے نے دعویٰ کیا کہ یہ 76 مسافر ایک منظم گروہ کے ذریعے ملائیشیا جانے کی کوشش کر رہے تھے، جہاں ان کا مقصد ملازمت حاصل کرنا تھا۔ تاہم اس حوالے سے حکام کی جانب سے باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
عام طور پر بین الاقوامی سفر کے دوران مسافر پہلے ایئرلائن کے کاؤنٹر پر اپنا سامان جمع کروا کر بورڈنگ پاس حاصل کرتے ہیں۔ اس کے بعد امیگریشن کاؤنٹر پر پاسپورٹ اور ویزا کی جانچ کے بعد روانگی کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ آخری مرحلے میں مسافر بورڈنگ گیٹ سے طیارے میں سوار ہوتے ہیں۔
متعلقہ ذرائع کے مطابق امیگریشن حکام کے پاس جعلی ای ویزا کی شناخت کے لیے مخصوص طریقہ کار موجود ہے۔ تاہم بعض اوقات ایئرلائن کے چیک اِن کاؤنٹر پر پیش کیے گئے ویزوں کو ابتدائی طور پر درست سمجھتے ہوئے بورڈنگ پاس جاری کر دیا جاتا ہے۔ بعد ازاں مزید جانچ کے دوران اگر کوئی بے ضابطگی سامنے آئے تو متعلقہ مسافروں کو روک دیا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس واقعے میں بورڈنگ گیٹ پر موجود 5 مسافروں کے ای ویزا جعلی پائے گئے۔ اس کے بعد مزید جانچ شروع کی گئی، جس کے دوران صورتحال تبدیل ہوگئی۔
پولیس کی اسپیشل برانچ کے ایک افسر، جو ایئرپورٹ پر امیگریشن کی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں، نے بتایا کہ ابتدائی جانچ کے دوران بعض مسافروں کے پاسپورٹ اور ویزا کی معلومات میں تضاد پایا گیا، جس کی وجہ سے انہیں روک لیا گیا۔ ان کے مطابق جب دیگر مسافروں کو اس کارروائی کا علم ہوا تو وہ بورڈنگ گیٹ تک پہنچنے کے بجائے ایئرپورٹ سے چلے گئے۔
یہ واقعہ بین الاقوامی سفر کے دوران دستاویزات کی جانچ اور امیگریشن نظام کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ایئرپورٹ پر مختلف مراحل میں مسافروں کی شناخت، ویزا کی تصدیق اور سفری دستاویزات کی جانچ اس لیے کی جاتی ہے تاکہ صرف وہی افراد بیرون ملک سفر کریں جن کے تمام قانونی تقاضے مکمل ہوں۔
اگرچہ اس واقعے میں بعض مسافروں کے ویزوں میں بے ضابطگیوں کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم حکام کی جانب سے تاحال اس حوالے سے مکمل سرکاری تحقیقات یا حتمی رپورٹ جاری نہیں کی گئی۔ مزید معلومات سامنے آنے کے بعد ہی اس معاملے کی مکمل تصویر واضح ہو سکے گی۔

COMMENTS