ملائیشیا کے محکمۂ امیگریشن نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک پوسٹ کے بعد ایک بنگلہ دیشی شہری کو حراست میں لے لیا ہے۔ وائرل دعوے میں کہا ...
ملائیشیا کے محکمۂ امیگریشن نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک پوسٹ کے بعد ایک بنگلہ دیشی شہری کو حراست میں لے لیا ہے۔ وائرل دعوے میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ شخص کے پاس بنگلہ دیش اور ملائیشیا، دونوں ممالک کے پاسپورٹ موجود ہیں۔ حکام نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ دعوے کی حقیقت اور برآمد ہونے والی دستاویزات کی قانونی حیثیت کی تصدیق کی جا سکے۔
محکمۂ امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل داتوک ذکریا شعبان کے مطابق، واقعے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد پہانگ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ اور نیشنل رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے مشترکہ ٹاسک فورس تشکیل دی۔ اس ٹاسک فورس کا مقصد متعلقہ شخص کا سراغ لگانا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی جانچ کرنا تھا۔
حکام کے مطابق خفیہ معلومات کی بنیاد پر چھ امیگریشن افسران پر مشتمل ٹیم نے گزشتہ روز شام تقریباً ساڑھے چھ بجے کوانتان کے علاقے بندر دامنسارا میں ایک کنٹینر پر چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران ایک بنگلہ دیشی شہری کو وہاں سے گرفتار کیا گیا، جسے مزید تفتیش کے لیے کوانتان امیگریشن آفس منتقل کر دیا گیا۔
چھاپے کے دوران حکام نے دو ایسے ملائیشین بین الاقوامی پاسپورٹ بھی برآمد کیے جن کی مدت بالترتیب 25 اپریل 2017 اور 25 اکتوبر 2022 کو ختم ہو چکی تھی۔ اس کے علاوہ ایک ملائیشین شہری کی سمندری ملازمت سے متعلق سروس بک بھی برآمد ہوئی۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ دستاویزات اصل مالک سے کس طرح متعلقہ شخص کے قبضے میں آئیں۔
ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ تفتیش کا ایک اہم حصہ یہ معلوم کرنا ہے کہ دونوں پاسپورٹ اور سروس بک کے اصل مالک کون ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا زیرِ حراست شخص نے سفری دستاویزات کے غیر مجاز استعمال، ان کے قبضے یا دیگر متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔
حکام کے مطابق اس مرحلے پر کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ تمام شواہد اور دستاویزات کی قانونی جانچ جاری ہے۔ اسی لیے محکمۂ امیگریشن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ تحقیقات مکمل ہونے تک قیاس آرائیاں کرنے سے گریز کریں۔
ذکریا شعبان نے کہا کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی بھی قسم کی قانونی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو متعلقہ قوانین کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ امیگریشن اور رجسٹریشن سے متعلق دستاویزات کے غلط استعمال کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور ایسے معاملات میں مکمل قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملائیشیا میں سفری دستاویزات کے غلط استعمال اور شناخت سے متعلق معاملات پر نگرانی مزید سخت کی جا رہی ہے۔ ماضی میں بھی امیگریشن حکام مختلف کارروائیوں کے دوران جعلی یا غیر قانونی سفری دستاویزات سے متعلق کئی مقدمات کی تحقیقات کر چکے ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے سرحدی سیکیورٹی اور شناختی نظام کو مزید مؤثر بنانے پر کام کر رہے ہیں۔
اس تازہ کیس میں بھی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ صرف غیر مجاز دستاویزات رکھنے کا معاملہ ہے یا اس کے پیچھے کسی منظم سرگرمی یا دھوکہ دہی کا عنصر موجود ہے۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔

COMMENTS