ملائیشیا کے وزیرِ مواصلات داتوک فہمی فاضل نے واضح کیا ہے کہ یکم جولائی سے نافذ کی گئی بینکوں کے درمیان اے ٹی ایم سے رقم نکالنے پر 1 رنگٹ فیس...
ملائیشیا کے وزیرِ مواصلات داتوک فہمی فاضل نے واضح کیا ہے کہ یکم جولائی سے نافذ کی گئی بینکوں کے درمیان اے ٹی ایم سے رقم نکالنے پر 1 رنگٹ فیس کی معافی صرف ان اے ٹی ایمز پر لاگو ہوتی ہے جو براہِ راست بینکوں کی ملکیت اور انتظام میں ہیں۔ نجی یا آزاد کمپنیوں کے زیرِ انتظام چلنے والے اے ٹی ایمز اس سہولت میں شامل نہیں ہیں۔
وزیرِ مواصلات نے یہ وضاحت پوتراجایا میں کابینہ اجلاس کے بعد ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران کی۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر متعدد صارفین کی جانب سے اس نئی سہولت کے دائرہ کار کے بارے میں سوالات سامنے آئے تھے، جس کے بعد حکومت نے عوام کو واضح معلومات فراہم کرنا ضروری سمجھا۔
فہمی فاضل نے بتایا کہ ملک بھر میں موجود تقریباً 84 فیصد اے ٹی ایمز، یعنی لگ بھگ 16 ہزار مشینیں، بینکوں کی ملکیت ہیں۔ ان تمام مشینوں پر بینکوں کے درمیان نقد رقم نکالنے کی 1 رنگٹ فیس پہلے ہی ختم کر دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ باقی 16 فیصد اے ٹی ایمز نجی اور آزاد آپریٹرز چلاتے ہیں۔ یہ کمپنیاں بینکوں سے الگ تجارتی معاہدوں کے تحت اپنی خدمات فراہم کرتی ہیں، اس لیے ان کی مشینیں حکومت کی اعلان کردہ فیس معافی کی اسکیم میں شامل نہیں ہیں۔
وزیر کے مطابق عام صارفین آسانی سے یہ پہچان سکتے ہیں کہ کون سا اے ٹی ایم بینک کی ملکیت ہے اور کون سا نجی کمپنی کے زیرِ انتظام۔ انہوں نے کہا کہ بینک کے اپنے اے ٹی ایمز پر متعلقہ بینک کا لوگو نمایاں طور پر موجود ہوتا ہے، جبکہ آزاد آپریٹرز کے اے ٹی ایمز پر عموماً کسی بینک کا لوگو موجود نہیں ہوتا۔ یہی سب سے آسان طریقہ ہے جس کے ذریعے صارفین معلوم کر سکتے ہیں کہ آیا ان پر 1 رنگٹ فیس معاف ہوگی یا نہیں۔
فہمی فاضل نے مزید بتایا کہ اگر کسی صارف سے بینک کی ملکیت والے اے ٹی ایم پر رقم نکالتے وقت اب بھی 1 رنگٹ فیس وصول کی جائے تو وہ فوری طور پر بینک نگارا ملائیشیا میں شکایت درج کرائے۔ ان کے مطابق مرکزی بینک ایسی شکایات پر متعلقہ بینک کے خلاف ضروری کارروائی کرے گا تاکہ نئی پالیسی پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
یہ اقدام ملائیشیا کی بینکاری صنعت کی جانب سے گزشتہ ماہ کیے گئے مشترکہ اعلان کے بعد نافذ کیا گیا۔ اس اعلان کے تحت ملک کے تمام بینکوں کے صارفین کو یکم جولائی 2026 سے 14 ہزار سے زائد بینک آپریٹڈ اے ٹی ایمز اور اسمارٹ ری سائیکلر مشینوں سے بینکوں کے درمیان لامحدود مفت نقد رقم نکالنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
اس سہولت کا مقصد صارفین پر اضافی بینکاری اخراجات کم کرنا اور بینکنگ خدمات کو زیادہ آسان اور قابلِ رسائی بنانا ہے۔ اس کے ذریعے مختلف بینکوں کے صارفین کو کسی دوسرے بینک کے اے ٹی ایم سے رقم نکالتے وقت پہلے کی طرح 1 رنگٹ انٹربینک فیس ادا نہیں کرنا پڑے گی، بشرطیکہ وہ مشین متعلقہ بینک کی ملکیت ہو۔
یہ مشترکہ اقدام ایسوسی ایشن آف بینکس اِن ملائیشیا، ایسوسی ایشن آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانشل انسٹی ٹیوشنز ملائیشیا، ایسوسی ایشن آف ڈیولپمنٹ فنانس انسٹی ٹیوشنز ملائیشیا اور پیمنٹس نیٹ ورک ملائیشیا کی شراکت سے متعارف کرایا گیا ہے۔ ان اداروں کا مقصد ملک میں ڈیجیٹل اور روایتی بینکاری خدمات کو مزید مؤثر اور صارف دوست بنانا ہے۔
حکومت کی تازہ وضاحت کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ صارفین بینک اور نجی آپریٹرز کے اے ٹی ایمز کے درمیان فرق کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے اور غیر ضروری فیس سے بچنے کے لیے مناسب مشین کا انتخاب کریں گے۔

COMMENTS