ملائیشیا میں ایک بنگلہ دیشی غیر ملکی کارکن کی سادہ مگر متاثر کن حرکت نے سوشل میڈیا پر لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ج...
ملائیشیا میں ایک بنگلہ دیشی غیر ملکی کارکن کی سادہ مگر متاثر کن حرکت نے سوشل میڈیا پر لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ایک ای ہیلنگ ڈرائیور نے اپنے مسافر کے ساتھ پیش آنے والا تجربہ شیئر کیا۔ ڈرائیور کے مطابق متعلقہ کارکن کو گزشتہ تین ماہ سے تنخواہ نہیں ملی تھی، لیکن اس کے باوجود اس نے سفر کے اختتام پر ڈرائیور کو پانچ رنگٹ بطور ٹپ دینے پر اصرار کیا۔
ڈرائیور، جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم تھریڈز پر
@abang_stereng
کے نام سے معروف ہے، نے بتایا کہ اس نے مسافر کو سبانگ بستاری سے اولڈ کلانگ روڈ تک پہنچایا۔ تقریباً چالیس منٹ کے اس سفر کے دوران مسافر کے پاس دو بڑے بیگ اور ایک ٹیبل فین تھا۔ ڈرائیور کے مطابق پورے راستے میں وہ زیادہ تر خاموش رہا اور گہری سوچ میں دکھائی دیتا تھا۔
سفر کے دوران جب ڈرائیور نے اس سے نئی منزل کے بارے میں پوچھا تو بنگلہ دیشی کارکن نے بتایا کہ اس کے آجر نے گزشتہ تین ماہ سے تنخواہ ادا نہیں کی اور بعد میں وہاں سے چلا گیا۔ آمدنی نہ ہونے اور رہائش کا بندوبست ختم ہونے کے باعث وہ عارضی طور پر اپنے ایک دوست کے گھر منتقل ہو رہا تھا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ قریبی کنڈومینیم کے تعمیراتی منصوبے پر ٹائل لگانے کا کام تلاش کرنے کی امید رکھتا ہے تاکہ دوبارہ روزگار حاصل کر سکے۔
ڈرائیور نے اس سے پوچھا کہ تین ماہ تک بغیر تنخواہ کے اس نے اپنی ضروریات کیسے پوری کیں۔ اس پر کارکن نے بتایا کہ اس عرصے میں اس کے دوستوں نے اس کی مدد کی۔ وہ ضرورت کے مطابق اس کے لیے انڈے اور دیگر بنیادی اشیائے خور و نوش خریدتے رہے، جن سے وہ اپنا گزارا کرتا رہا۔ ڈرائیور کے مطابق مالی مشکلات کے باوجود مسافر نے گفتگو کے دوران تحمل اور مثبت رویہ برقرار رکھا اور مسلسل مسکراتا رہا۔
سفر مکمل ہونے کے بعد ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ڈرائیور کو حیران کر دیا۔ جب کرایہ ادا کرنے کے بعد ڈرائیور نے پانچ رنگٹ واپس کرنے کی کوشش کی تو بنگلہ دیشی کارکن نے وہ رقم لینے سے انکار کر دیا۔ اس نے کہا کہ یہ رقم بطور ٹپ رکھ لیں۔ ساتھ ہی اس نے صرف اتنی درخواست کی کہ اس کے لیے دعا کی جائے تاکہ اس کے حالات بہتر ہو جائیں اور اسے دوبارہ مناسب روزگار مل سکے۔
ڈرائیور نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ وہ اس بات پر واقعی حیران تھا کہ ایک ایسا شخص جو خود تین ماہ سے تنخواہ نہ ملنے کی مشکل سے گزر رہا ہے، پھر بھی دوسروں کے لیے خیر خواہی کا جذبہ رکھتا ہے۔ اس کے مطابق یہ لمحہ اس کے لیے غیر معمولی تھا کیونکہ مسافر نے اپنی مشکلات کے باوجود دوسروں کی قدر کی۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہوا اور متعدد صارفین نے اس پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کئی افراد نے کہا کہ مشکل حالات میں بھی مثبت سوچ اور دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ قابل احترام ہے۔ بعض صارفین نے اس موقع پر اس بات پر بھی زور دیا کہ غیر ملکی کارکنوں کو ان کی محنت کے مطابق بروقت تنخواہ ملنی چاہیے کیونکہ وہ اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے اپنے ملک سے دور آ کر کام کرتے ہیں۔
ملائیشیا میں مختلف شعبوں، خصوصاً تعمیرات، مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبے میں بڑی تعداد میں غیر ملکی کارکن کام کرتے ہیں۔ ایسے کارکن اکثر روزگار کے ذریعے اپنے خاندانوں کی مالی مدد کرتے ہیں۔ اس لیے بروقت تنخواہ کی ادائیگی نہ صرف ان کی روزمرہ زندگی بلکہ ان کے اہل خانہ کے لیے بھی اہم ہوتی ہے۔ اس خبر میں بیان کیا گیا واقعہ ایک ایسے کارکن کی ذاتی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے جس نے مالی مشکلات کے باوجود مثبت رویہ اختیار کیے رکھا۔

COMMENTS