ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے کلانگ ویلی میں غیر قانونی طور پر غیر ملکی کارکن فراہم کرنے والے ایک مبینہ گروہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایک...
ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے کلانگ ویلی میں غیر قانونی طور پر غیر ملکی کارکن فراہم کرنے والے ایک مبینہ گروہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایک بنگلہ دیشی شہری کو گرفتار کر لیا ہے، جو ملائیشین پرمننٹ ریزیڈنٹ کا درجہ رکھتا ہے۔ حکام کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ وہ بغیر سرکاری منظوری کے غیر ملکی کارکنوں کی سپلائی کا منظم نیٹ ورک چلا رہا تھا۔
محکمہ امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل داتوک زکریا شعبان نے ایک بیان میں بتایا کہ یہ گرفتاری 15 جولائی کو سمنیہ، سلانگور میں دو مختلف مقامات پر کیے گئے خصوصی آپریشن کے دوران عمل میں آئی۔ یہ کارروائی تقریباً ایک ماہ تک جاری رہنے والی انٹیلی جنس نگرانی کے بعد کی گئی۔
کارروائی کے دوران مرکزی ملزم کے علاوہ چھ دیگر غیر ملکی افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔ ان میں پانچ بنگلہ دیشی شہری اور ایک تھائی خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 27 سے 57 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق مرکزی ملزم ایک بنگلہ دیشی شہری ہے جس کے پاس ملائیشیا کا مائی پی آر (پرمننٹ ریزیڈنٹ) اسٹیٹس موجود ہے۔ گرفتار افراد میں شامل ایک بنگلہ دیشی کے پاس اسٹوڈنٹ پاس تھا، جبکہ تھائی خاتون ریستوران ملازم کے طور پر جاری کیا گیا عارضی ورک پاس رکھتی تھی۔ باقی افراد کے پاس ملائیشیا میں قانونی طور پر قیام کے لیے کوئی درست امیگریشن دستاویز یا سفری کاغذات موجود نہیں تھے۔
امیگریشن حکام نے کارروائی کے دوران 31 بنگلہ دیشی پاسپورٹس، ایک تھائی پاسپورٹ، مختلف کمپنیوں کی رجسٹریشن دستاویزات کی نقول اور 48,524 رنگٹ نقد رقم بھی قبضے میں لی۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ مرکزی ملزم مبینہ طور پر مقامی آجروں، خصوصاً کلانگ ویلی میں موجود کاروباری اداروں کو غیر ملکی کارکن فراہم کرتا تھا۔ حکام کے مطابق یہ سرگرمیاں ضروری سرکاری منظوری کے بغیر انجام دی جا رہی تھیں۔
محکمہ امیگریشن کے مطابق اس مبینہ گروہ نے اپنی سرگرمیوں کو حکام کی نظروں سے بچانے کے لیے مختلف کاروباری اداروں اور کھانے پینے کے مراکز کی آڑ استعمال کی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ گروہ ہر غیر ملکی کارکن کے امیگریشن پاس کے اجرا یا تجدید کے لیے 4,000 رنگٹ وصول کرتا تھا۔
مرکزی ملزم کے خلاف پاسپورٹ ایکٹ 1966 کی دفعہ 12(1)(ایف) اور امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 55بی کے تحت تحقیقات جاری ہیں۔ گرفتار بنگلہ دیشی طالب علم اور تھائی خاتون کے خلاف امیگریشن ریگولیشنز 1963 کے ریگولیشن 39(بی) کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ دیگر غیر ملکیوں کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 6(1)(سی) کے تحت تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
تمام ساتوں گرفتار افراد کو مزید قانونی کارروائی کے لیے پوتراجایا امیگریشن آفس منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حکام نے چار ملائیشین شہریوں اور ایک بنگلہ دیشی شہری کو بھی تحقیقات میں معاونت کے لیے نوٹس جاری کیے ہیں۔
داتوک زکریا شعبان نے کہا کہ محکمہ امیگریشن ملک بھر میں غیر قانونی امیگریشن سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرے گا۔ ان کے مطابق جو بھی شخص امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث پایا گیا، اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ عوامی نظم و نسق اور ملکی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ کارروائی ملائیشیا میں غیر قانونی غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی، سپلائی اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف جاری وسیع کریک ڈاؤن کا حصہ ہے، جس کے تحت حالیہ مہینوں میں متعدد کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔

COMMENTS