ملائیشیا کے شمال مشرقی صوبے کیلانتن میں امیگریشن حکام نے سمندری پولیس کے تعاون سے ایک مشترکہ کارروائی کے دوران 13 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار ...
ملائیشیا کے شمال مشرقی صوبے کیلانتن میں امیگریشن حکام نے سمندری پولیس کے تعاون سے ایک مشترکہ کارروائی کے دوران 13 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کر لیا، جن میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہیں پہلے ہی ملائیشیا میں داخلے سے بلیک لسٹ کیا جا چکا تھا۔ حکام کے مطابق یہ افراد غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ملائیشیا کے ڈائریکٹر جنرل امیگریشن داتوک ذکریا شعبان نے بتایا کہ یہ کارروائی جمعرات کی صبح تقریباً 5:10 بجے کوٹا بھارو، کیلانٹن کے دو مختلف مقامات پر کی گئی۔ کارروائی کا مقصد غیر قانونی داخلے کی کوششوں کو روکنا اور سرحدی علاقوں میں امیگریشن قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے مقام پر، جو ایک بس ٹرمینل کے قریب واقع تھا، آٹھ بنگلہ دیشی مرد، تین انڈونیشی مرد اور ایک انڈونیشی خاتون کو گرفتار کیا گیا۔ دوسرے مقام پر، جو ایک رہائشی علاقے کے قریب تھا، میانمار سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو حراست میں لیا گیا۔
امیگریشن حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد کی عمریں 22 سے 55 سال کے درمیان ہیں۔ ابتدائی جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ ان میں سے کئی افراد پہلے ہی ملائیشیا میں داخلے کے لیے بلیک لسٹ کیے جا چکے تھے، اس کے باوجود وہ دوبارہ غیر قانونی طریقے سے ملک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
کارروائی کے دوران حکام نے چار بنگلہ دیشی پاسپورٹ، چار انڈونیشی پاسپورٹ اور ایک پروٹون پریو گاڑی بھی ضبط کی، جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اسے غیر ملکیوں کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق تمام 13 افراد پر امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 6(1)(سی) اور دفعہ 15(1)(سی) کے تحت مختلف امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کا شبہ ہے۔ مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے تمام افراد کو امیگریشن دفتر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ملائیشیا میں غیر قانونی داخلے اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف مختلف سرحدی علاقوں میں وقتاً فوقتاً مشترکہ آپریشن کیے جاتے ہیں۔ خاص طور پر کیلانتن کی سرحد کو حساس تصور کیا جاتا ہے، جہاں غیر قانونی آمد و رفت کی روک تھام کے لیے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ، سمندری پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ نگرانی کرتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے جدید انٹیلی جنس معلومات، مشترکہ کارروائیوں اور سخت قانونی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ غیر قانونی داخلے، انسانی اسمگلنگ اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کو روکا جا سکے۔

COMMENTS